فرانس نے کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کی
صدارتی پلیٹ فارم کو صدر میکرون متعصبانہ خیالات اور اسلاموفوبیاکے لیے استعمال کررہے ہیں۔
صدارتی پلیٹ فارم کو صدر میکرون متعصبانہ خیالات اور اسلاموفوبیاکے لیے استعمال کررہے ہیں۔ فوٹو: فائل
فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کے اسلام مخالف بیان کے خلاف سینیٹ،قومی اسمبلی اور کے پی اسمبلی میں مذمتی قرارداد کو اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا جب کہ پنجاب اور سندھ اسمبلیوں میں مذمتی قراردادیں جمع کرا دی گئیں، دفترخارجہ نے فرانس کے سفیر کو طلب کر کے شدید احتجاج کیا اور احتجاجی مراسلہ سفیر کے حوالے کیا،سینیٹ میں مذمتی قرارداد قائد ایوان نے پیش کی۔
چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ قراردادکی کاپی پاکستان میں تعینات فرانسیسی سفیرکے حوالے کی جائے،جماعت اسلامی کے امیر و سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ فرانسیسی سفیرکوملک سے نکالنا چاہیے، پاکستان کوفرانسیسی مصنوعات کابائیکاٹ کرناچاہیے،چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ یہ کسی جماعت کا نہیں ہم سب کا مشترکہ مسئلہ ہے معاملے پر ایوان میں متفقہ قرار داد پیش کی جائے ۔
حقیقت یہ ہے کہ میکرون نہ صرف تاریخی ، فکری اور اظہاررائے کی آزادی کے سیاق وسباق میں فرانس کی تہذیبی اور فلسفیانہ روایت سے انحراف کیا ہے بلکہ وہ روسو، برٹرینڈ رسل، ژاں پال سارتر ، میکالے، فوکالٹ، رینے ڈیکارٹ،آگسٹ کومٹے، تاکویل اور سولہویں صدی کی نشاۃ ثانیہ کے علمی اور روشن خیالی کے ورثہ کی بھی توہین کررہے ہیں جو آزادی،انقلاب اور انسان دوستی کی متاع بے بہا سے عبارت ہے۔
مغرب کے ایک قلم کار جیمز میکالے نے کہا کہ صدر ایمانویل میکرون فرانسیسی سسٹم کے اندر مضمرتعصبات سے نمٹنے کے بجائے اسلام کی اصلاح پرکیوں کمربستہ نظر آتے ہیں، دوسری طرف فرانسیسی صدر عالم اسلام میں عالمگیر اضطراب کا باعث بنے ہیں، انھیں فلسفیوں کے اس ملک میں رہتے ہوئے اس حقیقت کا اندازہ نہیں کہ مسلمان اپنے پیارے نبیﷺ کی شان میں گستاخی کا تصور بھی نہیں کرسکتے چہ جائیکہ ان کی دلآزاری کی جائے۔
صدارتی پلیٹ فارم کو صدر میکرون متعصبانہ خیالات اور اسلاموفوبیاکے لیے استعمال کررہے ہیں تاہم اب جب کہ میکرون نے عالم اسلام کی غضبناکی کے سیل رواں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں، وقت کا تقاضہ ہے کہ یورپی یونین ، مغرب کے دانشور، عالمی اسکالر اور مذہبی مورخین صدر فرانس کو خبردار کریں کہ وہ دنیا کو تعصب ، نفرت، انتہاپسندی اور انسان دشمنی کی طرف نہ دھکیلیں، مذہبی تحمل کا مظاہرہ کریں، شان رسالت میں گستاخی کے سنگین مضمرات کا ادراک کریں کیونکہ اسلام کی آفاقیت کو ان کی خود ساختہ اصلاح پسندی کی ضرورت نہیں، وہ اپنے گمراہ کن و غلط انداز فکر کی فوری اصلاح کریں جس سے فرانس ہی نہیں عالمی امن کو سنگین خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے کہا کہ مسلمانوں کے لیے نبی کریمﷺ کی حرمت ہر چیز سے بڑھ کر ہے، اس معاملے پر سفارتی اور سیاسی جواب دینا بھی ضروری ہے،وزیر مملکت علی محمد خا ن نے کہا کہ فرانس کے عوام کی اکثریت صدر میکرون کی حامی نہیں ۔خواجہ آصف نے فرانس میں ہونے والی گستاخیوں پر اپوزیشن کی جانب سے مشترکہ قرارداد پیش کرتے ہوئے فی الفور اپنا سفیر واپس بلانے کا مطالبہ کیا ، اسلام مخالف بیان پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایک مرتبہ پھر فرانسیسی صدر کے حوالے سے سخت لب ولہجہ اختیار کیا جب کہ مختلف مسلم ممالک میں فرانس کے بائیکاٹ کا بھی مطالبہ کررہے ہیں۔
فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی ایک مرتبہ پھر تشہیر پر کویت میں سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے،کویت کی غیر سرکاری صارفین کوآپریٹو سوسائٹیز کی یونین نے فرانسیسی اشیا کے بائیکاٹ کے لیے ایک باضابطہ سرکلر جاری کیا جس پر دکانداروں نے اپنی دکانوں اور سپراسٹورز سے فرانسیسی کمپنیوں کی اشیا کو شیلفوں سے ہٹا دیا ہے،ادھر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے خلیجی ممالک سے بائیکاٹ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
عالمی میڈیا بھی اس بات پر بحث کررہا ہے کہ فرانسیسی صدر کو مسلمانان عالم کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کا کوئی حق نہیں، فرانسیسی معاشرہ بلاشبہ اپنی تاریخ سے کٹا ہوا ہے، دنیا میں دہشت گردی نفرت اور تعصبات کی بارودی سرنگیں بچھا رہی ہے، لہٰذا اہل فرانس پر لازم ہے کہ وہ صدر میکرون کو مہم جوئی سے باز رکھیں، دنیا کا ہر جمہوری آئین ، نظام اقدار اور انسان دوست معاشرہ اس ریاست میں رہتے ہوئے شہریوں کے مذہبی جذبات کے احترام کا درس دیتا ہے جب کہ اسلام امن کا داعی ہے ، انصاف اور انسان دوستی کا علمبردار ہے۔ مغربی دنیا کے علم میں ہے کہ گستاخانہ خاکوں سے مسلمانوں کے جذبات ماضی میں بھی شدید مجروح ہوئے اور اس کا شدید ردعمل ہوا تھا اس لیے مغرب کے لیے صائب طرز فکر یہ ہے کہ پیغمبراسلام اور محسن انسانیت کے احترام میں ہرزہ سرائی کا سلسلہ بند کرے اور مسلمانوں کی دل آزاری بند کرنے کی آفاقی اپیل پر سنجیدگی سے عمل کرے۔
چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ قراردادکی کاپی پاکستان میں تعینات فرانسیسی سفیرکے حوالے کی جائے،جماعت اسلامی کے امیر و سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ فرانسیسی سفیرکوملک سے نکالنا چاہیے، پاکستان کوفرانسیسی مصنوعات کابائیکاٹ کرناچاہیے،چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ یہ کسی جماعت کا نہیں ہم سب کا مشترکہ مسئلہ ہے معاملے پر ایوان میں متفقہ قرار داد پیش کی جائے ۔
حقیقت یہ ہے کہ میکرون نہ صرف تاریخی ، فکری اور اظہاررائے کی آزادی کے سیاق وسباق میں فرانس کی تہذیبی اور فلسفیانہ روایت سے انحراف کیا ہے بلکہ وہ روسو، برٹرینڈ رسل، ژاں پال سارتر ، میکالے، فوکالٹ، رینے ڈیکارٹ،آگسٹ کومٹے، تاکویل اور سولہویں صدی کی نشاۃ ثانیہ کے علمی اور روشن خیالی کے ورثہ کی بھی توہین کررہے ہیں جو آزادی،انقلاب اور انسان دوستی کی متاع بے بہا سے عبارت ہے۔
مغرب کے ایک قلم کار جیمز میکالے نے کہا کہ صدر ایمانویل میکرون فرانسیسی سسٹم کے اندر مضمرتعصبات سے نمٹنے کے بجائے اسلام کی اصلاح پرکیوں کمربستہ نظر آتے ہیں، دوسری طرف فرانسیسی صدر عالم اسلام میں عالمگیر اضطراب کا باعث بنے ہیں، انھیں فلسفیوں کے اس ملک میں رہتے ہوئے اس حقیقت کا اندازہ نہیں کہ مسلمان اپنے پیارے نبیﷺ کی شان میں گستاخی کا تصور بھی نہیں کرسکتے چہ جائیکہ ان کی دلآزاری کی جائے۔
صدارتی پلیٹ فارم کو صدر میکرون متعصبانہ خیالات اور اسلاموفوبیاکے لیے استعمال کررہے ہیں تاہم اب جب کہ میکرون نے عالم اسلام کی غضبناکی کے سیل رواں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں، وقت کا تقاضہ ہے کہ یورپی یونین ، مغرب کے دانشور، عالمی اسکالر اور مذہبی مورخین صدر فرانس کو خبردار کریں کہ وہ دنیا کو تعصب ، نفرت، انتہاپسندی اور انسان دشمنی کی طرف نہ دھکیلیں، مذہبی تحمل کا مظاہرہ کریں، شان رسالت میں گستاخی کے سنگین مضمرات کا ادراک کریں کیونکہ اسلام کی آفاقیت کو ان کی خود ساختہ اصلاح پسندی کی ضرورت نہیں، وہ اپنے گمراہ کن و غلط انداز فکر کی فوری اصلاح کریں جس سے فرانس ہی نہیں عالمی امن کو سنگین خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے کہا کہ مسلمانوں کے لیے نبی کریمﷺ کی حرمت ہر چیز سے بڑھ کر ہے، اس معاملے پر سفارتی اور سیاسی جواب دینا بھی ضروری ہے،وزیر مملکت علی محمد خا ن نے کہا کہ فرانس کے عوام کی اکثریت صدر میکرون کی حامی نہیں ۔خواجہ آصف نے فرانس میں ہونے والی گستاخیوں پر اپوزیشن کی جانب سے مشترکہ قرارداد پیش کرتے ہوئے فی الفور اپنا سفیر واپس بلانے کا مطالبہ کیا ، اسلام مخالف بیان پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایک مرتبہ پھر فرانسیسی صدر کے حوالے سے سخت لب ولہجہ اختیار کیا جب کہ مختلف مسلم ممالک میں فرانس کے بائیکاٹ کا بھی مطالبہ کررہے ہیں۔
فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی ایک مرتبہ پھر تشہیر پر کویت میں سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے،کویت کی غیر سرکاری صارفین کوآپریٹو سوسائٹیز کی یونین نے فرانسیسی اشیا کے بائیکاٹ کے لیے ایک باضابطہ سرکلر جاری کیا جس پر دکانداروں نے اپنی دکانوں اور سپراسٹورز سے فرانسیسی کمپنیوں کی اشیا کو شیلفوں سے ہٹا دیا ہے،ادھر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے خلیجی ممالک سے بائیکاٹ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
عالمی میڈیا بھی اس بات پر بحث کررہا ہے کہ فرانسیسی صدر کو مسلمانان عالم کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کا کوئی حق نہیں، فرانسیسی معاشرہ بلاشبہ اپنی تاریخ سے کٹا ہوا ہے، دنیا میں دہشت گردی نفرت اور تعصبات کی بارودی سرنگیں بچھا رہی ہے، لہٰذا اہل فرانس پر لازم ہے کہ وہ صدر میکرون کو مہم جوئی سے باز رکھیں، دنیا کا ہر جمہوری آئین ، نظام اقدار اور انسان دوست معاشرہ اس ریاست میں رہتے ہوئے شہریوں کے مذہبی جذبات کے احترام کا درس دیتا ہے جب کہ اسلام امن کا داعی ہے ، انصاف اور انسان دوستی کا علمبردار ہے۔ مغربی دنیا کے علم میں ہے کہ گستاخانہ خاکوں سے مسلمانوں کے جذبات ماضی میں بھی شدید مجروح ہوئے اور اس کا شدید ردعمل ہوا تھا اس لیے مغرب کے لیے صائب طرز فکر یہ ہے کہ پیغمبراسلام اور محسن انسانیت کے احترام میں ہرزہ سرائی کا سلسلہ بند کرے اور مسلمانوں کی دل آزاری بند کرنے کی آفاقی اپیل پر سنجیدگی سے عمل کرے۔