شریف الدین پیر زادہ کا بیان قلمبند ہونے پر قانونی حلقوں میں ہلچل
غداری کیس میں ان کا بیان ان کیخلاف بھی جانے کا امکان ہے، حسان و حلیم صدیقی ایڈووکیٹ
سابق آرمی چیف جنرل پرویزمشرف کے خلاف آئین سبوتاژکرنے اور سنگین غداری کے الزام میں آرٹیکل6کے تحت مقدمے کی سماعت سے قبل معروف قانون دان شریف الدین پیرزادہ کا بیان قلمبند کرنے سے سیاسی و قانونی حلقوںمیں ہلچل برپا ہوگئی ہے۔
قانونی حلقے ایف آئی اے کی جانب سے قلمبندکیے گئے اس بیان کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے مقدمے کا مرکزی نکتہ تصور کررہے ہیں ،90سالہ شریف الدین پیرزادہ پاکستان کے قانونی ڈھانچے میں بنیادی کردار کی حیثیت رکھتے ہیں، وہ ملک کی سب آمریتوں کے مشیر کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں ، انھوں نے پاکستان کی جانب سے متعدد بار عالمی عدالت میں بھی نمائندگی کی ہے ، جنرل ضیا الحق کے دور میں وہ اپنی گوناگوں صلاحیتوں کے باعث اسلامی ممالک کی تنظم او آئی سی کے سیکریٹری بھی رہے اور ان کے مخالفین انہیں جدہ کے جادوگر کی حیثیت سے یاد کرتے تھے ، قانونی ماہرین کاعام تاثر ہے کہ ہر فوجی حکمراں کے پیچھے عارضی آئین یا لیگل فریم ورک کی تیاری میں شریف الدین پیرزادہ کا نمایاں کردار رہا ہے۔
اس حوالے سے سندھ ہائیکورٹ بار کے رہنما حسان ایڈووکیٹ کہنا ہے کہ وہ شریف الدین پیرزادہ کے بارے میں گفتگو کرنا ہی نہیں چاہتے ، سندھ بار کونسل کے رکن حلیم صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ شریف الدین پیرزادہ کی زندگی تنازعات سے بھری ہوئی ہے ، وہ اپنی ہی اہلیہ کے مقدمہ قتل میں ملوث رہے ، انہیں وکلابرادری میں کوئی حیثیت حاصل نہیں ، تاہم یہ بات لازمی ہے کہ اگر شریف الدین پیرزادہ اس مقدمے میں ملزم نہ ہوئے تو بھی ان کی وکالت کا جادو بھی سامنے آجائیگا ، ایسا نہ ہو کہ شریف الدین پیرزادہ جنرل پرویز مشرف کو بچانے کے بجائے خود اس معاملے میں پھنس جائیں، جسٹس (ر) شائق عثمانی نے کہاکہ اپنے کیس میں خود وکالت کرنا عمومی طور پر درست نہیں سمجھا جاتا لیکن بار کے قوانین میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے ۔
قانونی حلقے ایف آئی اے کی جانب سے قلمبندکیے گئے اس بیان کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے مقدمے کا مرکزی نکتہ تصور کررہے ہیں ،90سالہ شریف الدین پیرزادہ پاکستان کے قانونی ڈھانچے میں بنیادی کردار کی حیثیت رکھتے ہیں، وہ ملک کی سب آمریتوں کے مشیر کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں ، انھوں نے پاکستان کی جانب سے متعدد بار عالمی عدالت میں بھی نمائندگی کی ہے ، جنرل ضیا الحق کے دور میں وہ اپنی گوناگوں صلاحیتوں کے باعث اسلامی ممالک کی تنظم او آئی سی کے سیکریٹری بھی رہے اور ان کے مخالفین انہیں جدہ کے جادوگر کی حیثیت سے یاد کرتے تھے ، قانونی ماہرین کاعام تاثر ہے کہ ہر فوجی حکمراں کے پیچھے عارضی آئین یا لیگل فریم ورک کی تیاری میں شریف الدین پیرزادہ کا نمایاں کردار رہا ہے۔
اس حوالے سے سندھ ہائیکورٹ بار کے رہنما حسان ایڈووکیٹ کہنا ہے کہ وہ شریف الدین پیرزادہ کے بارے میں گفتگو کرنا ہی نہیں چاہتے ، سندھ بار کونسل کے رکن حلیم صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ شریف الدین پیرزادہ کی زندگی تنازعات سے بھری ہوئی ہے ، وہ اپنی ہی اہلیہ کے مقدمہ قتل میں ملوث رہے ، انہیں وکلابرادری میں کوئی حیثیت حاصل نہیں ، تاہم یہ بات لازمی ہے کہ اگر شریف الدین پیرزادہ اس مقدمے میں ملزم نہ ہوئے تو بھی ان کی وکالت کا جادو بھی سامنے آجائیگا ، ایسا نہ ہو کہ شریف الدین پیرزادہ جنرل پرویز مشرف کو بچانے کے بجائے خود اس معاملے میں پھنس جائیں، جسٹس (ر) شائق عثمانی نے کہاکہ اپنے کیس میں خود وکالت کرنا عمومی طور پر درست نہیں سمجھا جاتا لیکن بار کے قوانین میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے ۔