غربت مہنگائی اور پالیسی میکنگ
حکومت کو معاشی سرگرمیوں میں چیک اینڈ بیلنس کو سخت گیر نہیں، حقیقت پسندانہ بنانا ہوگا۔
حکومت کو معاشی سرگرمیوں میں چیک اینڈ بیلنس کو سخت گیر نہیں، حقیقت پسندانہ بنانا ہوگا۔ فوٹو : فائل
BHAG:
معیشت کو داخلی اور عالمی مسائل کا سامنا ہے، کورونا کی دوسری لہر کے چیلنجز نے عالمی سطح پر نوع انسانی کو نفسیاتی اور معاشی بحران میں ڈال دیا ہے، پھر سے حکومت کے لیے اقتصادی معاملات، صحت انفرااسٹرکچر، دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ اور ضروری اشیاء کی ملک گیر دستیابی کو یقینی بنانے سمیت کرپشن اور مہنگائی کی روک تھام کے لیے پالیسی میکنگ کے سوالات کی سنگینی کے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
ان سوالات پر ماہرین معاشیات، اقتصادی مشیروں اور پالیسی سازوں کو سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ایک مربوط فری اکانومی کے فلسفہ، میکنزم اور پولیٹیکل اکانومی سے مشروط ملکی معیشت کے لیے اشد ضروری ہے کہ اس کے کاروباری ڈائنامکس کو اس کی روح کے مطابق چلایا جائے اور بلاشبہ معیشت اس وقت تک فری نہیں ہوسکتی جب تک کاروباری طبقہ کو روزگار اور منافع کے درمیان آزادانہ اقتصادی سرگرمیوں کے لیے مناسب سہولتیں میسر نہیں ہوجاتیں۔
غیر جانبدار مبصرین کے مطابق حکومت کو معاشی سرگرمیوں میں چیک اینڈ بیلنس کو سخت گیر نہیں، حقیقت پسندانہ بنانا ہوگا، ذخیرہ اندوزی کے خاتمہ کے لیے چھاپوں، گرفتاریوں اور سخت کارروائی پر تحفظات کا اظہار کرتے مبصرین نے کہا کہ حکومتی معاشی ماہرین کو ملک کے بنیادی اقتصادی، مالیاتی اور معاشی مسائل کے حل میں فری مارکیٹ اکانومی کے فیئر پلے اور آزادانہ کاروبار کی اہمیت اور افادیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے، کوئی کاروباری شخص اور تاجر ذخیرہ اندوزی کسی مذموم مقصد کے لیے نہیں کرتا، اس کا مطمع نظر منافع حاصل کرنا ہوتا ہے۔
ساری دنیا کی تجارت اور کاروباری اونچ نیچ رسد، ڈیمانڈ، صارفین اور مارکیٹ کے میکنزم کے تحت چلتی ہے، انھوں نے اس سیاق وسباق میں گندم، چینی، آٹے اور دیگر اجناس اور اشیائے ضروریہ کی فراہمی اور دستیابی میں شفاف اور فالٹ فری میکنزم لازمی قرار دیا جب کہ حکومت نے پرائس کنٹرول کمیٹی کو شامل کرکے در اصل فری مارکیٹ کی تھیوری اور اس کی عملی مشکلات میں اضافہ کیا ہے، کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ جب مارکیٹ فری ہے تو کنٹرولنگ اختیارات استعمال کرنے والے ادارے عوام اور تاجر دونوں کو ایک فنکشنل مارکیٹ سے دور کردیں گے، اور ادارہ جاتی کشمکش، غیر ضروری اقدامات، چھاپے اور فوڈ سیکیورٹی یا ملاوٹ کے نام پر پکڑ دھکڑ سے معاملات مزید بگڑیں گے۔
ادھر نیپرا نے بجلی83 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ قیمتوں میں یہ اضافہ جولائی کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے۔ اضافہ ماہ اکتوبر کے بجلی کے بلوں میں وصول کیا جائے گا، بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک اور لائف لائن صارفین پر نہیں ہوگا، بجلی مہنگی ہونے سے صارفین پر10ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے فیصلے میں نیپرا کے ممبر سندھ رفیق شیخ کا اختلافی نوٹ بھی شامل ہے، رفیق شیخ نے کہا کہ میرٹ آرڈر کے خلاف پاور پلانٹ چلانے کا بوجھ صارفین پر ڈالا جا رہا ہے، سی پی پی اے نے اتھارٹی کی ہدایات پر عمل نہیں کیا، اداروں کی ناقص کارکردگی کا بوجھ صارفین پر نہیں ڈالنا چاہیے۔
بلاشبہ لوگوں کو سستی چیزیں ملنی چاہئیں وہ مہنگائی سے تنگ آمد بہ جنگ آمد تک آ پہنچے ہیں اور مہنگائی کی بنیادی وجہ حکومت کے ارباب معیشت کی سمجھ سے بالاتر ہے وہ تذبذب میں ہیں لہٰذا جب تک مارکیٹ کے فری میکنزم کو پالیسی میکنگ کا حصہ نہیں بنا لیتے، معاشی مسائل جوں کے توں رہیں گے، اقتصادی جدلیات کی ناگزیریت ہے کہ منڈی میں آزادانہ کاروبار ہوگا تو چیزوں کے ریٹ از خود گریں گے، چیزیں سستی ہونگیں، رسد ہوگی تو مہنگائی کی شدت کم ہوگی اگر رسد کم ہوگی تو مہنگائی بڑھے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر شے کسی اصول اور میکنزم کے تحت مناسب نرخوں پر مل سکتی ہے، مثال کے طور پر گوشت سلاٹر ہاؤس سے سپلائی ہوتا ہے، اسے ڈاکٹرز چیک کرتے اس پر صحت مند گوشت کی مہر لگاتے اور شہروں میں سپلائی کرتے ہیں اگر حکومت اس کے ریٹ سلاٹر ہاؤس میں ہی مقرر کرنے کا میکنزم وضع کردے، جیسا کہ سبزی منڈی اور فروٹ منڈی میں پھلوں اور سبزیوں کی نیلامی ہوتی ہے، اس کے دام مقرر ہوتے ہیں، یہی اصول پروڈکٹس اور پیداوار کی تیاری کے سورس پر طے پا جائیں تو مشکلات دور ہو سکتی ہیں، دوائیں بھی مہنگی ہیں کیونکہ میڈیکل اسٹورز کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔
کثیر قومی فارماسیوٹیکل کمپنیاں وزارت صحت کی طے شدہ پالیسی سے انحراف کرکے قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کرتی ہیں تو حکام کو اس سلسلے میں فوری اقدام کرنا چاہیے، احتساب کرنا چاہیے، گندم کا مسئلہ لے لیں، وزارت قومی تحفظ خوراک کے مطابق گزشتہ روز ایک جہاز 55 ہزار125میٹرک ٹن گندم لے کر پہنچا، ڈی پی پی نے ابتدائی جانچ کے بعد اسے کلیئرنس دی جس کے بعد گندم کا جہاز سے اخراج شروع ہو چکا ہے، ذرایع کے مطابق پاکستان کو سرکاری طور پر درآمد کی جانے والی گندم 1977روپے فی چالیس کلوگرام میں پڑی ہے۔
درآمدی گندم پر صوبوں کو موجودہ سرکاری نرخ پر گندم جاری کرنے پر 500 روپے سے زائد رقم فی چالیس کلوگرام سبسڈی کی مد میں دینے پڑیں گے، صوبہ سندھ سے اپنی گندم مارکیٹ میں لانے پر زور دیا جا رہا ہے تاہم اسمگلنگ کے خطرہ اور فصل کی تیاری کے پیش نظر گندم کے گودام کھولے نہیں جاتے، وجہ وہ اندیشہ ہے کہ مافیاز گندم خاموشی سے ٹرکوں پر ڈال کر خیبر پختونخوا سے ایران، افغانستان سینٹرل ایشیا تک اسمگل کرلیں گے۔ یہی مافیاز چینی، گندم سکینڈل میں ملوث رہے ہیں مگر ہوا کیا، کون گرفت میں آیا، قانون کی حکمرانی بھی تو نظر آنی چاہیے۔
اب پنجاب میں گندم بحران سر اٹھانے کو ہے، سرکلر ڈیٹ بڑھ رہا ہے، کوئی یہ نہیں بتاتا کہ اٹک میں فلور ملز کی اتنی بڑی تعداد کیوں ہے، ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے گندم درآمد کرلی ہے مگر اس سے پہلے ہی ملک میں آٹے اور گندم کی دستیابی میں عوام کو مشکلات کا سامنا ہے، گندم کی دستیابی، برآمد اور اس کی صوبوں کو نقل و حمل کے حوالے سے ماہرین اور تجزیہ کاروں میں مارکیٹ اکنامی، کاروباری طبقات اور چھوٹے کاروبار کو ریلیف مہیا کرنے اور معاشی اور کاروباری فری ہینڈ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
گزشتہ روز اخبار میں اطلاع تھی کہ ملک میں گندم کا 50 لاکھ ٹن ذخیرہ موجود ہے، مزید گندم آ رہی ہے، مگر عوام کو سستا آٹا نہیں مل رہا۔ کھانے کی ہر چیز مہنگی ہوگئی ہے، لاہور میں ادرک 750 سو روپے فی کلوگرام اور ٹماٹر پھر سے300 سو روپے کلو بک رہا ہے، کراچی میں کوئی سبزی 100روپے سے کم میں دستیاب نہیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنا، برآمدات میں اضافہ اور ملکی آمدنی میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، صوبوں کی مشاورت سے چھوٹے اور درمیانے کاروبار کی پالیسی پر عملدرآمد کے روڈ میپ کو جلد حتمی شکل دی جائے۔
جمعرات کو نیشنل کوآرڈنیشن کمیٹی برائے اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا گذشتہ دس سالوں میں ایس ایم ایز کو یکسر نظر انداز کیا جاتا رہا جس کے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ تمام وفاقی محکمے اور صوبائی حکومتیں ایس ایم ای سیکٹر کے فروغ پر خصوصی توجہ دیں۔ اجلاس میں چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے فروغ کے حوالے سے مجوزہ نیشنل ایس ایم ای پالیسی 2020وزیر اعظم کو پیش کی گئی اور مجوزہ پالیسی کے خدوخال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیر اعظم نے کہا حکومت ایس ایم ایز کو تمام ممکنہ آسانیاں بشمول قواعد و ضوابط کو آسان بنانے، کریڈٹ کی فراہمی، ٹیکس کے نظام کو سہل بنانے اور کاروبار میں سہولت کاری کے لیے پرعزم ہے۔ دریں اثناء وزیر اعظم کی زیرصدارت ہاؤسنگ سے متعلق نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس بھی ہوا جس میں وزارتِ ہاؤسنگ کی جانب سے وفاقی حکومت کے اداروں کے تعطل کا شکار منصوبوں پر کام کے اجرا، جاری اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ معاشی عمل کو تیز کرنے اور کووڈ سے متاثرہ معیشت کی بحالی کے حوالے سے کنسٹرکشن کا شعبہ کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیرِ اعظم نے چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی، صوبائی چیف سیکریٹری صاحبان اور تمام متعلقین کو ہدایت کی کہ کنسٹرکشن کے شعبے کے فروغ پر بھرپور توجہ دی جائے۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاؤسنگ اتھارٹی کے تقریباً دس منصوبے گذشتہ کئی سالوں سے تعطل کا شکار تھے جن پر دوبارہ کام کا اجراء کر دیا گیا ہے اس کے نتیجے میں 38667 یونٹس تعمیر ہوں گے۔ ان منصوبوں کا تخمینہ 120.21ارب روپے ہے۔
اب جب کہ عالمی سطح پر کورونا کے وار کا دوسرا مرحلہ سر پر آ پہنچا ہے، عالمی مالیاتی ادارے، بینکس، کنسورشیم، ماہرین اقتصادیات کہہ رہے ہیں کہ15کروڑ افراد غربت اور بیروزگاری کا شکار ہونگے، کیا ارباب اختیار کورونا کی دوسری لہر سے بچاؤ کے لیے کوئی واضح تدابیر اختیار کرنے جا رہے ہیں، قوم کو بتائیں، عوام غربت اور کورونا کے ایک دریا کے پار اترے تھے اب کون سے نئے دریا کے کنارے کھڑے ہونگے؟ ارباب اختیار کے لیے چیلنجز بے شمار ہیں۔
حکومت کے لیے صرف معیشت اور کورونا کا درد سر ہی کافی نہیں بلکہ خارجہ پالیسی، ملکی سالمیت، خطے کی معاشی صورتحال، مسئلہ کشمیر، مشرق وسطیٰ کی تزویراتی حساسیت، بھارت کی معاندانہ چالیں، تعلیم و صحت میں ریلیف اور روزگار کی فراہمی اولین ترجیحات میں سے ہیں۔ وزیر اعظم کو ایک غیر معمولی بریک تھرو کرنا ہے، انھیں اپنی مشاورتی ٹیم کی اجتماعی حکمت عملی، سیاسی وژن، جیو پولیٹیکل تبدیلی کے اثرات کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے پیدا کردہ چیلنجز سے بھی صائب طریقہ سے نمٹنا ہے، سیاست امکانات کا کھیل ہے۔ اس لیے ہر امکان ملک کی سیاسی تقدیر سے دانشمندی کے ساتھ مشروط ہونا وقت کا اہم تقاضہ ہے۔
معیشت کو داخلی اور عالمی مسائل کا سامنا ہے، کورونا کی دوسری لہر کے چیلنجز نے عالمی سطح پر نوع انسانی کو نفسیاتی اور معاشی بحران میں ڈال دیا ہے، پھر سے حکومت کے لیے اقتصادی معاملات، صحت انفرااسٹرکچر، دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ اور ضروری اشیاء کی ملک گیر دستیابی کو یقینی بنانے سمیت کرپشن اور مہنگائی کی روک تھام کے لیے پالیسی میکنگ کے سوالات کی سنگینی کے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
ان سوالات پر ماہرین معاشیات، اقتصادی مشیروں اور پالیسی سازوں کو سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ایک مربوط فری اکانومی کے فلسفہ، میکنزم اور پولیٹیکل اکانومی سے مشروط ملکی معیشت کے لیے اشد ضروری ہے کہ اس کے کاروباری ڈائنامکس کو اس کی روح کے مطابق چلایا جائے اور بلاشبہ معیشت اس وقت تک فری نہیں ہوسکتی جب تک کاروباری طبقہ کو روزگار اور منافع کے درمیان آزادانہ اقتصادی سرگرمیوں کے لیے مناسب سہولتیں میسر نہیں ہوجاتیں۔
غیر جانبدار مبصرین کے مطابق حکومت کو معاشی سرگرمیوں میں چیک اینڈ بیلنس کو سخت گیر نہیں، حقیقت پسندانہ بنانا ہوگا، ذخیرہ اندوزی کے خاتمہ کے لیے چھاپوں، گرفتاریوں اور سخت کارروائی پر تحفظات کا اظہار کرتے مبصرین نے کہا کہ حکومتی معاشی ماہرین کو ملک کے بنیادی اقتصادی، مالیاتی اور معاشی مسائل کے حل میں فری مارکیٹ اکانومی کے فیئر پلے اور آزادانہ کاروبار کی اہمیت اور افادیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے، کوئی کاروباری شخص اور تاجر ذخیرہ اندوزی کسی مذموم مقصد کے لیے نہیں کرتا، اس کا مطمع نظر منافع حاصل کرنا ہوتا ہے۔
ساری دنیا کی تجارت اور کاروباری اونچ نیچ رسد، ڈیمانڈ، صارفین اور مارکیٹ کے میکنزم کے تحت چلتی ہے، انھوں نے اس سیاق وسباق میں گندم، چینی، آٹے اور دیگر اجناس اور اشیائے ضروریہ کی فراہمی اور دستیابی میں شفاف اور فالٹ فری میکنزم لازمی قرار دیا جب کہ حکومت نے پرائس کنٹرول کمیٹی کو شامل کرکے در اصل فری مارکیٹ کی تھیوری اور اس کی عملی مشکلات میں اضافہ کیا ہے، کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ جب مارکیٹ فری ہے تو کنٹرولنگ اختیارات استعمال کرنے والے ادارے عوام اور تاجر دونوں کو ایک فنکشنل مارکیٹ سے دور کردیں گے، اور ادارہ جاتی کشمکش، غیر ضروری اقدامات، چھاپے اور فوڈ سیکیورٹی یا ملاوٹ کے نام پر پکڑ دھکڑ سے معاملات مزید بگڑیں گے۔
ادھر نیپرا نے بجلی83 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ قیمتوں میں یہ اضافہ جولائی کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے۔ اضافہ ماہ اکتوبر کے بجلی کے بلوں میں وصول کیا جائے گا، بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک اور لائف لائن صارفین پر نہیں ہوگا، بجلی مہنگی ہونے سے صارفین پر10ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے فیصلے میں نیپرا کے ممبر سندھ رفیق شیخ کا اختلافی نوٹ بھی شامل ہے، رفیق شیخ نے کہا کہ میرٹ آرڈر کے خلاف پاور پلانٹ چلانے کا بوجھ صارفین پر ڈالا جا رہا ہے، سی پی پی اے نے اتھارٹی کی ہدایات پر عمل نہیں کیا، اداروں کی ناقص کارکردگی کا بوجھ صارفین پر نہیں ڈالنا چاہیے۔
بلاشبہ لوگوں کو سستی چیزیں ملنی چاہئیں وہ مہنگائی سے تنگ آمد بہ جنگ آمد تک آ پہنچے ہیں اور مہنگائی کی بنیادی وجہ حکومت کے ارباب معیشت کی سمجھ سے بالاتر ہے وہ تذبذب میں ہیں لہٰذا جب تک مارکیٹ کے فری میکنزم کو پالیسی میکنگ کا حصہ نہیں بنا لیتے، معاشی مسائل جوں کے توں رہیں گے، اقتصادی جدلیات کی ناگزیریت ہے کہ منڈی میں آزادانہ کاروبار ہوگا تو چیزوں کے ریٹ از خود گریں گے، چیزیں سستی ہونگیں، رسد ہوگی تو مہنگائی کی شدت کم ہوگی اگر رسد کم ہوگی تو مہنگائی بڑھے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر شے کسی اصول اور میکنزم کے تحت مناسب نرخوں پر مل سکتی ہے، مثال کے طور پر گوشت سلاٹر ہاؤس سے سپلائی ہوتا ہے، اسے ڈاکٹرز چیک کرتے اس پر صحت مند گوشت کی مہر لگاتے اور شہروں میں سپلائی کرتے ہیں اگر حکومت اس کے ریٹ سلاٹر ہاؤس میں ہی مقرر کرنے کا میکنزم وضع کردے، جیسا کہ سبزی منڈی اور فروٹ منڈی میں پھلوں اور سبزیوں کی نیلامی ہوتی ہے، اس کے دام مقرر ہوتے ہیں، یہی اصول پروڈکٹس اور پیداوار کی تیاری کے سورس پر طے پا جائیں تو مشکلات دور ہو سکتی ہیں، دوائیں بھی مہنگی ہیں کیونکہ میڈیکل اسٹورز کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔
کثیر قومی فارماسیوٹیکل کمپنیاں وزارت صحت کی طے شدہ پالیسی سے انحراف کرکے قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کرتی ہیں تو حکام کو اس سلسلے میں فوری اقدام کرنا چاہیے، احتساب کرنا چاہیے، گندم کا مسئلہ لے لیں، وزارت قومی تحفظ خوراک کے مطابق گزشتہ روز ایک جہاز 55 ہزار125میٹرک ٹن گندم لے کر پہنچا، ڈی پی پی نے ابتدائی جانچ کے بعد اسے کلیئرنس دی جس کے بعد گندم کا جہاز سے اخراج شروع ہو چکا ہے، ذرایع کے مطابق پاکستان کو سرکاری طور پر درآمد کی جانے والی گندم 1977روپے فی چالیس کلوگرام میں پڑی ہے۔
درآمدی گندم پر صوبوں کو موجودہ سرکاری نرخ پر گندم جاری کرنے پر 500 روپے سے زائد رقم فی چالیس کلوگرام سبسڈی کی مد میں دینے پڑیں گے، صوبہ سندھ سے اپنی گندم مارکیٹ میں لانے پر زور دیا جا رہا ہے تاہم اسمگلنگ کے خطرہ اور فصل کی تیاری کے پیش نظر گندم کے گودام کھولے نہیں جاتے، وجہ وہ اندیشہ ہے کہ مافیاز گندم خاموشی سے ٹرکوں پر ڈال کر خیبر پختونخوا سے ایران، افغانستان سینٹرل ایشیا تک اسمگل کرلیں گے۔ یہی مافیاز چینی، گندم سکینڈل میں ملوث رہے ہیں مگر ہوا کیا، کون گرفت میں آیا، قانون کی حکمرانی بھی تو نظر آنی چاہیے۔
اب پنجاب میں گندم بحران سر اٹھانے کو ہے، سرکلر ڈیٹ بڑھ رہا ہے، کوئی یہ نہیں بتاتا کہ اٹک میں فلور ملز کی اتنی بڑی تعداد کیوں ہے، ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے گندم درآمد کرلی ہے مگر اس سے پہلے ہی ملک میں آٹے اور گندم کی دستیابی میں عوام کو مشکلات کا سامنا ہے، گندم کی دستیابی، برآمد اور اس کی صوبوں کو نقل و حمل کے حوالے سے ماہرین اور تجزیہ کاروں میں مارکیٹ اکنامی، کاروباری طبقات اور چھوٹے کاروبار کو ریلیف مہیا کرنے اور معاشی اور کاروباری فری ہینڈ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
گزشتہ روز اخبار میں اطلاع تھی کہ ملک میں گندم کا 50 لاکھ ٹن ذخیرہ موجود ہے، مزید گندم آ رہی ہے، مگر عوام کو سستا آٹا نہیں مل رہا۔ کھانے کی ہر چیز مہنگی ہوگئی ہے، لاہور میں ادرک 750 سو روپے فی کلوگرام اور ٹماٹر پھر سے300 سو روپے کلو بک رہا ہے، کراچی میں کوئی سبزی 100روپے سے کم میں دستیاب نہیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنا، برآمدات میں اضافہ اور ملکی آمدنی میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، صوبوں کی مشاورت سے چھوٹے اور درمیانے کاروبار کی پالیسی پر عملدرآمد کے روڈ میپ کو جلد حتمی شکل دی جائے۔
جمعرات کو نیشنل کوآرڈنیشن کمیٹی برائے اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا گذشتہ دس سالوں میں ایس ایم ایز کو یکسر نظر انداز کیا جاتا رہا جس کے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ تمام وفاقی محکمے اور صوبائی حکومتیں ایس ایم ای سیکٹر کے فروغ پر خصوصی توجہ دیں۔ اجلاس میں چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے فروغ کے حوالے سے مجوزہ نیشنل ایس ایم ای پالیسی 2020وزیر اعظم کو پیش کی گئی اور مجوزہ پالیسی کے خدوخال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیر اعظم نے کہا حکومت ایس ایم ایز کو تمام ممکنہ آسانیاں بشمول قواعد و ضوابط کو آسان بنانے، کریڈٹ کی فراہمی، ٹیکس کے نظام کو سہل بنانے اور کاروبار میں سہولت کاری کے لیے پرعزم ہے۔ دریں اثناء وزیر اعظم کی زیرصدارت ہاؤسنگ سے متعلق نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس بھی ہوا جس میں وزارتِ ہاؤسنگ کی جانب سے وفاقی حکومت کے اداروں کے تعطل کا شکار منصوبوں پر کام کے اجرا، جاری اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ معاشی عمل کو تیز کرنے اور کووڈ سے متاثرہ معیشت کی بحالی کے حوالے سے کنسٹرکشن کا شعبہ کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیرِ اعظم نے چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی، صوبائی چیف سیکریٹری صاحبان اور تمام متعلقین کو ہدایت کی کہ کنسٹرکشن کے شعبے کے فروغ پر بھرپور توجہ دی جائے۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاؤسنگ اتھارٹی کے تقریباً دس منصوبے گذشتہ کئی سالوں سے تعطل کا شکار تھے جن پر دوبارہ کام کا اجراء کر دیا گیا ہے اس کے نتیجے میں 38667 یونٹس تعمیر ہوں گے۔ ان منصوبوں کا تخمینہ 120.21ارب روپے ہے۔
اب جب کہ عالمی سطح پر کورونا کے وار کا دوسرا مرحلہ سر پر آ پہنچا ہے، عالمی مالیاتی ادارے، بینکس، کنسورشیم، ماہرین اقتصادیات کہہ رہے ہیں کہ15کروڑ افراد غربت اور بیروزگاری کا شکار ہونگے، کیا ارباب اختیار کورونا کی دوسری لہر سے بچاؤ کے لیے کوئی واضح تدابیر اختیار کرنے جا رہے ہیں، قوم کو بتائیں، عوام غربت اور کورونا کے ایک دریا کے پار اترے تھے اب کون سے نئے دریا کے کنارے کھڑے ہونگے؟ ارباب اختیار کے لیے چیلنجز بے شمار ہیں۔
حکومت کے لیے صرف معیشت اور کورونا کا درد سر ہی کافی نہیں بلکہ خارجہ پالیسی، ملکی سالمیت، خطے کی معاشی صورتحال، مسئلہ کشمیر، مشرق وسطیٰ کی تزویراتی حساسیت، بھارت کی معاندانہ چالیں، تعلیم و صحت میں ریلیف اور روزگار کی فراہمی اولین ترجیحات میں سے ہیں۔ وزیر اعظم کو ایک غیر معمولی بریک تھرو کرنا ہے، انھیں اپنی مشاورتی ٹیم کی اجتماعی حکمت عملی، سیاسی وژن، جیو پولیٹیکل تبدیلی کے اثرات کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے پیدا کردہ چیلنجز سے بھی صائب طریقہ سے نمٹنا ہے، سیاست امکانات کا کھیل ہے۔ اس لیے ہر امکان ملک کی سیاسی تقدیر سے دانشمندی کے ساتھ مشروط ہونا وقت کا اہم تقاضہ ہے۔