سندھ ہائیکورٹ نے درآمدکنندگان کی آئینی درخواست نمٹادی

درخواست گزار دستاویزات کسٹم کو پیش کریں،حکام سامان سے متعلق جلد فیصلہ کریں، بینچ

درخواست گزار دستاویزات کسٹم کو پیش کریں،حکام سامان سے متعلق جلد فیصلہ کریں، بینچ۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

محکمہ کسٹم کے مطابق تاجروںکا ایک مخصوص گروپ درآمد شدہ سامان کے کاغذات میں رد وبدل کرکے وزن کم ظاہر کرتا ہے جس کی وجہ سے سرکاری خزانے کو ڈیوٹی کی وصولی کی مد میں بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

اس عمل میں ٹرمنل اور کسٹم کی کالی بھیڑیں بھی شامل ہیں۔یہ بات محکمہ کسٹم کے وکیل شکیل احمد نے سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عقیل عباسی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کو بتائی ، فاضل بینچ درآمد کنندگان کی 4مختلف آئینی درخواستوںکی ایک ساتھ سماعت کررہاتھا ، درخواست گزاروںکے مطابق کسٹم حکام نے کسی وجہ کے بغیر مشرق وسطی کے مختلف ممالک سے آنے والے ان کے سامان کو بندرگاہ پر روک لیا ہے اور اب اسے نیلام کیا جارہا ہے ، درخواستوں میں استدعا کی گئی تھی کہ کسٹم کو سامان کی نیلامی سے روک کر درخواست گزاروں کو واپس کرنے کا حکم دیا جائے۔


تاہم محکمہ کسٹم نے موقف اختیارکیا کہ گزشتہ کئی سالوں سے درآمد کنندگان کا ایک گروہ مشرق وسطی سے درآمد کیے گئے سامان کا وزن کم ظاہر کرتا ہے ، پاک شاہین ٹرمنل اور کسٹم کے کچھ اہلکاروںکی مدد سے درآمدی سامان کی دستاویزات میں رد وبدل بھی کیا جاتا ہے ،جب یہ صورتحال اعلی حکام کے سامنے آئی تو تفصیلی تحقیقات کرائی گئی جس کے نتیجے میں 264کیسز سامنے آئے جن میںدرخواست گزاروں کا سامان بھی شامل ہے۔

انہیں ہدایت کی گئی تھی کہ وہ سامان کے وزن سے متعلق دیگر دستاویزات بھی کسٹم حکام کو پیش کریں تاکہ درست صورتحال سامنے آسکے لیکن کئی ماہ گزرجانے کے باوجود انھوں نے دستاویزات پیش کیں نہ خود تحقیقات میں تعاون کے لیے پیش ہوئے ، اس لیے کسٹم نے ضابطے کی کارروائی مکمل کرتے ہوئے سامان نیلام کرنے کا فیصلہ کرلیا، فاضل بینچ نے فریقین کا موقف سننے کے بعد درخواست نمٹاتے ہوئے درخواست گزاروںکو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ دستاویزات کسٹم حکام کو پیش کریں اور کسٹم حکام قانون کے مطابق سامان سے متعلق جلد فیصلہ کریں۔

Recommended Stories

Load Next Story