جیل چورنگی فلائی اوور کی تکمیل کیلے زمین مل گئی ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ
رئوف اختر فاروقی نے لوپ پر جاری ترقیاتی کاموں اور سینٹرل جیل کا معائنہ کیا.
جیل کی دیوار 12 فٹ اونچی اور شیڈز لگائے جائیں گے،رئوف اختر فاروقی نے لوپ پر جاری ترقیاتی کاموں اور سینٹرل جیل کا معائنہ کیا فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر رؤف اختر فاروقی نے کہا ہے کہ جیل چورنگی فلائی اوور کے رائٹ وے لوپ اور منسلکہ سڑک کیلیے آئی جی جیل خانہ جات نے جگہ مہیا کردی ہے لہٰذا اب اس کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے زیر تعمیر لوپ اور منسلکہ سڑک کی کارپیٹنگ کاکام تیزی سے جاری ہے اور یہ منصوبہ اب تکمیل کے مراحل میں ہے۔
یہ بات انھوں نے یونیورسٹی روڈ کی طرف آنے والے جیل چورنگی فلائی اوور کے لوپ پر جاری ترقیاتی کام کا جائزہ لیتے ہوئے اور آئی جی جیل خانہ جات کے دفتر کی عمارت کا معائنہ کرتے ہوئے کہی اس موقع پر آئی جی جیل خانہ جات سندھ نصرت حسین مگن، پروجیکٹ ڈائریکٹر شبیہ الحسن ، انجینئر تنویراحمد، پرجیکٹ انجینئر ان کے ہمراہ تھے، ایڈمنسٹریٹر بلدیہ کراچی نے کہا کہ جیل چورنگی فلائی اوور کا رائٹ وے لوپ اور منسلکہ سڑک کیلیے سینٹرل جیل کی انتظامیہ نے جگہ فراہم کی ہے اور یہاں سے منتقل ہونے والی جیل کے عملے کی رہائش کیلیے بلدیہ عظمیٰ کراچی نے رہائشی اپارٹمنٹس کی تعمیر پہلے ہی مکمل کرلی ہے ،اب آئی جی جیل خانہ جات کے دفتر کی تعمیر کاکام بھی تکمیل کے مراحل میں ہے اس موقع پر ایک بریفنگ میں بتایا گیا کہ سینٹرل جیل کی بائونڈری وال کو12 فٹ اونچا کیا جارہا ہے جس پر4 فٹ اوپر سے شیڈز لگائے جائیں گے۔
ایڈمنسٹریٹر کراچی نے سینٹرل جیل کراچی میں بچوں اور خواتین کی جیل کا بھی دورہ کیا اور وہاں قیدی بچوں اور خواتین کو دی گئی سہولیات کو سراہا انھوں نے ہدایت کی کہ جیل چورنگی سے یونیورسٹی روڈ تک آنے والے جیل چورنگی فلائی اوور کے لوپ اور سروس روڈ کی تعمیر جلد از جلد مکمل کی جائے اور بجلی کے پول بھی بلاتاخیر لگائے جائیں تاکہ شہریوں کا یہ دیرینہ مسئلہ حل ہو جیل چورنگی فلائی اوور کے منصوبے کی تکمیل سے سینٹرل جیل کے اطراف اور یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کی روانی میں بہتری آئے گی اور ٹریفک جام کے مسئلے پر قابو پایا جاسکے گا، اس اہم انٹر سیکشن سے نیو ایم اے جناح روڈ، شہید ملت روڈ، یونیورسٹی روڈ استعمال کرنے والی گاڑیاں گزرتی ہیں خصوصاً رش کے اوقات میں یہاں بے پناہ ٹریفک کا دبائو دیکھنے میں آتا ہے اس لیے جیل چورنگی فلائی اوور کے باقی ماندہ کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جانا ضروری ہے جس سے شہریوں کو سہولت حاصل ہوگی اور ان کے قیمتی وقت اور ایندھن کی بچت ہوگی۔
بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر رؤف اختر فاروقی نے کہا ہے کہ جیل چورنگی فلائی اوور کے رائٹ وے لوپ اور منسلکہ سڑک کیلیے آئی جی جیل خانہ جات نے جگہ مہیا کردی ہے لہٰذا اب اس کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے زیر تعمیر لوپ اور منسلکہ سڑک کی کارپیٹنگ کاکام تیزی سے جاری ہے اور یہ منصوبہ اب تکمیل کے مراحل میں ہے۔
یہ بات انھوں نے یونیورسٹی روڈ کی طرف آنے والے جیل چورنگی فلائی اوور کے لوپ پر جاری ترقیاتی کام کا جائزہ لیتے ہوئے اور آئی جی جیل خانہ جات کے دفتر کی عمارت کا معائنہ کرتے ہوئے کہی اس موقع پر آئی جی جیل خانہ جات سندھ نصرت حسین مگن، پروجیکٹ ڈائریکٹر شبیہ الحسن ، انجینئر تنویراحمد، پرجیکٹ انجینئر ان کے ہمراہ تھے، ایڈمنسٹریٹر بلدیہ کراچی نے کہا کہ جیل چورنگی فلائی اوور کا رائٹ وے لوپ اور منسلکہ سڑک کیلیے سینٹرل جیل کی انتظامیہ نے جگہ فراہم کی ہے اور یہاں سے منتقل ہونے والی جیل کے عملے کی رہائش کیلیے بلدیہ عظمیٰ کراچی نے رہائشی اپارٹمنٹس کی تعمیر پہلے ہی مکمل کرلی ہے ،اب آئی جی جیل خانہ جات کے دفتر کی تعمیر کاکام بھی تکمیل کے مراحل میں ہے اس موقع پر ایک بریفنگ میں بتایا گیا کہ سینٹرل جیل کی بائونڈری وال کو12 فٹ اونچا کیا جارہا ہے جس پر4 فٹ اوپر سے شیڈز لگائے جائیں گے۔
ایڈمنسٹریٹر کراچی نے سینٹرل جیل کراچی میں بچوں اور خواتین کی جیل کا بھی دورہ کیا اور وہاں قیدی بچوں اور خواتین کو دی گئی سہولیات کو سراہا انھوں نے ہدایت کی کہ جیل چورنگی سے یونیورسٹی روڈ تک آنے والے جیل چورنگی فلائی اوور کے لوپ اور سروس روڈ کی تعمیر جلد از جلد مکمل کی جائے اور بجلی کے پول بھی بلاتاخیر لگائے جائیں تاکہ شہریوں کا یہ دیرینہ مسئلہ حل ہو جیل چورنگی فلائی اوور کے منصوبے کی تکمیل سے سینٹرل جیل کے اطراف اور یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کی روانی میں بہتری آئے گی اور ٹریفک جام کے مسئلے پر قابو پایا جاسکے گا، اس اہم انٹر سیکشن سے نیو ایم اے جناح روڈ، شہید ملت روڈ، یونیورسٹی روڈ استعمال کرنے والی گاڑیاں گزرتی ہیں خصوصاً رش کے اوقات میں یہاں بے پناہ ٹریفک کا دبائو دیکھنے میں آتا ہے اس لیے جیل چورنگی فلائی اوور کے باقی ماندہ کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جانا ضروری ہے جس سے شہریوں کو سہولت حاصل ہوگی اور ان کے قیمتی وقت اور ایندھن کی بچت ہوگی۔