جی 20 تنظیم کا درست فیصلہ
جی 20کے حالیہ اجلاس میں جوفیصلہ کیا گیا ہے‘ یہ بروقت ہے‘ اس سے غیر ملکی قرضوں میں جکڑے ہوئے غریب ممالک کوریلیف ملے گا۔
جی 20کے حالیہ اجلاس میں جوفیصلہ کیا گیا ہے‘ یہ بروقت ہے‘ اس سے غیر ملکی قرضوں میں جکڑے ہوئے غریب ممالک کوریلیف ملے گا۔ فوٹو: سوشل میڈیا
حالیہ کورونا وباء کے باعث عالمی سطح پر معیشت کو بے پناہ نقصان پہنچا ہے خصوصاً آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضوں میں جکڑے ہوئے غریب اور پسماندہ ممالک کا تو بہت برا حال ہے۔اس صورتحال کے تناظر میں دنیا کے20امیر اور خوشحال ممالک کی تنظیم جی 20 کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ غریب ممالک کے ذمے قرضوں کی ادائیگی میں انھیں مزید چھ ماہ کے لیے ری شیڈولنگ کی سہولت دی جائے۔
ڈیٹ سروس سسپینشن انیشیویٹو (Debt Service Suspension Initiative)نے مئی2020میں یہ سہولت دینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس وقت دسمبر 2020 تک مہلت دینے کی تجویز دی گئی تھی اور اس سہولت کے تحت 108ارب ڈالر کے قرضے ری شیڈول کیے جانے تھے تاہم اب جی 20کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنر کا بدھ کو جو اجلاس ہوا ' اس اہم اجلاس کے بعد جاری ہونے والے سرکلر میں کہا گیا ہے کہ امسال دسمبر سے جون2021 تک لیے جانے والے قرضوں کی ری شیڈولنگ بھی کی جائے۔
اس کا فیصلہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کریں گے۔ حالیہ کورونا وباء نے دنیا بھر کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے' بلاشبہ امیر ممالک بھی اس وباء سے متاثر ہوئے ہیں اور وہاں بھی کاروباری سرگرمیاں بہت محدود ہوئی ہیں لیکن اس کے باوجود امیر ملکوں کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ کورونا وبا سے ہونے والے نقصان کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ معیشت کو بھی دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی طاقت رکھتے ہیں لیکن دنیا کے غریب ممالک کی حالت مختلف ہے۔
تیسری دنیا کے پسماندہ اور غریب ملکوں کو حالیہ کورونا وباء نے بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے' ان میں پاکستان بھی شامل ہے' پاکستان کی معیشت کی حالت بہت پتلی ہے۔اسی طرح ایشیا اور افریقہ کے پسماندہ ملکوں کی معیشتیں بیٹھ چکی ہیں اور انھیں ان حالات میں عالمی مالیاتی اداروں اور خوشحال ملکوں کی مدد کی اشد ضرورت ہے۔
جی 20کے حالیہ اجلاس میں جو فیصلہ کیا گیا ہے' یہ بروقت ہے' اس سے غیر ملکی قرضوں میں جکڑے ہوئے غریب ممالک کو ریلیف ملے گا جس کے عالمی معیشت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے اور دنیا معاشی ڈیپریشن سے نکل آئے گی۔
ڈیٹ سروس سسپینشن انیشیویٹو (Debt Service Suspension Initiative)نے مئی2020میں یہ سہولت دینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس وقت دسمبر 2020 تک مہلت دینے کی تجویز دی گئی تھی اور اس سہولت کے تحت 108ارب ڈالر کے قرضے ری شیڈول کیے جانے تھے تاہم اب جی 20کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنر کا بدھ کو جو اجلاس ہوا ' اس اہم اجلاس کے بعد جاری ہونے والے سرکلر میں کہا گیا ہے کہ امسال دسمبر سے جون2021 تک لیے جانے والے قرضوں کی ری شیڈولنگ بھی کی جائے۔
اس کا فیصلہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کریں گے۔ حالیہ کورونا وباء نے دنیا بھر کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے' بلاشبہ امیر ممالک بھی اس وباء سے متاثر ہوئے ہیں اور وہاں بھی کاروباری سرگرمیاں بہت محدود ہوئی ہیں لیکن اس کے باوجود امیر ملکوں کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ کورونا وبا سے ہونے والے نقصان کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ معیشت کو بھی دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی طاقت رکھتے ہیں لیکن دنیا کے غریب ممالک کی حالت مختلف ہے۔
تیسری دنیا کے پسماندہ اور غریب ملکوں کو حالیہ کورونا وباء نے بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے' ان میں پاکستان بھی شامل ہے' پاکستان کی معیشت کی حالت بہت پتلی ہے۔اسی طرح ایشیا اور افریقہ کے پسماندہ ملکوں کی معیشتیں بیٹھ چکی ہیں اور انھیں ان حالات میں عالمی مالیاتی اداروں اور خوشحال ملکوں کی مدد کی اشد ضرورت ہے۔
جی 20کے حالیہ اجلاس میں جو فیصلہ کیا گیا ہے' یہ بروقت ہے' اس سے غیر ملکی قرضوں میں جکڑے ہوئے غریب ممالک کو ریلیف ملے گا جس کے عالمی معیشت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے اور دنیا معاشی ڈیپریشن سے نکل آئے گی۔