سردی کی شدت میں اضافہ شہریوں نے گرم کپڑے نکال لیے

سوئیٹر،جیکٹس اورمفلر کی خریداری میں تیزی، چائے،یخنی وکارن سوپ کے اسٹالوں پر رش،خشک میوہ جات کی فروخت میں اضافہ

بدھ سے سردی کی لہر آنے کا امکان،دسمبر کا آخری عشرہ تا15جنوری تک درجہ حرارت میں کمی وبیشی رہے گی،محکمہ موسمیات فوٹو : ایکسپریس / فائل

شہر میں موسم سرما کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے،ہفتہ کوسردی کی شدت میں شدید اضافہ ہوا اور درجہ حرارت 8.6ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا،محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق کراچی سمیت اندرون سندھ میں سردی کی شدت 36تا 48گھنٹوں تک محسوس کی جائے گی۔

اس کے بعد اس کا زور ٹوٹ جائے گا،بدھ سے سردی کی نئی لہر آنے کا امکان ہے،دسمبر کا آخری عشرہ تا 15جنوری تک درجہ حرارت میں اسی طرح کمی وبیشی رہے گی، تفصیلات کے مطابق ملک میں شمال مغرب سے آنے والی سائیبرین سرد ہوائوں کے باعث سردی کی شدت شمالی علاقہ جات اور بلوچستان کے پہاڑی علاقوں میں زور پکڑ چکی ہے اور اس کے اثرات رواں ہفتے سے بالائی اور زیریں سندھ میں نمایاں ہوچکے ہیں، گزشتہ دنوں کوئٹہ اور اطراف کے پہاڑی علاقوں میں ہلکی برفباری سے کراچی اور اندرون سندھ میں بتدریج سردی میں اضافہ ہوا، کراچی میں جمعرات کوکم سے کم درجہ حرارت 17.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ، جمعہ کو 11.5ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، ہفتہ کو اچانک سرد ہوائیں چلنے کے باعث درجہ حرارت رواں ہفتے کے مقابلے میں 8ڈگری سینٹی گریڈ کم ہوا اور درجہ حرارت اسکیل پر8.6ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق اتوار کو کم سے کم درجہ حرارت8تا 10ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔

چیف میٹرولوجسٹ توصیف عالم نے بتایا کہ رواں ہفتہ موسم معتدل رہا ،کم سے کم درجہ حرارت معمول کے مطابق 17 تا 18ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہا تاہم ہفتہ کو درجہ حرارت 8.6ڈگری سینٹی گریڈ تک گرگیا جس کے بعد سردی کا باقاعدہ آغاز ان علاقوں میں ہوگیا ہے ۔




انھوں نے کہا کہ کراچی اور اندرون سندھ میں 10سے کم ڈگری سینٹی گریڈ سردی کا عروج ہوتا ہے جو دسمبر کے آخری عشرے سے 15جنوری تک رہتا ہے، توصیف عالم نے بتایا کہ کراچی میں سردی کی تازہ لہر پیر تک جاری رہنے کا امکان ہے اس کے بعد منگل کو سردی کا زور کم ہوجائے گا اور درجہ حرارت 10تا 12ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔

انھوں نے کہا کہ کوئٹہ اور قلات ودیگر اطراف کے علاقوں میں آئندہ 36گھنٹوں میں سردی کی نئی لہر آنے کا امکان ہے جس کے اثرات کراچی اور اندرون سندھ میں دو دن کے بعد پہنچیں گے، توصیف عالم نے کہا کہ کراچی میںبدھ سے دوبارہ سردی کی نئی لہر آنے کا امکان ہے، شہر میں سردی کی شدت میں اضافے کے بعد سے شہریوں نے گرم کپڑے ، کمبل لحاف استمعال کرنا شروع کردیے ہیں، لنڈا بازار اوردیگر مارکیٹوں میں سوئیٹر، جیکٹس ، مفلر اور دیگر گرم ملبوسات کی خریداری میں بھی اضافہ ہوگیا ہے، سردی میںشدت کے ساتھ ہی مونگ پھلی اور دیگر خشک میوہ جات کی مانگ میں بھی اضافہ ہوگیا ہے جبکہ چائے، یخنی اور کارن سوپ کے اسٹالوںپر بھی رات گئے تک لوگوں کا رش دیکھنے میںآرہا ہے، محکمہ موسمیات کے متعلقہ افسر کے مطابق ملک کی آزادی سے قبل کراچی میں ریکارڈ ترین سردی 21جنوری 1934کو پڑی جب درجہ حرارت نقطہ انجماد کو پہنچ گیا اور صفر ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا،1947کے بعد کراچی کا سرد ترین دن 14دسمبر 1986تھا جب درجہ حرارت1.3ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
Load Next Story