اللہ ہی ہے جو ہمارے دلوں کو موڑ دے

حکمرانوں کے پاس بھارتی پالیسی کے حق میں کوئی دلیل نہیں اس کے باوجود وہ بھارت کی خوشنودی حاصل کرنے میں دن رات کوشاں ہیں

Abdulqhasan@hotmail.com

ISLAMABAD:
دنیا میں جہاں بھی مسلمانوں کے ساتھ کوئی دوسری قوم آباد ہے وہاں نظریہ پاکستان یا دو قومی نظریہ زندہ ہے جس کی تابندہ مثال برصغیر کی سرزمین تھی جہاں مسلم اور ہندو دو قومیں اپنی خاص تاریخ اور پس منظر کے ساتھ آباد تھیں لیکن وہ دو الگ الگ قومیں تھیں مگر ایک قوم جو تعداد میں بڑی تھی وہ چھوٹی قوم مسلمان قوم کو برداشت کرنے پر تیار نہیں تھی چنانچہ اس کا ایک ہی علاج تھا کہ یہ دونوں قومیں ایک دوسرے سے الگ اور جدا ہو جائیں۔ یہ دونوں قومیں ایک دوسرے سے الگ الگ تو ہو گئیں مگر بے پناہ تلخی کے ساتھ بڑی قوم نے چھوٹی قوم کو پرامن طریقے سے الگ ہونے کا موقع دینے سے انکار کر دیا اور قیام پاکستان کے وقت بڑی قوم اور اس کی ساتھی ایک دوسری قوم کے ہاتھوں لاکھوں مسلمان مہاجر ختم ہو گئے اور جب وہ نئے وطن پہنچے تو ان کے تن کے کپڑے بھی سلامت نہ تھے لیکن بے قصور مسلمان قوم نے پھر بھی اپنے نظریہ پاکستان یا دو قومی نظریئے کو سچ اور برحق جانا اور اس سچ کی طاقت تھی جس نے کبھی اس لٹی پٹی قوم کو ایک نئی قوم بنا دیا اور ایسی نئی قوم جو کل کی بڑی قوم کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہو گئی۔

اسے زندہ رہنے کے لیے طاقت درکار تھی جو اس نے کم تعداد میں ہونے کے باوجود اپنے اندر پیدا کر لی۔ کئی جنگوں کے بعد یہ قوم بالآخر دشمن قوم کے لیے ناقابل تسخیر بن گئی اب امتحان آیا اس قوم کی قیادت کا کہ وہ اس نئی طاقت ور قوم کو کس طرح ایک منظم قوم بنا کر اسے نظریاتی استحکام دے سکتی ہے جو اس کے وجود کی بنیاد ہے۔ ہم ایسی قیادت حاصل نہ کر سکے۔ دو قومی نظرئیے کو قائم اور زندہ کرنے اور رکھنے والے وقت کے ساتھ ساتھ قوم سے جدا ہو گئے ہم نے ان کے مقبرے بنا لیے مگر ان کے نظریات کو زندگی میں نافذ کرنے سے عملاً معذرت کر لی۔ جیسے ان کے نظریات کو بھی کسی مقبرے میں بند کر دیا مگر ہماری اس کوتاہی کے باوجود دو قومی نظریہ بذات خود اتنی بڑی اور کھلی حقیقت ہے کہ اس کی جاندار زندگی ہمارے سامنے موجود ہے۔ مشرقی پاکستان موجودہ بنگلہ دیش کا باشندہ ملا عبدالقادر نے جان دے دی مگر اس نظرئیے کی شہادت دینے پر ڈٹا رہا کیونکہ اس ایمان دار شخص کے لیے یہ ایک حقیقت تھی اس کے ایمان کا حصہ تھی تو وہ اس سے کیسے انکار کر سکتا تھا۔


اس نے عدالت کے سامنے کوئی عذر پیش نہ کیا اور مسلمانوں کی تاریخ کا ایک اور شہید بن گیا بنگلہ دیش کی بھارتی ایجنٹ وزیر اعظم اسے 'پاکستانی' کہتی ہیں اور ان کا اعلان ہے کہ پاکستان کے ساتھیوں کے لیے بنگلہ دیش میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ کوئی 42 برس پہلے یہ سوال پیدا ہوا کہ مشرقی پاکستان جب بنگلہ دیش بن رہا تھا تو کون اس بنگلہ دیش سے انکار کر رہا تھا جو حقائق سامنے آتے رہے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کے پاکستانی پہلے پاکستانی تھے لیکن انھیں زبردستی بنگلہ دیشی بنایا گیا۔ ان کے وطن پر کوئی اور قابض ہو گیا اور اس قابض نے ان کی شہریت تک بدل دی۔ دنیا میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ ہمارے قریب ہی وسطی ایشیاء کی نو ریاستیں جو اپنی جگہ پر آزاد تھیں روسی قبضہ کے بعد ان کو روسی بنا دیا گیا۔

ان کی زبان بدل دی گئی ان کو پرانے اسلامی لٹریچر سے محروم کر دیا گیا اور رفتہ رفتہ وہ اسلام سے بھی بے خبر ہو گئے۔ سوویت یونین کا حصہ بن گئے لیکن ان کے اندر اس بیرونی تشدد کے باوجود ان کا باطن زندہ رہا بنگلہ دیش میں بھی یہی ہو گا خود ہندوستان کے اندر مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے یہ بنگلہ دیشی تو ہندوستان سے باہر ایک آزاد ملک ہیں لیکن یہ ملک بھارت جیسے بے انصاف متعصب اور تنگ نظر ملک کا ایک مستقل نشانہ بنا رہے گا اور بھارت اسے بھوٹان وغیرہ کی طرح اپنی ایک تابع ریاست بنا کر رکھے گا تاآنکہ یہاں بھاری اکثریت والے مسلمانوں کی کوئی قیادت ملک کی حکمرانی کرنے لگے اور حالات بدل دے۔

میں اپنے پاکستانی بھائیوں کی توجہ بھارتی ریشہ دوانیوں کی طرف دلانا چاہتا ہوں ہماری حکومتیں اب تک بھارت سے ڈر کر اور اس کی تخریب کاری سے بچنے کی کوشش میں بھارت سے بچنے کے لیے اس سے دور دور رہیں۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ بھارت بلوچستان میں اور ہمارے شمالی علاقوں میں کُھل کر کھیل رہا ہے اور ہمارے پورے ملک کا امن غارت کر چکا ہے۔ اس بدامنی نے قومی زندگی میں ہماری پیش رفت کو روک دیا ہے اور عام پاکستانی اس سے بہت زیادہ پریشان ہے لیکن اس صورت حال کی اصلاح اور اس پر قابو پانا حکومت کے بس میں ہے عوام کے نہیں۔ جب پاکستانی قوم ہماری حکومت کے بھارت کے بارے میں انتہائی نرم رویّے کو دیکھتی ہے تو اس کا دل بیٹھ جاتا ہے اور وہ بے بس دکھائی دیتی ہے۔ ہمارے حکمرانوں کے پاس اس کی بھارتی پالیسی کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے مگر اس کے باوجود وہ بھارت کی خوشنودی حاصل کرنے میں دن رات کوشاں ہیں۔ اللہ ہی ہے جو ہم پر فضل کرے اور ہمارے دلوں کو موڑ دے۔
Load Next Story