دہشت گرد اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں زرداری
دفاع کیلیے صرف ہتھیار کافی نہیں، معاشی ترقی، مضبوط سماج، قومی اتحاد ضروری ہے،جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹرز میں تقریب سے خطاب
راولپنڈی:یوم دفاع کے موقع پر صدر زرداری ،چیئرمین جوائنٹ چیفس اور سروسزچیفس قومی ترانہ سن رہے ہیں۔ فوٹو: آن لائن
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ملک کو انتہا پسندی، دہشت گردی اور فرقہ واریت کا سامنا ہے۔
دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں، انتہا پسندوں کے عزائم کو خاک میں ملا دیا جائیگا۔ دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔ جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹرز چکلالہ یوم دفاع کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا ہمیں 6 ستمبر1965کے جذبے کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم دہشت گردی کے خاتمے تک اس کے خلاف لڑیں گے۔6 ستمبر کا دن کبھی ہمارے ذہنوں سے اوجھل نہیں ہو سکتا، چھ ستمبر کو پاکستانی قوم نے مسلح افواج کی پشت پر کھڑے ہو کر بے مثال یکجہتی کا مظاہرہ کیا فوج کے جوانوں کی جرأت کو بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
یوم دفاع قوم کو اپنے محاسبے کا موقع فراہم کرتا ہے تاکہ اپنی توانائیوں کو قومی اتحاد اور ہم آہنگی کے فروغ کیلیے وقف کیاجا سکے۔ درست نصب العین، بے لوث جذبے اور مسلح افواج کے عزم و حوصلے کی بدولت قوم کے وجودکولاحق خطرات کا کامیابی سے مقابلہ کیا گیا۔ ہمارے فوجی افسروں اور جوانوں نے عوام کے ساتھ مل کر عسکریت پسندی کیخلاف جنگ میں ہیرو ازم اور بہادری کی بے مثال داستانیں رقم کی ہیں۔ یہ ان بہادر بیٹوں کوخراج عقیدت پیش کرنے کا موقع ہے جنہوں نے سوات، مالاکنڈ اور قبائلی علاقہ جات میں کامیابی سے عسکریت پسندی کو شکست دیتے ہوئے وطن عزیز کو اقوام عالم میں ممتاز کردیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایک بار پھر اس عزم کو دہراتے ہیں کہ ہر طرح کی دہشت گردی کو شکست دی جائے گی۔ چاہے ستمبر انیس سو پینسٹھ کی جنگ ہو، سیاچین ہو یا دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو ہر مشکل گھڑی میں ہمارے افسروں اور جوانوں نے جرات و بہادری کی تاریخ رقم کی ہے۔عوام کی مدد سے ہم ملک کودرپیش تمام چیلنجوں سے عہدہ برآہوںگے۔ آج ہمارادفاع پہلے سے کئی گنامضبوط ہے۔ موثر دفاع کیلیے صرف ہتھیارکافی نہیں بلکہ معاشی ترقی، مضبوط سماج اور قومی اتحاد ضروری ہیں۔ ترقی اور عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے کیلئے امن ضروری ہے لیکن ہم عزت کے ساتھ امن چاہتے ہیں۔
پاکستان نے خطے میں مذاکرات کا عمل شروع کیا ہے۔ مذاکرات کا مقصد کشمیر سمیت تمام دیرینہ تنازعات کا پرامن حل ہے۔ پاکستان باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر دوسرے ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے اور ہماری خواہش ہے کہ افغانستان اور خطے میں امن قائم ہو ایک پر امن اور مستحکم افغانستان ہمارے مفاد میں ہے۔ تقریب میں وفاقی وزراء، سروسز چیفس، غیر ملکی سفراء اور اعلیٰ فوجی و سول افسروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں، انتہا پسندوں کے عزائم کو خاک میں ملا دیا جائیگا۔ دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔ جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹرز چکلالہ یوم دفاع کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا ہمیں 6 ستمبر1965کے جذبے کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم دہشت گردی کے خاتمے تک اس کے خلاف لڑیں گے۔6 ستمبر کا دن کبھی ہمارے ذہنوں سے اوجھل نہیں ہو سکتا، چھ ستمبر کو پاکستانی قوم نے مسلح افواج کی پشت پر کھڑے ہو کر بے مثال یکجہتی کا مظاہرہ کیا فوج کے جوانوں کی جرأت کو بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
یوم دفاع قوم کو اپنے محاسبے کا موقع فراہم کرتا ہے تاکہ اپنی توانائیوں کو قومی اتحاد اور ہم آہنگی کے فروغ کیلیے وقف کیاجا سکے۔ درست نصب العین، بے لوث جذبے اور مسلح افواج کے عزم و حوصلے کی بدولت قوم کے وجودکولاحق خطرات کا کامیابی سے مقابلہ کیا گیا۔ ہمارے فوجی افسروں اور جوانوں نے عوام کے ساتھ مل کر عسکریت پسندی کیخلاف جنگ میں ہیرو ازم اور بہادری کی بے مثال داستانیں رقم کی ہیں۔ یہ ان بہادر بیٹوں کوخراج عقیدت پیش کرنے کا موقع ہے جنہوں نے سوات، مالاکنڈ اور قبائلی علاقہ جات میں کامیابی سے عسکریت پسندی کو شکست دیتے ہوئے وطن عزیز کو اقوام عالم میں ممتاز کردیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایک بار پھر اس عزم کو دہراتے ہیں کہ ہر طرح کی دہشت گردی کو شکست دی جائے گی۔ چاہے ستمبر انیس سو پینسٹھ کی جنگ ہو، سیاچین ہو یا دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو ہر مشکل گھڑی میں ہمارے افسروں اور جوانوں نے جرات و بہادری کی تاریخ رقم کی ہے۔عوام کی مدد سے ہم ملک کودرپیش تمام چیلنجوں سے عہدہ برآہوںگے۔ آج ہمارادفاع پہلے سے کئی گنامضبوط ہے۔ موثر دفاع کیلیے صرف ہتھیارکافی نہیں بلکہ معاشی ترقی، مضبوط سماج اور قومی اتحاد ضروری ہیں۔ ترقی اور عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے کیلئے امن ضروری ہے لیکن ہم عزت کے ساتھ امن چاہتے ہیں۔
پاکستان نے خطے میں مذاکرات کا عمل شروع کیا ہے۔ مذاکرات کا مقصد کشمیر سمیت تمام دیرینہ تنازعات کا پرامن حل ہے۔ پاکستان باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر دوسرے ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے اور ہماری خواہش ہے کہ افغانستان اور خطے میں امن قائم ہو ایک پر امن اور مستحکم افغانستان ہمارے مفاد میں ہے۔ تقریب میں وفاقی وزراء، سروسز چیفس، غیر ملکی سفراء اور اعلیٰ فوجی و سول افسروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔