پی ڈی ایم کا گوجرانوالہ جلسہ

کریک ڈاؤن اور سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریوں جیسے اقدام سے گریز کیا جاتا تو احسن اقدام ہوتا۔

کریک ڈاؤن اور سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریوں جیسے اقدام سے گریز کیا جاتا تو احسن اقدام ہوتا۔ فوٹو: فائل

DHAKA:
پی ڈی ایم کے بینر تلے اپوزیشن جماعتوں کا آج گوجرانوالہ میں پہلا جلسہ ہو رہا ہے جو معروف اور مسلمہ سیاسی روایات کے مطابق ایک جمہوری اور سیاسی طاقت کے مظاہرہ پر مبنی ہوگا جسے ہر اعتبار سے پر امن ہونا چاہیے۔

وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ سے مشاورت کے بعد اپوزیشن کو جلسہ کرنے کی اجازت دے کر بادی النظر میں صائب فیصلہ کیا ہے تاہم ضرورت سیاسی درجہ حرارت اور انتہائی ہائی پروفائل سیاسی موسم کو معمول پر رکھنے، سیاسی رواداری اور جمہوری کشادہ نظری کی ہے، پکڑ دھکڑ کی خبریں اچھی روایت نہیں سمجھی جائے گی۔

حکومت اور اپوزیشن دونوں کو دور اندیشی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، طاقت کے مظاہرے سیاسی کشمکش کا فطری نتیجہ ہی ہیں، سیاسی موسم گرم ضرور ہے لیکن حکومت کا کھلے دل کے ساتھ اپوزیشن کو جلسہ کرنے کے لیے کھلا سیاسی میدان دینا بھی ایک بہترین سیاسی مصلحت ہے، اس کا اس کی روح کے ساتھ معاملہ کرنا جمہوریت کا حسن کہلائے گا۔ جمہوریت کو فنکشنل، نتیجہ خیز سیاسی نظام بنانے اور ڈلیور کرنے کے لیے لازم ہے کہ ووٹرز کو جمہوری ثمرات سے فیض یاب کیا جائے۔

اس میں دو رائے نہیں کہ ملک کو ہمہ جہتی چیلنجز درپیش ہیں، مبصرین کے مطابق اپوزیشن کے جلسے کسی فیصلہ کن انتخابی مہم سے مربوط نہیں، یہ سیاسی کتھارسس ہے سیاسی صورتحال، ملکی معاشی حالات اور داخلی و خارجی سناریو کا جو بہر صورت گزر جائے گا تاہم کوئی اس سے انکار نہیں کرسکتا کہ یہ سب کچھ سیاسی عمل کا جمہوری تسلسل ہیں، حکومت اور اپوزیشن کی برہمی کا ایک جمہوری جواز اور سیاق وسباق ہے، ازلی دشمنی نہیں، پارلیمنٹ کی بالادستی کا استعارہ ان ہی دنوں کے لیے جائز ٹھہرتا ہے کہ منتخب ایوان ہی مسائل کے حل کے لیے حتمی فورم ہیں۔

ملکی سیاسی تاریخ میں پہلی بار جلسے نہیں ہو رہے، نہ پی ٹی آئی کی سیاست اور حکومت کے لیے ان میں کوئی انوکھی بات ہونی چاہیے، آج گوجرانوالہ میں پھر کراچی اور دیگر شہروں میں جلسے ہونے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کچھ بھی ہوجائے، اپوزیشن سے مفاہمت نہیں ہوگی، مہنگائی جلد ختم، اپوزیشن کی تحریک بے اثر ہوگی، جھگڑا این آر او کا ہے جو نہیں دونگا، وزیر اعظم نے جلسہ سے ایک دن پہلے کہا کہ صنعتی پہیہ چلنے لگا، مشکل حالات سے معیشت کو بہتری کی طرف لے جا رہے ہیں، اس کے جواب میں اپوزیشن کی شعلہ بیانی جاری رہی، اپوزیشن لیڈروں کا کہنا تھا کہ گرفتاریوں اور کنٹینروں سے راستہ روکا نہیں جاسکتا، جلسہ بڑا ہوگا، حکمرانوں پر لرزہ طاری ہے، ریت کا قلعہ گرنے والا ہے۔


مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کے مطابق پہلا جلسہ 16 اکتوبر کو گوجرانوالہ میں ہو گا، جس کے بعد 18کو کراچی، 25 کو کوئٹہ، 22 نومبر کو پشاور، 30 کو ملتان، 13 دسمبر کو لاہور اور27 کو لاڑکانہ میںہوگا۔ مریم نواز نے اس موقع پر کہا گوجرانوالہ کا جلسہ کسی صورت نہیں رکے گا، کارکن تیاریاں کریں۔

عوام ان سیاسی بیانات، نعروں سے واقف ہیں اور ان کی اجتماعی دانش ہی جیتے گی، اکھاڑہ میں حکومت اور اپوزیشن ہیں مگر اہل سیاست ادراک کریں کہ ان جلسوں کے بعد بھی جمہوری عمل کو رواں دواں رکھنا سیاست دانوں کی ذمے داری ہے، عظیم باکسر محمد علی اور جوفریزیئر کے مابین یادگار فائٹ جنھیں یاد ہے وہ دونوں باکسرز کی اسپورٹسمین اسپرٹ کو آج تک فراموش نہیں کرسکے جس کا دونوں باکسرز نے فائٹ کے اختتام پر مظاہرہ کیا تھا۔

فائٹ ختم ہوئی مگر باکسنگ رنگ بدستور قائم ہے۔ لہٰذا اسی جمہوری رواداری، سیاسی وژن اور پارلیمانی بصیرت کی توقع قوم حکومت اور اپوزیشن سے بجا طور پر رکھتی ہے، ملک کے فہمیدہ حلقے اگر اپوزیشن کے پر امن جلسوں اور اختلاف رائے، ڈیبیٹ، مکالمہ اور مطالبات کے تناظر میں اس تمنا کا اظہار کرتے ہوں تو کیا ہی خوشگوار جمہوری پیغام دے رہے ہونگے کہ

حیات لے کے چلو کائنات لے کے چلو

چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو

جہاں تک جمہوری عمل اور سیاسی روایات و وراثت کا تعلق ہے جلسے جلوس ہر دور حکومت میں ملکی سیاسی روایت سے مربوط رہے ہیں، آئین کے تحت سیاسی جماعتوں کو اظہار رائے اور آزادی اجتماع کے پیرا میٹر اور اسپورٹسمین اسپرٹ کے مطابق جلسہ کرنے کا حق حاصل ہے، حکومت کی دوراندیشی اور مدبرانہ طرز عمل کا یہ امتحان ہوگا، حکومت نے جلسے کی اجازت دی تو بہتر کیا تاہم کریک ڈاؤن اور سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریوں جیسے اقدام سے گریز کیا جاتا تو احسن اقدام ہوتا، بدمزگی نہیں ہونی چاہیے، اس طرح goodwill خیرسگالی اور پرامن بقائے باہمی کا ماحول برقرار رہنا چاہیے جس کا اعلان ارباب اختیار کی طرف سے ہوا تھا۔
Load Next Story