کینسر کے مریضوں کے اعداد و شمار اکٹھے کیے جائیں ای این ٹی کانگریس کا اعلامیہ
ناک کان گلے کی بیماریوںکے خاتمے کے لیے سارک ممالک کے ماہرین صحت ویڈیوکانفرنسنگ کا اہتمام کریںگے ،ماہرین طب کی تجاویز
کانگریس میں 250 سے زائدتحقیقی مقالے پیش کیے گئے،ورکشاپس میں بہرے پن کا جدید طریقہ علاج اور ڈاکٹروں کو اسپیچ تھراپی کی تربیت دی گئی۔ فوٹو: فائل
کراچی میں سارک ای این ٹی سرجنزکانگریس کے ماہرین نے کہا ہے سارک ممالک کے ماہرین خطے میں موجود ناک کان گلے کی بیماریوں کے خاتمے کیلیے ویڈیو کانفرنسنگ کا اہتمام کریںگے تاکہ ٹیلی مواصلات کے نظام سے مریضوںکی مشکلات کا حل نکالاجائے اور ان مریضوں کو بروقت علاج کی جدید طبی سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔
پاکستان میںکینسرکے مریضوںکیلیے اعدادوشماراکٹھے کرنے کیلیے سرکاری سطح پرکینسر رجسٹری تشکیل دی جائے، سارک ممالک کے تعلقات میں سرد مہری کے باوجود ماہرین ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرتے رہیںگے، شعبہ طب میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تبادلہ کیا جائے تاکہ جنوبی ایشیا سے بیماریوںکاخاتمہ ہوسکے،ان خیالات کا اظہارگزشتہ روزماہرین طب نے کراچی میں 3 روزہ سارک ای این ٹی سرجنز کانگریس کے اختتام پر اعلامیے میں کیا ،این ٹی سرجنزکانگریس میں امریکی ڈاکٹر نادر اور ڈاکٹرشارق جلیسی، بنگلہ دیشی ڈاکٹر زلرحمان، برطانوی ڈاکٹر شاہد،ایرانی ڈاکٹر علی رضاسمیت نیپال، سری لنکا، بھوٹان اور مصر کے ماہرین طب نے شرکت کی،کانگریس میں 250 سے زائد تحقیقی مقالے پیش کیے گئے،کانگریس کی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر طارق رفیع ، سیکریٹری پروفسر عمر فاروق، ڈاکٹر سمیر قریشی ، ڈاکٹر محمد عثمان نے بتایاکہ تین روزہ کانگریس جدید تحقیق پر اہم مقالے پیش کیے گئے اور ناک، کان اور گلے کی سرجری کے جدید طریقہ علاج سے آگاہ کیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان میںکینسرکے اعداد وشمار جاری کرنے کیلیے سرکاری سطح پر کوئی ادارہ موجود نہیں جس کی وجہ سے کینسر کے مریضوں کی درست تعداد معلوم نہیں کی جاسکتی صرف اندازے سے مریضوں کے اعداد وشمار جاری کیے جاتے ہیں ، ڈیٹا موجود ہونے سے علاج میں غیر ضروری اخراجات سے بھی مریضوں کو بچایا جاسکتا ہے،پروفیسر طارق رفیع نے بتایا کہ نیپال، بھارت ، بھوٹا، سری لنکا، بنگلہ دیش ، امریکا، برطانیہ اور مصر سے آنے والے ای این ٹی سرجنز نے پاکستان میں جونیئر ڈاکٹروںکوکوکلیئر امپلانٹ، بہرے پن کے علاج کے جدید طریقہ علاج سے بھی آگاہی فراہم کی اور مختلف ورکشاپس کے ذریعے اسپیچ تھراپی میں بھی تربیت دی گئی ان کا کہنا تھا کہ سارک ممالک کے ماہرین سے نئے ڈاکٹروں نے استفادہ حاصل کیا،کانگریس میں ناک کان اورگلے کے شعبہ سے وابستہ سارک ممالک سے 1200 سے زائد ڈاکٹروں، پروفیسرز اورسرجنز جبکہ دنیا بھر سے 20ای این ٹی سرجنز بھی شرکت کی،کانگریس میں سارک ممالک کے شرکا کو ایک دوسرے کے تجربات سے استفادے کا بہترین موقع ملا۔
پاکستان میںکینسرکے مریضوںکیلیے اعدادوشماراکٹھے کرنے کیلیے سرکاری سطح پرکینسر رجسٹری تشکیل دی جائے، سارک ممالک کے تعلقات میں سرد مہری کے باوجود ماہرین ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرتے رہیںگے، شعبہ طب میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تبادلہ کیا جائے تاکہ جنوبی ایشیا سے بیماریوںکاخاتمہ ہوسکے،ان خیالات کا اظہارگزشتہ روزماہرین طب نے کراچی میں 3 روزہ سارک ای این ٹی سرجنز کانگریس کے اختتام پر اعلامیے میں کیا ،این ٹی سرجنزکانگریس میں امریکی ڈاکٹر نادر اور ڈاکٹرشارق جلیسی، بنگلہ دیشی ڈاکٹر زلرحمان، برطانوی ڈاکٹر شاہد،ایرانی ڈاکٹر علی رضاسمیت نیپال، سری لنکا، بھوٹان اور مصر کے ماہرین طب نے شرکت کی،کانگریس میں 250 سے زائد تحقیقی مقالے پیش کیے گئے،کانگریس کی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر طارق رفیع ، سیکریٹری پروفسر عمر فاروق، ڈاکٹر سمیر قریشی ، ڈاکٹر محمد عثمان نے بتایاکہ تین روزہ کانگریس جدید تحقیق پر اہم مقالے پیش کیے گئے اور ناک، کان اور گلے کی سرجری کے جدید طریقہ علاج سے آگاہ کیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان میںکینسرکے اعداد وشمار جاری کرنے کیلیے سرکاری سطح پر کوئی ادارہ موجود نہیں جس کی وجہ سے کینسر کے مریضوں کی درست تعداد معلوم نہیں کی جاسکتی صرف اندازے سے مریضوں کے اعداد وشمار جاری کیے جاتے ہیں ، ڈیٹا موجود ہونے سے علاج میں غیر ضروری اخراجات سے بھی مریضوں کو بچایا جاسکتا ہے،پروفیسر طارق رفیع نے بتایا کہ نیپال، بھارت ، بھوٹا، سری لنکا، بنگلہ دیش ، امریکا، برطانیہ اور مصر سے آنے والے ای این ٹی سرجنز نے پاکستان میں جونیئر ڈاکٹروںکوکوکلیئر امپلانٹ، بہرے پن کے علاج کے جدید طریقہ علاج سے بھی آگاہی فراہم کی اور مختلف ورکشاپس کے ذریعے اسپیچ تھراپی میں بھی تربیت دی گئی ان کا کہنا تھا کہ سارک ممالک کے ماہرین سے نئے ڈاکٹروں نے استفادہ حاصل کیا،کانگریس میں ناک کان اورگلے کے شعبہ سے وابستہ سارک ممالک سے 1200 سے زائد ڈاکٹروں، پروفیسرز اورسرجنز جبکہ دنیا بھر سے 20ای این ٹی سرجنز بھی شرکت کی،کانگریس میں سارک ممالک کے شرکا کو ایک دوسرے کے تجربات سے استفادے کا بہترین موقع ملا۔