حکومت وژن سے کام لے

تلخ انداز گفتگو کا اشارہ اور اظہار دونوں طرف سے ہوا ہے، پورا ادب تخلیقی چشمک زنی سے معمور ہے۔

تلخ انداز گفتگو کا اشارہ اور اظہار دونوں طرف سے ہوا ہے، پورا ادب تخلیقی چشمک زنی سے معمور ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے رہنماؤں نے جناح باغ کراچی میں دوسرے بڑے جلسے سے خطاب کیا۔ عوام کے ایک جم غفیر میں شرکاء نے شعلہ بیانی کا جذباتی معیار دیکھا جوگوجرانوالہ جلسہ کے مساوی تھا۔

مولانا فضل الرحمان، مریم نواز، بلاول بھٹو ، سردار اختر مینگل، محمود خان اچکزئی اور محسن خان داوڑ نے ملکی سیاست کی تحلیل نفسی کی، حکومت کی ڈھائی سالہ کارکردگی کا جائزہ لیا، عوام کو درپیش مسائل کا حوالہ دیا، طرز حکمرانی کا سوال اٹھایا۔ اس سیاسی پاور پلے کی میزبانی بادی النظر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے حصے میں آئی۔

آج سے 13 سال پہلے بے نظیر دبئی سے کراچی کے لیے عازم سفر ہوئیں تو نصف شب کوکارساز سانحہ پیش آیا، کراچی لہو میں ڈوب گیا۔ سانحہ کارساز 18اکتوبر2007 کو پیش آیا تھا ، بے نظیرکے جلوس پر شب خون مارا گیا ، اس الم ناک واقعہ میں دو سو سے زائد پیپلزپارٹی کے پر جوش سیاسی کارکن اور رہنما جاں بحق جب کہ متعدد زخمی ہوئے،اس اعتبار سے پی ڈی ایم کا جلسہ کارساز سانحہ کی یاد میں منائی جانے والی برسی کی تقریب کے باعث دو آتشہ بن گیا۔

ہزاروں کا مجمع تھا، مریم نواز پی ڈی ایم کے جلسہ کے دن لاہور سے کراچی آنے کے لیے روانہ ہوئیں، مسلم لیگی کارکنوں اور رہنماؤں نے ان کا ایئرپورٹ پر، پرجوش استقبال کیا، وہ ایک ریلی کے ذریعے مزار قائد پہنچیں، پھولوں کی چادر چڑھائی، سندھ کے مختلف شہروں اور دیہات سے بوڑھی اور غریب خواتین کارکن بھی جلسہ گاہ میں موجود تھیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے سانحہ کار ساز کے غم کو پارٹی کی طاقت بنانے کا عہد کیا، مقررین نے کہا کہ یہ جنگ سیاسی جماعتوں کی نہیں ، غریبوں ،کسانوں اور تمام طبقات کی ہے۔

حکومتی وزراء نے انتباہ کیا کہ اپوزیشن کے کھیل سے نظام جاسکتا ہے،کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آسکتا، وہ پی ڈی ایم کی سیاسی تحریک کے پس پردہ بھارت کے ہاتھ کا عندیہ دے رہے تھے، ادھر سیاسی مبصرین اس انتباہ کے سیاق وسباق میں ایک ملفوف دھمکی کی چاپ سن رہے تھے۔

ان کا استدلال تھا کہ نظام کو کوئی خطرہ نہیں، سسٹم کہیں نہیں جارہا، سیاسی رازداروں کا کہنا تھا کہ حکمرانوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے جس کا کوئی جواز نہیں، اگر حکومتی بیانیہ کے مطابق اسٹیج پر موجود اپوزیشن رہنما بیروزگار سیاست دانوں کا مجمع ہے، یہ ٹھکرائے ہوئے یا نیب زدہ لوگ ہیں جن کے ساتھ عوام نہیں تو وہ ارباب اختیار سے سوال کررہے تھے کہ ان کے انداز نظر اور فکر کو اگر تسلیم کیا جائے تو ہزاروں کی تعداد میں کراچی کے جلسے میں شریک عوام کیا بقول ان کے ان ٹھکرائے ہوئے، چور، ڈاکو، لٹیروں اور ملک کو نوچنے والوں کو سننے کے لیے جمع ہوئے تھے؟

حقیقت یہ ہے کہ جلسے جلوس دنیا بھر میں سیاسی جماعتوں کا مسلمہ آئینی، قانونی و جمہوری حق تسلیم کیا جاتا ہے، اپوزیشن کو آئین نے حزب اقتدار کے مستقل احتساب، تعمیری تنقید اور نکتہ چینی کا جواز عطا کیا ہے، سیاسی اکابرین کے مطابق یہ اعصابی جنگ ہے، طبل جنگ کی للکار ہے، رزم جمہوریت ہے، سیاسی جماعتیں اپوزیشن میں ایک آئینی استحقاق کے ساتھ موجود ہیں کیونکہ جمہوریت کی گاڑی اپوزیشن کے بغیر آگے نہیں جا سکتی، اس سیاسی مجبوری کو پارلیمانی خیرسگالی اورکشادہ دلی سے ماننا ناگزیر ہے، یہ عوام کا پاورشو ہے، اسے برداشت کرنا حکومت کے لیے لازم ہے۔

سیاسی مبصرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جلسے تو ہوتے رہیں گے، اپوزیشن دو سال خاموش رہی، حکومت کو فری ہینڈ ملا ، اس عرصے میں حکومت پانسہ پلٹ دیتی، ملک میں تبدیلی لائی جاتی اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے اہم ترقیاتی پروگرام مرتب کیے جاتے ان کو مقررہ وقت میں شفافیت کے ساتھ مکمل کیا جاتا۔ ملک کے تمام سنجیدہ اور فہمیدہ مبصرین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اپنا کام تن دہی سے کررہی ہے، سیاسی اتحاد نے ایک سیاسی تحریک کے نام سے حکومت کی کارکردگی کو چیلنج کیا ہے اور جلسے اسی مقصد کو قانون کے مطابق آگے بڑھانے کا عمل ہے۔

اب حکومت کے لیے صائب راستہ جوابی وار کا یہ ہے کہ وہ سنجیدگی سے عمل کے میدان میں اپوزیشن کو پسپا کرے، حکومت بیت بازی اور الزام تراشی سے گریزکرے، اپنی ساری توانائی اپوزیشن کے جلسے جلوسوں کی مخالفت میں ضایع نہ کرے،کچھ ڈلیورکرے، بیان بازی اور تصادم کا راستہ اختیارکرنا مناسب حکمت عملی نہیں، سیاسی سواد اعظم کی رائے ہے کہ حکومت اپوزیشن کے جلسے جلوسوں سے کسی مخمصہ کا شکار نہ ہو۔

اس obsessionسے نکل آئے، فکری اور سیاسی انتشار پیدا کرے اور نہ اس خطرناک جال میں پھنسے، اس نے اپوزیشن کو انتہائی سیاسی کشادہ نظر سے جلسے کرنے کی آزادی دی ، بلکہ اسے دیگر جلسوں کی بھی اسی سیاسی بلوغت کے ساتھ اجازت دے دینی چاہیے، سسٹم کو اگر کوئی خطرہ ہے تو اس آزادی اظہار سے وہ خطرہ بھی ٹل سکتا ہے، جب کہ قدغن اور بندشوں سے حالات میں خرابی پیدا ہوسکتی ہے۔


حکومت اپنے وژن کو کام میں لائے اسلام آباد میں لیڈی ہیلتھ ورکرزکے مظاہرے اور دھرنے کی طرف توجہ دے جن کے کتنے دنوں سے مطالبات کو سننے کے لیے کوئی وفاقی وزیر ان سے ملنے نہیں آیا، یہ کہاں کی سیاست اورکون سے جمہوریت ہے جس میں پولیوکے خاتمہ کے لیے مہم پر مامور لیڈی ہیلتھ ورکرز کھلے آسمان تلے حکمرانوں سے رحم کی بھیک مانگ رہی ہیں، یہی رویہ مہنگائی اور روزگاری کے تناظر میں بھی قوم کے لیے سوہان روح بنا ہوا ہے، وزراء کا اپوزیشن کے جلسوں پر رد عمل دینا بلا ضرورت ہے۔

حکومتی ٹیم کا اولین فرض ہے کہ وہ وزیراعظم کو دباؤ سے نکالیں، عوام سے رابطہ کریں، مہنگائی کے سدباب کے لیے عملی اقدامات اور سبزی منڈیوں میں بیٹھکیں لگائیں، مڈل مینوں ، چینی اور گندم مافیا کو گردن سے پکڑیں، عوام کو یقین دلائیں کہ انھیں اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، وہ ٹی وی ٹاک اور تیسرے سیاسی جلسے کے لیے گولہ باری کا سامان جمع نہ کریں ،عوام کے معاشی مصائب کم کریں، بیروزگاری کے خاتمے کا روڈ میپ نکال کر سامنے آئیں، وزرا سیاسی بیت بازی اور جلسوں کا پوسٹ مارٹم کرنے کی مشقوں میں وقت ضایع کرنے کے بجائے حکومت کے اچھے کاموں کی تکمیل میں مدد دیں۔

اپوزیشن کو اپنا کام کرنے دیں ، وزراء ، معاونین خصوصی زندگی کے مختلف شعبوں کو پن پوائنٹ کرتے ہوئے ان میں جا کر ٹھوس اقدامات سے نتائج پیدا کریں، عوام کو ریلیف دینے کے لیے وزارتوں کے پاس جو فنڈز ہیں انھیں عوامی ثمرات کی فراہمی کے لیے فوری استعمال کریں، جو اپوزیشن نہیں کرسکتی وہ کام تو وزرا کرسکتے ہیں۔

حکومتی ٹیم اپوزیشن سے الگ رہتے ہوئے جو بریک تھروکرسکتی ہے وہ اس کا عملی مینڈیٹ ہے، عوام ایک اعصابی جنگ کے منظرنامہ کو دیکھ رہے ہیں، مگر ان کے معاشی، سیاسی اور سماجی حقوق حکمرانوں سے منسلک ہیں، حکومت اپوزیشن کے جنگی پلان کا حصہ بن کر سسٹم کو ریلیف اور مسائل کے حل کے میکنزم سے الگ نہیں رکھ سکتی، حکومت کو موجودہ صورتحال میں صحت،روزگار، غذائی ضروریات اور امن امان کے مسائل سمیت خطے کی صورتحال داخلی اور خارجہ پالیسیوں کے حساس ترین معاملات کو بھی وقت دینا پڑتا ہے، انارکی تو پیدا نہیں ہونی چاہیے۔

ریاستی ادارے حکمرانوں کی رہنمائی کے لیے تیار ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک جمہوری اور عملی لکیرکھینچ لیں، حکومت طے کرے کہ اسے اپوزیشن کی سیاسی جارحیت کا جواب عملی کام کی صورت میں دینا ہے یا اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی خود سری، خدارا ، اس انداز نظر پر خاک ڈالیے، جمہوری رویے اپناکر قوم کو ایک بڑے بحران سے بچایا جاسکتا ہے۔

سیاسی صورتحال ابھی بیان بازی کی شدت اور حکومت کو للکارنے کے ابتدئی دورانیے میں ہے، کراچی کے جلسے میں سیاست دانوں نے جذباتی باتوں اور سیاسی استعاروں میں کئی اہم باتیں بھی کی ہیں۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خطاب کے دوران شرکائے جلسہ کے ہجوم نے فلک شگاف ردعمل دیا۔ مریم نواز نے کہا کہ فوج ہم سب کی ہے، ان کی قربانیوں اور شہادتوں کا ذکرکرکے انھوں نے تلخ نوائی کا رخ موڑدیا ۔

سیاست دانوں سے اس بات کی توقع رکھنا شرط ہے کہ وقت بہت نازک ہے، احتیاط لازم ہے، گفتگو میں تدبر،شائستگی اور میانہ روی کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے، جمہوری رویہ کی جیت کا کوئی موقع ضایع نہیں جاتا ، یہ بات بھی سیاسی لہجے کی شستگی اور فصاحت میں شمار ہوگی، ریاست کے تمام اسٹیک ہولڈرز موجودہ حالات میںانتہائی دوراندیشی اور تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے نادان دوستوں سے بچیں۔ حکومت ہو یا اپوزیشن سب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ملکی معیشت کی کشتی ہچکولے کھا رہی ہے ۔ غریب عوام کی قوت خریدکمزور ہو گئی ہے۔

سوال یہ ہے کہ تلخ انداز گفتگو کا اشارہ اور اظہار دونوں طرف سے ہوا ہے، پورا ادب تخلیقی چشمک زنی سے معمور ہے۔ گفتگو اور عوامی تقاریر بعض اوقات حد اعتدال سے باہر ہوجاتی ہیں، نوبت ذاتیات تک پہنچ جاتی ہے، لیکن جمہوریت رواداری کا درس دیتی ہے۔غالب کا مشہورشعر ہے،

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ توکیا ہے

تم ہی کہو کہ یہ اندازگفتگو کیا ہے؟
Load Next Story