شفیق تنولی پر سپریم کورٹ کے حکم پر قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا

ریکارڈ کے مطابق وہ معطل ہیں مگر انھوں نے ملزمان پکڑنے کے حوالے سے کئی پریس کانفرنسیں کیں

کراچی:دھماکے میں تباہ ہونے والی گاڑی اور زخمی پولیس افسر شفیق تنولی کی فائل فوٹو

پرانی سبزی منڈی کے قریب بم دھماکے میں زخمی ہونے والے سب انسپکٹر شفیق تنولی کی سیکیورٹی کے لیے10پولیس اہلکار تعینات تھے۔

جس میں اس کا بھائی کانسٹیبل رشید خان بھی شامل ہے ، شفیق تنولی پر چند سال قبل مبینہ پولیس مقابلے میں ایک شخص کو ہلاک کرنے پر سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس پر قتل کا مقدمہ بھی قائم کیا گیا تھا ، شفیق تنولی کے خلاف قتل کا مقدمہ قائم ہونے پر انہیں ایس ایچ او ماڑی پور سے معطل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا تھا تاہم حساس اداروں کے آشیرباد کے باعث وہ غیر قانونی طور پر نہ صرف ماڑی پور بلکہ موچکو تھانے کے ایس ایچ او کے طور پر متعدد پریس کانفرنسوں میں لیاری گینگ وار ، عوامی نیشنل پارٹی ، متحدہ قومی موومنٹ اور کالعدم تنظیموں کے کارکنوں کو گرفتار کرنے کے دعوے بھی کرتے رہے ہیں جبکہ جس تھانے کے بطور ایس ایچ او انھوں نے پریس کانفرنسیں کیں ایڈیشنل آئی جی کراچی کے نوٹیفکیشن کے تحت ان تھانوں کے ایس ایچ او کوئی اور پولیس افسران تھے ، ایس پی کیماڑی آفس کے مطابق ایس ایچ او ماڑی پور چوہدری طفیل جبکہ ایس ایچ او موچکو خان نواز ہیں ۔




ذرائع نے بتایا کہ حساس ادارے کے ایک افسر کے کہنے پر ایڈیشنل آئی جی کراچی نے ایک خصوصی سیل بنا کرسب انسپکٹر شفیق تنولی کو اس کا انچارج تعینات کیا تھا ، کچھ عرصہ قبل ماڑی پور تھانے سے چند قدم کے فاصلے پر بنے اسپیڈ بریکر کے قریب زمین میں بم نصب کیا گیا تھا ، شفیق تنولی کی گاڑی جب اسپیڈ بریکر پر رکی تو بم پھٹ گیا تھا جس میں وہ بچ گئے تھے تاہم3 اہلکار زخمی ہوگئے تھے ، شفیق تنولی متعدد بار اپنے اوپر حملوں کے دعوے بھی کر چکے ہیں ، ذرائع نے بتایا کہ شفیق تنولی کی سیکیورٹی کیلیے سیکیورٹی زون ٹو کے9 اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا تاہم جمعہ کو ان کے بھائی پولیس کانسٹیبل رشید خان کا ایسٹ زون سے سیکیورٹی زون تبادلہ کردیا گیا تھا جس پر شفیق تنولی نے سیکیورٹی زون ٹوکے ایک پولیس افسر کو فون کر کے کھا تھا کہ رشید خان کی ایسٹ زون سے سیکیورٹی زون ٹو میں آمد کرنے کے بعد اس کی میری سیکیورٹی کے لیے روانگی ڈال دی جائے جس پر رشید خان کو بھی ان کی سیکیورٹی کے لیے روانہ کر دیا گیا تھا جبکہ ویسٹ زون کے بھی متعدد پولیس اہلکار غیر قانونی طور پر ان کے ساتھ بطور سیکیورٹی گارڈ رہتے تھے ، شفیق تنولی کے 3 لڑکے اور ایک لڑکی ہے ، جبکہ ان کا دوسرا گھر رابعہ سٹی میں بتایا جاتا ہے۔
Load Next Story