ٹیسٹ میں زیادہ رنز چندرپال نے بورڈر کو پیچھے چھوڑ دیا
کیریئرکی 29 ویں سنچری سے ویسٹ انڈین اسٹار کا مجموعی اسکور11199 ہوگیا
ویسٹ انڈین بلے باز چندرپال ریکارڈ بنانے کے بعد اسٹیڈیم کی زمین چوم رہے ہیں۔فوٹو:ایس این پی اے
شیونرائن چندرپال نے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمینوں میں ایلن بورڈر کو پیچھے چھوڑدیا، ویسٹ انڈین اسٹار اب چھٹے نمبر پر آگئے۔
انھوں نے کیویزکیخلاف تیسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں ناقابل شکست122رنزکی صورت میں کیریئر کی29 ویں سنچری بنائی، یوں ان کے مجموعی ٹیسٹ رنز کی تعداد 11199 ہوگئی، یہ ان کے کیریئرکا 153واں میچ ہے، برائن لارا کے ساتھ کھیلتے ہوئے چندرپال کی 101 ٹیسٹ میچز میں اوسط 44.60 جبکہ اس کے بعد52 میچز میں 70 کے قریب رہی، ان کی مجموعی اوسط سردست 52.08 اور بہترین کاوش 203 ناٹ آئوٹ ہے۔ سابق آسٹریلوی قائد ایلن بورڈر نے مارچ 1994 میں ریٹائر ہونے سے قبل 156 ٹیسٹ میں 11174رنز بنائے تھے، حیرت انگیز طور پراسی وقت یعنی مارچ 1994 میں چندرپال نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغازکیا تھا، فہرست میں پانچویں نمبر پر لارا موجود ہیں، جنھوں نے131میچز میں 11953 رنز بنائے، چوتھی پوزیشن پر براجمان جنوبی افریقہ کے جیک کیلس اب تک 165 مقابلوں میں 13140رنز جوڑ چکے ہیں۔
ریٹائرڈ بھارتی بیٹسمین راہول ڈریوڈ 164 میچز میں 13288 رنز کے ساتھ تیسرے نمبر پر فائز ہیں، سابق آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ کو168 مقابلوں میں 13378 رنز نے دوسری پوزیشن کا حقدار بنا رکھا ہے، فہرست میں ٹاپ پوزیشن بھارتی ماسٹر بلاسٹر سچن ٹنڈولکر کے قبضے میں ہے، گذشتہ ماہ ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہنے والے بیٹسمین نے 200 میچز میں 15921 رنز بنائے، پاکستان کی جانب سے میانداد کے 8832 اور انضمام الحق کے 8830رنز نمایاں ہیں۔دریں اثنا چندرپال نے ناقابل شکست سنچریوں کے معاملے میں ٹنڈولکر کو پیچھے چھوڑدیا، یہ ان کی 17ویں ناٹ آئوٹ تھری فیگر اننگز ہے،بھارتی بیٹسمین 16 مرتبہ یہ اعزاز حاصل کرتے ہوئے ناقابل تسخیر رہے تھے۔
انھوں نے کیویزکیخلاف تیسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں ناقابل شکست122رنزکی صورت میں کیریئر کی29 ویں سنچری بنائی، یوں ان کے مجموعی ٹیسٹ رنز کی تعداد 11199 ہوگئی، یہ ان کے کیریئرکا 153واں میچ ہے، برائن لارا کے ساتھ کھیلتے ہوئے چندرپال کی 101 ٹیسٹ میچز میں اوسط 44.60 جبکہ اس کے بعد52 میچز میں 70 کے قریب رہی، ان کی مجموعی اوسط سردست 52.08 اور بہترین کاوش 203 ناٹ آئوٹ ہے۔ سابق آسٹریلوی قائد ایلن بورڈر نے مارچ 1994 میں ریٹائر ہونے سے قبل 156 ٹیسٹ میں 11174رنز بنائے تھے، حیرت انگیز طور پراسی وقت یعنی مارچ 1994 میں چندرپال نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغازکیا تھا، فہرست میں پانچویں نمبر پر لارا موجود ہیں، جنھوں نے131میچز میں 11953 رنز بنائے، چوتھی پوزیشن پر براجمان جنوبی افریقہ کے جیک کیلس اب تک 165 مقابلوں میں 13140رنز جوڑ چکے ہیں۔
ریٹائرڈ بھارتی بیٹسمین راہول ڈریوڈ 164 میچز میں 13288 رنز کے ساتھ تیسرے نمبر پر فائز ہیں، سابق آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ کو168 مقابلوں میں 13378 رنز نے دوسری پوزیشن کا حقدار بنا رکھا ہے، فہرست میں ٹاپ پوزیشن بھارتی ماسٹر بلاسٹر سچن ٹنڈولکر کے قبضے میں ہے، گذشتہ ماہ ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہنے والے بیٹسمین نے 200 میچز میں 15921 رنز بنائے، پاکستان کی جانب سے میانداد کے 8832 اور انضمام الحق کے 8830رنز نمایاں ہیں۔دریں اثنا چندرپال نے ناقابل شکست سنچریوں کے معاملے میں ٹنڈولکر کو پیچھے چھوڑدیا، یہ ان کی 17ویں ناٹ آئوٹ تھری فیگر اننگز ہے،بھارتی بیٹسمین 16 مرتبہ یہ اعزاز حاصل کرتے ہوئے ناقابل تسخیر رہے تھے۔