ہماری پالیسی ایڈ نہیں ٹریڈ ہے معاشی استحکام کیلیے اصلاحات ناگزیر ہیں وفاقی وزیر خزانہ
مالی خسارہ4 فیصد کرینگے، 4سال میں 8 ہزار میگا واٹ سستی بجلی پیدا کی جائیگی، اسحاق ڈار، میڈیا سے گفتگو
3سالہ پروگرام مرتب،حکومتی اخراجات 134 ارب روپے کم کردیے،مالی خسارہ4 فیصد کرینگے، 4سال میں 8 ہزار میگا واٹ سستی بجلی پیدا کی جائیگی، اسحاق ڈار، میڈیا سے گفتگو۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ملک میں معاشی استحکام کیلیے اصلاحات کرنا ناگزیر ہے۔
ہم نے معاشی استحکام کیلیے تین سالہ پروگرام ترتیب دیا ہے، مالی خسارے کو بتدریج کم کر کے چار فیصد تک لایا جائیگا۔ ہماری معاشی پالیسی ایڈ نہیں بلکہ ٹریڈ ہے۔ ہم نے حکومت میں آ کر حکومتی اخراجات میں 134 ارب روپے کی کمی کی ہے۔ آئندہ چار سالوں میں 8 ہزار میگا واٹ مزید سستی بجلی پیدا کرینگے۔ ہم نے آئی ایم ایف سے قرضہ پرانے قرضے کی ادائیگی کیلیے لیا ہے، آئی ایم ایف پروگرام کے بعد پاکستان کے بین الاقوامی تشخص میں بہتری آئی ہے۔
اتوار کو لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے آئی ایم ایف سے قرضہ پچھلی حکومت کے 8 ارب ڈالر کے لیے گئے قرضے کی واپسی کیلیے لیا مگر آئی ایم ایف پروگرام کے بعد پاکستان کے بین الاقوامی تشخص میں بہتری آئی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا پاکستانی معیشت پر اعتماد بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس سے برآمدات میں اضافے سے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں بھی مدد ملے گی اور ہم امریکی منڈیوں میں بھی رسائی میں اضافے کی کوششیں کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم قرضہ اسکیم سے اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا اور ملک کی ترقی میں ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
ہم نے معاشی استحکام کیلیے تین سالہ پروگرام ترتیب دیا ہے، مالی خسارے کو بتدریج کم کر کے چار فیصد تک لایا جائیگا۔ ہماری معاشی پالیسی ایڈ نہیں بلکہ ٹریڈ ہے۔ ہم نے حکومت میں آ کر حکومتی اخراجات میں 134 ارب روپے کی کمی کی ہے۔ آئندہ چار سالوں میں 8 ہزار میگا واٹ مزید سستی بجلی پیدا کرینگے۔ ہم نے آئی ایم ایف سے قرضہ پرانے قرضے کی ادائیگی کیلیے لیا ہے، آئی ایم ایف پروگرام کے بعد پاکستان کے بین الاقوامی تشخص میں بہتری آئی ہے۔
اتوار کو لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے آئی ایم ایف سے قرضہ پچھلی حکومت کے 8 ارب ڈالر کے لیے گئے قرضے کی واپسی کیلیے لیا مگر آئی ایم ایف پروگرام کے بعد پاکستان کے بین الاقوامی تشخص میں بہتری آئی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا پاکستانی معیشت پر اعتماد بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس سے برآمدات میں اضافے سے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں بھی مدد ملے گی اور ہم امریکی منڈیوں میں بھی رسائی میں اضافے کی کوششیں کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم قرضہ اسکیم سے اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا اور ملک کی ترقی میں ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔