معیاری تعلیم ہی سندھ کو مضبوط بنا سکتی ہے نثار کھوڑو
اسکولوں میں مانیٹرنگ سسٹم بہتر بنا رہے ہیں،پرائمری تعلیم بنیاد ہے جسے مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، سندھ یونیورسٹی میں خطاب
حکومت سندھ تعلیم کے فروغ کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہے,سینئروزیرتعلیم سندھ،فوٹو:فائل
سندھ کے سینئر صوبائی وزیر تعلیم نثارکھوڑونے کہا ہے کہ معیاری تعلیم ہی سندھ کو مصِوط بنا سکتی ہے، بلدیاتی انتخابات شیڈول کے مطابق 18جنوری کو ہی ہوں گے۔
سندھ یونیورسٹی کے اکیڈمک کانووکیشن کی تقریب میں خطاب کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا مزیدکہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں نے بلدیاتی الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان نہیں کیا، اگر کیا بھی تو کوئی فرق نہیں پڑے گا،کیونکہ2001 میں ایم کیو ایم کے بائیکاٹ کے باوجود بلدیاتی الیکشن ہوئے تھے۔ پی پی سے الیکشن کے بائیکاٹ کی غلطی 1985 میں ایک بار ہوئی تھی، اس کے بعد ہم نے کسی بھی الیکشن کے بائیکاٹ کا سوچنا چھوڑ دیا۔انھوں نے کہا کہ اس سے قبل ڈکٹیٹر نے کسی بھی اسمبلی سے بل منظور کرائے بغیر بلدیاتی انتخابات کرائے، لیکن کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ یہ عوام کے منتخب نمائندوں کی اسمبلی ہے کسی آمر کا آفس نہیں کہ جو کہا جائے وہ ہوجائے۔ اکثریت کا حق استعمال کرتے ہوئے قانون میں جو مناسب ترمیم چاہتے تھے وہ کی ، لیکن عوام کی منتخب کردہ اسمبلی کے پاس کردہ قانون کو کسی آمر کا قانون کہنا مناسب نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بار جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی الیکشن ہونے جا رہے ہیں، جس کا کریڈٹ سندھ اسمبلی کو جاتا ہے اور اس میں پینل سسٹم متعارف کروایا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ عوام کو منتشر ہونے سے بچانا ہے۔ نثار کھوڑو نے کہا کہ حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کی کوشش کی جائے گی۔
حکومت سندھ تعلیم کے فروغ کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہے اور معیار تعلیم بڑھانے کے لیے اسکولوں میں مانیٹرنگ کا سسٹم بہتر بنا رہے ہیں۔ پرائمری تعلیم بنیاد ہے، جسے مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ سندھ کو مضبوط بنانے کے لیے معیاری تعلیم اشد ضروری ہے۔ سندھ میں اس وقت پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر میں 40 یونیورسٹیاں قائم ہو چکی ہیں۔ سندھ یونیوسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نذیر احمد مغل نے کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ اس کنووکیشن میں طالبات نے بڑی تعداد میں ڈگریاں اور میڈل حاصل کیے ۔
شہید بینظیر بھٹو کنونشن سینٹر کا تصور نثار احمد کھوڑو نے دیا اور اس کے لیے مالی امداد اور تعاون کیا۔ ڈاکٹرمغل نے کہا کہ سندھ یونیورسٹی نے دنیا کی 31 جامعات سے رابطے کے پروگرام شروع کیے ہیں۔ حال ہی میں چین کی3 بہترین یونیورسٹیوں سے تحقیق کے میدان میں معاہدہ کیا گیا۔ قبل ازیں صوبائی وزیر تعلیم نے کانووکیشن میں مجموعی طور پر بیچلرز اور ماسٹرز کرنے والے 675 امیدواروں کو ڈگریاں، 19 اسکالرز کو مختلف مضامین میں پی ایچ ڈی اور 5 کو ایم فل ڈگریاں دیں ۔
مختلف فکیلٹی میں ٹاپ کرنیوالے 13 طلبہ وطالبات کو چانسلرگولڈ میڈل ، شاندارکارکردگی پر6 طلبہ و طالبات کو یادگاری گولڈ میڈل اور مختلف شعبوں میں پوزیشن ہولڈر 79 امیدواروں کو وائس چانسلر سلور میڈل دیے گئے۔ نامور اسکالرز ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ اور محمد ابراہیم جویو کو ان کی علمی اور ادبی خدمات پر اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں بھی دی گئیں۔ کانووکیشن میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو ان کی تعلیمی خدمات پر گولڈ میڈل دینے کا اعلان کیا گیا، جب کہ تعلیمی اور تحقیقی خدمات پر صوبائی وزیر تعلیم نثار احمد کھوڑو، وائس چانسلر ڈاکٹر نذیر احمد مغل، منظور احمد سومرو، ڈاکٹر امداد علی اسماعیلی، ڈاکٹر نعیم طارق ناریجو، ڈاکٹر پرویز احمد پٹھان، بشیر احمد شیخ، محمد قاسم ماکا کو، جب کہ جامعہ کے ورکر محمد الیاس سومرو کو 40 سالہ خدمات پر گولڈ میڈل دیے گئے۔
ڈین اسٹوڈنٹس افیئر ڈاکٹر اسد علی شیخ، ڈائریکٹر انٹرنیشنل لنکیجز ڈاکٹر سراج الحق کاندھڑو، رینجرس آفیسر جاوید احمد اور پولیس آفیسر محمد خان برہمانی کو ان کی خدمات پر تعریفی سرٹیفکیٹ دیے گئے۔ بیچلرز ڈگری پروگرام 2014 کے تحت ٹاپ اسکور حاصل کرنے والے طلباء مس معصومہ بتول کو دس ہزار جبکہ عبدالرزاق اور آصف علی شیخ کو پانچ پانچ ہزار روپے نقد انعام دیا گیا۔
سندھ یونیورسٹی کے اکیڈمک کانووکیشن کی تقریب میں خطاب کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا مزیدکہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں نے بلدیاتی الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان نہیں کیا، اگر کیا بھی تو کوئی فرق نہیں پڑے گا،کیونکہ2001 میں ایم کیو ایم کے بائیکاٹ کے باوجود بلدیاتی الیکشن ہوئے تھے۔ پی پی سے الیکشن کے بائیکاٹ کی غلطی 1985 میں ایک بار ہوئی تھی، اس کے بعد ہم نے کسی بھی الیکشن کے بائیکاٹ کا سوچنا چھوڑ دیا۔انھوں نے کہا کہ اس سے قبل ڈکٹیٹر نے کسی بھی اسمبلی سے بل منظور کرائے بغیر بلدیاتی انتخابات کرائے، لیکن کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ یہ عوام کے منتخب نمائندوں کی اسمبلی ہے کسی آمر کا آفس نہیں کہ جو کہا جائے وہ ہوجائے۔ اکثریت کا حق استعمال کرتے ہوئے قانون میں جو مناسب ترمیم چاہتے تھے وہ کی ، لیکن عوام کی منتخب کردہ اسمبلی کے پاس کردہ قانون کو کسی آمر کا قانون کہنا مناسب نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بار جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی الیکشن ہونے جا رہے ہیں، جس کا کریڈٹ سندھ اسمبلی کو جاتا ہے اور اس میں پینل سسٹم متعارف کروایا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ عوام کو منتشر ہونے سے بچانا ہے۔ نثار کھوڑو نے کہا کہ حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کی کوشش کی جائے گی۔
حکومت سندھ تعلیم کے فروغ کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہے اور معیار تعلیم بڑھانے کے لیے اسکولوں میں مانیٹرنگ کا سسٹم بہتر بنا رہے ہیں۔ پرائمری تعلیم بنیاد ہے، جسے مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ سندھ کو مضبوط بنانے کے لیے معیاری تعلیم اشد ضروری ہے۔ سندھ میں اس وقت پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر میں 40 یونیورسٹیاں قائم ہو چکی ہیں۔ سندھ یونیوسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نذیر احمد مغل نے کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ اس کنووکیشن میں طالبات نے بڑی تعداد میں ڈگریاں اور میڈل حاصل کیے ۔
شہید بینظیر بھٹو کنونشن سینٹر کا تصور نثار احمد کھوڑو نے دیا اور اس کے لیے مالی امداد اور تعاون کیا۔ ڈاکٹرمغل نے کہا کہ سندھ یونیورسٹی نے دنیا کی 31 جامعات سے رابطے کے پروگرام شروع کیے ہیں۔ حال ہی میں چین کی3 بہترین یونیورسٹیوں سے تحقیق کے میدان میں معاہدہ کیا گیا۔ قبل ازیں صوبائی وزیر تعلیم نے کانووکیشن میں مجموعی طور پر بیچلرز اور ماسٹرز کرنے والے 675 امیدواروں کو ڈگریاں، 19 اسکالرز کو مختلف مضامین میں پی ایچ ڈی اور 5 کو ایم فل ڈگریاں دیں ۔
مختلف فکیلٹی میں ٹاپ کرنیوالے 13 طلبہ وطالبات کو چانسلرگولڈ میڈل ، شاندارکارکردگی پر6 طلبہ و طالبات کو یادگاری گولڈ میڈل اور مختلف شعبوں میں پوزیشن ہولڈر 79 امیدواروں کو وائس چانسلر سلور میڈل دیے گئے۔ نامور اسکالرز ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ اور محمد ابراہیم جویو کو ان کی علمی اور ادبی خدمات پر اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں بھی دی گئیں۔ کانووکیشن میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو ان کی تعلیمی خدمات پر گولڈ میڈل دینے کا اعلان کیا گیا، جب کہ تعلیمی اور تحقیقی خدمات پر صوبائی وزیر تعلیم نثار احمد کھوڑو، وائس چانسلر ڈاکٹر نذیر احمد مغل، منظور احمد سومرو، ڈاکٹر امداد علی اسماعیلی، ڈاکٹر نعیم طارق ناریجو، ڈاکٹر پرویز احمد پٹھان، بشیر احمد شیخ، محمد قاسم ماکا کو، جب کہ جامعہ کے ورکر محمد الیاس سومرو کو 40 سالہ خدمات پر گولڈ میڈل دیے گئے۔
ڈین اسٹوڈنٹس افیئر ڈاکٹر اسد علی شیخ، ڈائریکٹر انٹرنیشنل لنکیجز ڈاکٹر سراج الحق کاندھڑو، رینجرس آفیسر جاوید احمد اور پولیس آفیسر محمد خان برہمانی کو ان کی خدمات پر تعریفی سرٹیفکیٹ دیے گئے۔ بیچلرز ڈگری پروگرام 2014 کے تحت ٹاپ اسکور حاصل کرنے والے طلباء مس معصومہ بتول کو دس ہزار جبکہ عبدالرزاق اور آصف علی شیخ کو پانچ پانچ ہزار روپے نقد انعام دیا گیا۔