سندھ ہائیکورٹپارکنگ اور نو پارکنگ زونز کی تفصیلات طلب
شہر کے جن مقامات پر نوپارکنگ کے بورڈز آویزاں نہیں وہ جگہ ٹریفک پولیس نے من پسند افرادکو الاٹ کردی ہے، درخواست گزار
نجی لفٹر جب گاڑی اٹھاتے ہیں تو لائٹس اور دیگر سامان کونقصان پہنچتاہے،گاڑی واپس کرنے کیلیے500روپے لیے جاتے ہیں، فوٹو ؛فائل
سندھ ہائیکورٹ نے ڈ ی آئی جی ٹریفک اور شہری انتظامیہ سے شہر بھر میں قائم پارکنگ زونز کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔
عدالت نے ہدایت کی ہے کہ شہر میں قائم پارکنگ زونز اور نوپارکنگ کے آویزاں بورڈز سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے،جسٹس ندیم اختر کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے تصورعباس تنویر کی درخواست کی سماعت کی، درخواست میں کہا گیا ہے کہ شہر میں جن مقامات پر نوپارکنگ کے بورڈز آویزاں نہیں وہ جگہ ٹریفک پولیس نے من پسند افراد مافیا کو الاٹ کردی ہے، جہاں وہ لفٹر کی مدد سے گاڑیاں اٹھا لے جاتے ہیں اور اس کے عوض وہ اور ٹریفک پولیس حکام بھاری رقوم وصول کرتے ہیں جو کروڑوں روپے روزانہ بنتی ہے، درخواست گزار کے مطابق گاڑی اٹھاتے ہوئے یہ لفٹرز ایسی کوئی نشانی نہیں چھوڑ جاتے جس سے اندازہ ہوکہ گاڑی کہاں گئی ہے جس سے گاڑی مالکان کو انتہائی ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،کے ایم سی کے ساتھ ساتھ کنٹونمنٹ بورڈز کے علاقے میں بھی 30سے 50 روپے پارکنگ فیس وصول کی جاتی ہے لیکن یہ تفصیلات دستیاب نہیں کہ وصول ہونے والی رقم میں سے کتنی سرکاری خزانے اور کتنی مافیا کی جیب میں جاتی ہے ۔
درخواست گزار کے مطابق نجی لفٹر جب گاڑی اٹھاتے ہیں تو لائٹس، بیٹری ، بمپرز، ٹائرز اور گیئر باکسز کو شدید نقصان پہنچتا ہے جس سے گاڑی مالکان کو نہ صرف ذہنی اذیت بلکہ مالی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، درخواست گزار نے عدالت کو بتایاکہ گزشتہ دنوں اسے ایک ذاتی کام سے سندھ ہائی کورٹ آنا پڑا تو درخواست گزار نے ایف آئی اے کے دفاتر کے نزدیک گاڑی پارک کردی جہاں کہیں بھی نوپارکنگ کا بورڈ آویزاں نہیں تھا،گاڑی کی تلاش میں قریب ہی ٹریفک سیکشن پہنچے توٹریفک پولیس کے اہلکاروں نے گاڑی واپس کرنے کے لیے 500روپے طلب کیے تاہم جو افراد رسید کا مطالبہ نہیں کررہے تھے انھیں300روپے کے عوض گاڑی واپس کی جارہی تھی۔
درخواست گزار نے پولیس کے اعلیٰ حکام کو لیگل نوٹس بھی ارسال کیا تاکہ معاملہ ان کے علم میں بھی آجائے لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی، اسی طرح دیگر افرا د سے بھی 500روپے تک وصول کیے جارہے تھے جنھیں رسید بھی نہیں دی جارہی تھی، درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ گاڑی کی تلاش میں اسے ذہنی اذیت سے گزرنا پڑا جس کا کوئی نعم البدل نہیں، ڈی آئی جی ٹریفک اور دیگر حکام سے شہر میں قائم پارکنگ ذونز کی تفصیلات طلب کی جائیں اور نو پارکنگ زونز میں نو پارکنگ کے بورڈزکی تنصیب کو یقینی بنایا جائے،عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد مدعا علیہان کو 14جنوری کیلیے نوٹس جاری کرتے ہوئے شہر میں قائم نو پارکنگ زونز کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
عدالت نے ہدایت کی ہے کہ شہر میں قائم پارکنگ زونز اور نوپارکنگ کے آویزاں بورڈز سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے،جسٹس ندیم اختر کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے تصورعباس تنویر کی درخواست کی سماعت کی، درخواست میں کہا گیا ہے کہ شہر میں جن مقامات پر نوپارکنگ کے بورڈز آویزاں نہیں وہ جگہ ٹریفک پولیس نے من پسند افراد مافیا کو الاٹ کردی ہے، جہاں وہ لفٹر کی مدد سے گاڑیاں اٹھا لے جاتے ہیں اور اس کے عوض وہ اور ٹریفک پولیس حکام بھاری رقوم وصول کرتے ہیں جو کروڑوں روپے روزانہ بنتی ہے، درخواست گزار کے مطابق گاڑی اٹھاتے ہوئے یہ لفٹرز ایسی کوئی نشانی نہیں چھوڑ جاتے جس سے اندازہ ہوکہ گاڑی کہاں گئی ہے جس سے گاڑی مالکان کو انتہائی ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،کے ایم سی کے ساتھ ساتھ کنٹونمنٹ بورڈز کے علاقے میں بھی 30سے 50 روپے پارکنگ فیس وصول کی جاتی ہے لیکن یہ تفصیلات دستیاب نہیں کہ وصول ہونے والی رقم میں سے کتنی سرکاری خزانے اور کتنی مافیا کی جیب میں جاتی ہے ۔
درخواست گزار کے مطابق نجی لفٹر جب گاڑی اٹھاتے ہیں تو لائٹس، بیٹری ، بمپرز، ٹائرز اور گیئر باکسز کو شدید نقصان پہنچتا ہے جس سے گاڑی مالکان کو نہ صرف ذہنی اذیت بلکہ مالی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، درخواست گزار نے عدالت کو بتایاکہ گزشتہ دنوں اسے ایک ذاتی کام سے سندھ ہائی کورٹ آنا پڑا تو درخواست گزار نے ایف آئی اے کے دفاتر کے نزدیک گاڑی پارک کردی جہاں کہیں بھی نوپارکنگ کا بورڈ آویزاں نہیں تھا،گاڑی کی تلاش میں قریب ہی ٹریفک سیکشن پہنچے توٹریفک پولیس کے اہلکاروں نے گاڑی واپس کرنے کے لیے 500روپے طلب کیے تاہم جو افراد رسید کا مطالبہ نہیں کررہے تھے انھیں300روپے کے عوض گاڑی واپس کی جارہی تھی۔
درخواست گزار نے پولیس کے اعلیٰ حکام کو لیگل نوٹس بھی ارسال کیا تاکہ معاملہ ان کے علم میں بھی آجائے لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی، اسی طرح دیگر افرا د سے بھی 500روپے تک وصول کیے جارہے تھے جنھیں رسید بھی نہیں دی جارہی تھی، درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ گاڑی کی تلاش میں اسے ذہنی اذیت سے گزرنا پڑا جس کا کوئی نعم البدل نہیں، ڈی آئی جی ٹریفک اور دیگر حکام سے شہر میں قائم پارکنگ ذونز کی تفصیلات طلب کی جائیں اور نو پارکنگ زونز میں نو پارکنگ کے بورڈزکی تنصیب کو یقینی بنایا جائے،عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد مدعا علیہان کو 14جنوری کیلیے نوٹس جاری کرتے ہوئے شہر میں قائم نو پارکنگ زونز کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔