جھگڑا کرنیوالے پولیس افسروں کیخلاف ایک ماہ میں کارروائی کا حکم

کیا یہ ضروری ہے کہ ہر معاملے میں عدالت ملوث ہو؟ پولیس ازخود کارروائی کرے، جسٹس انور

کیا یہ ضروری ہے کہ ہر معاملے میں عدالت ملوث ہو؟ پولیس ازخود کارروائی کرے، جسٹس انور، فوٹو: فائل

سپریم کورٹ کے جسٹس انورظہیر جمالی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 3ستمبرکو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کی عمارت کے باہر پولیس افسران کے تنازع کے متعلق تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ ادھوری قرار دیتے ہوئے تحقیقات 3 یوم میں مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

چیف سیکریٹری سندھ کو ذمے داران کے خلاف کارروائی کرکے ایک ماہ کی مدت میں عدالت کو آگاہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے انکوائری کمیٹی کے سربراہ ڈی آئی جی بشیر میمن کو ہدایت کی تحقیقات اور ذمے داران کا تعین کرکے 3 دن میں رپورٹ عدالت میں جمع کرادیں۔ فاضل بینچ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آئی جی تنازع کے ذمے دار پولیس افسران کے خلاف خود کارروائی کریں۔ ضروری نہیں کہ ہرمعاملے میں عدلیہ کو ملوث کیا جائے، پھرکہا جاتا ہے کہ عدلیہ ہرمعاملے میں مداخلت کرتی ہے۔


جسٹس امیرہانی مسلم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سے عدلیہ کا تشخص متاثر ہواہے، جسٹس انور ظہیرجمالی کی سربراہی میں 3 رکنی فل بینچ نے جمعرات کو پولیس افسران کے جھگڑے کے واقعے کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی، انکوائری کمیٹی کے سربراہ ڈی آئی جی بشیرمیمن نے ابتدائی رپورٹ پیش کی، عدالت نے رپورٹ کو نامکمل قراردیتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہم غیرجانبدارانہ تحقیقات چاہتے ہیں۔ کسی فریق کے مخالف نہیں، تحقیقاتی ٹیم نے رپورٹ میں بتایا کہ وڈیو اور تصاویر کی مدد سے جائے وقوع پر ایس پی خرم وارث اور نورالحق رند کی موجودگی کا پتہ چل سکا ہے۔

وہاں تقریباً 7آدمی تھے لیکن ابھی تک دیگر کی شناخت نہیں ہوسکی، کچھ مہلت دی جائے تاکہ سب کی شناخت ہوسکے۔ عدالتی عملے نے بتایا ہے کہ 4 سے زائد افسران اور ان کے ساتھیوں نے ایک افسر پر تشدد کیا۔ جسٹس اطہرسعید نے اپنی آبزرویشن میں کہا کہ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ واقعے کا ذمے دار کون ہے، جھگڑا شروع کیسے ہوا اورکس نے شروع کیا؟۔ عدالت کے استفسار پر ایڈووکیٹ جنرل عبدالفتاح ملک نے سفارش کی کہ واقعے میں ملوث پولیس افسران کو معطل کردیا جائے جس پر عدالت نے قرار دیا کہ محکمہ پولیس ان افسران کے خلاف خود کارروائی کرے تاہم ایڈووکیٹ جنرل نے ایک بار پھر رائے دی کہ تحقیقات کیلیے سیشن جج کا تقرر کردیا جائے۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کیا یہ ضروری ہے کہ ہر معاملے میں عدلیہ کو ملوث کیا جائے؟عدالت نے آئی جی سندھ کو ہدایت کی کہ واقعے کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرکے رپورٹ پیش کی جائے، ایڈووکیٹ جنرل نے پھر تجویز دی کہ آئی جی کو ہدایت کی جائے کہ رپورٹ چیف سیکریٹری کو بھی پیش کریں۔ بینچ کے ایک رکن نے کہا کہ چیف سیکریٹری تو خود صورتحال کا شکار ہوئے تھے اور جب پولیس افسران میں جھگڑا ہورہا تھا تو وہ خود اس وقت عدالت سے نکل رہے تھے تاہم آئی جی چیف سیکریٹری کو بھی رپورٹ کی نقل ارسال کردیں۔

Recommended Stories

Load Next Story