اولیمپئنز کا پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاج رنگ لے آیا
حکومت نے ہاکی فیڈریشن کے دوبارہ انتخابات کرانے پر حامی بھر لی
قومی کھیل کی حالت زار دیکھ کر ان کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔سابق اولمپئن۔فوٹو:فائل
ہاکی اولمپئنز کا پارلیمنٹ ہائوس کے باہر احتجاج رنگ لے آیا، حکومت نے پی ایچ ایف کے دوبارہ انتخابات کرانے کی حامی بھرلی۔
وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ریاض حسین پیرزادہ کا کہنا ہے کہ کھیلوں کی تنظیمیں سوائے پیسے اور وقت کے ضیاع کے کچھ نہیں کررہیں، ہاکی فیڈریشن کو الیکشن کرانے سے روکا تھا مگر عہدیداروں نے ایک نہ سنی۔ تفصیلات کے مطابق ہاکی کے زوال، فیڈریشن کے مبینہ ڈمی الیکشن اور قومی جونیئرو سینئر ٹیم کی ناقص کارکردگی کیخلاف جمعرات کو سابق اسٹارزسمیع اﷲ، شہناز شیخ، محمد ثقلین، قمرضیا، سلیم ناظم اور دیگراولمپئنز نے پارلیمنٹ ہائوس کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا، میڈیا سے گفتگو میں ان سب کا مطالبہ تھا کہ قومی کھیل کی حالت زار دیکھ کر ان کا دل خون کے آنسو روتا ہے مگر اس شدید کرب کے عالم میں بھی کرسی سے چمٹے رہنے کے شوقین افراد نے ڈمی الیکشن کرالیے، جو کھیل کبھی پاکستان کی پہچان تھا اب ذمہ داران کی غفلت کے باعث اس کی حالت قابل رحم ہوگئی، موجودہ حالات دیکھے نہیں جاتے اسی لیے آج ملک کے سب سے بڑے ایوان کے سامنے بطور احتجاج کھڑے ہیں، ہمارا اعلیٰ حکام سے مطالبہ ہے کہ خدارا ہاکی کو مزید تباہی سے بچایا جائے، حالات بہت بُرے ہیں مگر اب بھی اتنی سکت ہے کہ ایک بار پھر اپنے پائوں پر کھڑے ہوسکیں۔
اولمپئن سمیع اﷲ نے قومی کھیل کے زوال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ داران لمبی تان کر سوئے ہوئے ہیں، ہاکی کی بہتری کیلیے صرف دعوئوں اور وعدوں کے سواکچھ نہیں ہورہا، فیڈریشن کے جعلی انتخابات کرائے گئے جو کسی صورت منظور نہیں ہیں، انھیں دوبارہ کرایا جائے،اگر ہماری بات نہ سنی گئی تو 15 دن بعد دوبارہ آ کر مطالبات کی منظور ی تک ایوان کے سامنے بیٹھے رہیں گے۔ شہناز شیخ نے کہاکہ میں پاکستان کی گمشدہ ہاکی کو واپس لانے اور اسے تباہی سے بچانے کیلیے آیا ہوں، انتخابات دوبارہ کرائے جائیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ محمد ثقلین نے کہا کہ ہمارے دورمیں ہاکی میں پاکستان کا ایک نام تھا، اب کھیل زوال کا شکار ہے، حالات درست نہ ہوئے تو ہم سپریم کورٹ بھی جائیں گے۔
بعدازاں وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ میاں ریاض حسین پیرزادہ نے اولمپئنزکو یقین دلایا کہ پی ایچ ایف کے انتخابات کا دوبارہ انعقاد ہوگا،انھوں نے کہا کہ ہمارے روکنے کے باوجود پی ایچ ایف کے الیکشن کرائے گئے،سابق اسٹارز کے گلے شکوے جائز ہیں، وہ پوری قوم کے جذبات کی ترجمانی کررہے ہیں، جلد وزیر اعظم سے ان کی ملاقات کروا کر پاکستان ہاکی کی بہتری کے لیے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ کھیلوں کی تنظیمیں پیسے کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں کررہی، بدقسمتی سے اب 21کروڑ کی آبادی والے ملک کے پاس کوئی بھی بڑا عالمی اعزاز نہیں ہے، ملکی کھیلوں کے حالات کے حوالے سے سمری وزیر اعظم کو بجھوا دی، جلد ایکشن لیا جائیگا۔
وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ریاض حسین پیرزادہ کا کہنا ہے کہ کھیلوں کی تنظیمیں سوائے پیسے اور وقت کے ضیاع کے کچھ نہیں کررہیں، ہاکی فیڈریشن کو الیکشن کرانے سے روکا تھا مگر عہدیداروں نے ایک نہ سنی۔ تفصیلات کے مطابق ہاکی کے زوال، فیڈریشن کے مبینہ ڈمی الیکشن اور قومی جونیئرو سینئر ٹیم کی ناقص کارکردگی کیخلاف جمعرات کو سابق اسٹارزسمیع اﷲ، شہناز شیخ، محمد ثقلین، قمرضیا، سلیم ناظم اور دیگراولمپئنز نے پارلیمنٹ ہائوس کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا، میڈیا سے گفتگو میں ان سب کا مطالبہ تھا کہ قومی کھیل کی حالت زار دیکھ کر ان کا دل خون کے آنسو روتا ہے مگر اس شدید کرب کے عالم میں بھی کرسی سے چمٹے رہنے کے شوقین افراد نے ڈمی الیکشن کرالیے، جو کھیل کبھی پاکستان کی پہچان تھا اب ذمہ داران کی غفلت کے باعث اس کی حالت قابل رحم ہوگئی، موجودہ حالات دیکھے نہیں جاتے اسی لیے آج ملک کے سب سے بڑے ایوان کے سامنے بطور احتجاج کھڑے ہیں، ہمارا اعلیٰ حکام سے مطالبہ ہے کہ خدارا ہاکی کو مزید تباہی سے بچایا جائے، حالات بہت بُرے ہیں مگر اب بھی اتنی سکت ہے کہ ایک بار پھر اپنے پائوں پر کھڑے ہوسکیں۔
اولمپئن سمیع اﷲ نے قومی کھیل کے زوال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ داران لمبی تان کر سوئے ہوئے ہیں، ہاکی کی بہتری کیلیے صرف دعوئوں اور وعدوں کے سواکچھ نہیں ہورہا، فیڈریشن کے جعلی انتخابات کرائے گئے جو کسی صورت منظور نہیں ہیں، انھیں دوبارہ کرایا جائے،اگر ہماری بات نہ سنی گئی تو 15 دن بعد دوبارہ آ کر مطالبات کی منظور ی تک ایوان کے سامنے بیٹھے رہیں گے۔ شہناز شیخ نے کہاکہ میں پاکستان کی گمشدہ ہاکی کو واپس لانے اور اسے تباہی سے بچانے کیلیے آیا ہوں، انتخابات دوبارہ کرائے جائیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ محمد ثقلین نے کہا کہ ہمارے دورمیں ہاکی میں پاکستان کا ایک نام تھا، اب کھیل زوال کا شکار ہے، حالات درست نہ ہوئے تو ہم سپریم کورٹ بھی جائیں گے۔
بعدازاں وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ میاں ریاض حسین پیرزادہ نے اولمپئنزکو یقین دلایا کہ پی ایچ ایف کے انتخابات کا دوبارہ انعقاد ہوگا،انھوں نے کہا کہ ہمارے روکنے کے باوجود پی ایچ ایف کے الیکشن کرائے گئے،سابق اسٹارز کے گلے شکوے جائز ہیں، وہ پوری قوم کے جذبات کی ترجمانی کررہے ہیں، جلد وزیر اعظم سے ان کی ملاقات کروا کر پاکستان ہاکی کی بہتری کے لیے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ کھیلوں کی تنظیمیں پیسے کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں کررہی، بدقسمتی سے اب 21کروڑ کی آبادی والے ملک کے پاس کوئی بھی بڑا عالمی اعزاز نہیں ہے، ملکی کھیلوں کے حالات کے حوالے سے سمری وزیر اعظم کو بجھوا دی، جلد ایکشن لیا جائیگا۔