کورونا معاشی و سیاسی صورتحال
پیداشدہ صورتحال میں ضرورت ایک اتفاق رائے اورگراں قدر افہام وتفہیم کی ہے، حکومت احتساب کا عمل جاری رکھے۔
پیداشدہ صورتحال میں ضرورت ایک اتفاق رائے اورگراں قدر افہام وتفہیم کی ہے، حکومت احتساب کا عمل جاری رکھے۔ فوٹو، فائل
وزیراعظم عمران خان نے قومی رابطہ کمیٹی برائے کووڈ 19 کا اجلاس گزشتہ روز طلب کرلیا، جس میں اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں ملک میں کورونا کیسزکا جائزہ لیا گیا، تعلیمی اداروں کی بندش، ایس او پیز پر عمل درآمد سمیت اہم معاملات زیر غورآئے۔ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کوکورونا وائرس کی تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے این سی او سی میں کئی آپشن زیرغور ہیں۔ مختلف تجاویز این سی او سی کے آیندہ اجلاس میں پیش کی جائیں گی، معیشت میں رکاوٹ ڈالے بغیرکورونا کی روک تھام کے لیے مزید اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔
محسوس ہوتا ہے فطرت کی تعزیریں ختم ہونے کو تیار نہیں، کورونا وائرس کی دوسری لہر کی سفاکی کی گھن گرج عوام کے کانوں میں آ رہی ہیں، فرنٹ لائن پر کورونا سے نمٹنے والی ٹیم، وزارت صحت، وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کو خبردارکر رہی ہیں کہ وبا دوسری مرتبہ پھیلاؤکے لیے پر تول رہی ہے، فعال کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، ہلاکتیں بڑھتی جا رہی ہیں، ڈاکٹروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپتالوں پر دباؤ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وبا سے بہ حسن وخوبی نمٹنے کی حکومتی صائب اور ماہرانہ کوششیں اپنے انجام کو پہنچ چکیں، اب آزمائشوں کا دوسرا دورانیہ سر پر آ گیا ہے۔
اس لیے احتیاط کی اشد ضرورت ہے، عوام ایس او پیز، سماجی فاصلے اور رش کے مقامات سے بچیں، اس بحث میں نہ پڑیں کہ کورونا ہے یا نہیں، جو مسئلہ حقیقت بن کر قومی عزم کو للکار رہا ہے وہ ایک ضدی جرثومہ ہے جس کی ابھی تک کوئی ویکسین نہیں بنی ۔ دنیا کے طاقتور اور مضبوط صحت سسٹم کے دعویدار ہلاکتوں سے تنگ آ چکے، امریکا، بھارت، فرانس، برطانیہ اور دنیا کے ترقی یافتہ اور قابل تقلید صحت مراکز بے بس ہیں۔
پاکستان کوعالمی ادارہ صحت کے سربراہوں سے کورونا سے بچاؤکے لیے موثر اقدامات پر جو تعریفی پیغامات اور اعترافی اسناد ملیں اب ان کو ایک طرف رکھ کر قوم کو ایک نئے مائنڈ سیٹ کے ساتھ وائرس سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہے۔
وائرس کے تیور خطرناک لگتے ہیں، عوام سخت الجھن میں ہیں،کورونا کی اذیت ایک انفرادی بیماری کی نہیں، بلکہ اس وبا کے ساتھ ملک کے لاکھوں ،کروڑوں لوگ بھوک، بیروزگاری، مہنگائی اور بدحالی کے سمندر میں غرق ہو چکے ہیں، دوسری طرف کورونا فاتحانہ اندازسے قدم بڑھاتا چلا آ رہا ہے اور اہل وطن کی یہ حالت ہے کہ انھیںکثیر جہتی سیاسی بے سمتی، محاذ آرائی، معاشی مجبوری اور خطے کی ہولناک صورتحال نے اندیشہ ہائے دور دراز میں الجھا دیا ہے۔ کورونا وائرس کے لبوں پر مسکراہٹ ہے اور یہ کہتے ہوئے ہمارے صحت انفرااسٹرکچر پر خندہ زن ہے کہ:
یوں تو آنے کوکئی بار ادھر آیا ہوں
اب کے اے دوست بہ اند ازِِ دگر آیا ہوں
میڈیا کے مطابق کورونا وائرس سے مزید 9 افراد انتقال کر گئے، جس سے کل اموات 6841 ہو گئیں۔ 1056نئے مریض سامنے آنے کے بعد مصدقہ کیسز کی تعداد بڑھ کر 3 لاکھ 35 ہزار 729 ہو گئی جن میں سے 3 لاکھ 15 ہزار 314 صحتیاب ہو چکے ہیں، فعال کیسز کی تعداد 13574ہو گئی۔ کورونا پھیلاؤ کے پیش نظر پنجاب بھر میں884 مقامات پر اسمارٹ لاک ڈاؤن لگا دیاگیا۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق پنجاب میں ایک لاکھ 4 ہزار 554، سندھ ایک لاکھ46 ہزار 774، خیبرپختونخوا 39 ہزار 749، بلوچستان15ہزار 954، اسلام آباد 20ہزار 89، گلگت بلتستان4279 اور آزاد کشمیر میں 4330 مریض رپورٹ ہو چکے ہیں۔ یاد رہے گزشتہ روز ملک میں کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح چار فیصد سے زائد رہی، اسلام آباد میں مزید152نئے کیسز سامنے آئے، سینیٹ کے 20 سے زائد ملازمین میں کورونا کی تصدیق ہو گئی، سینیٹ حکام کا قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں، مہمانوں کی آمد اور اسٹاف کے داخلے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے حتمی منظوری چیئرمین سینیٹ دینگے۔
پنجاب میں283 نئے مریض رپورٹ ہوئے، لاہور میں116، راولپنڈی37، وہاڑی5، بہاولپور 33، بھکر2، خوشاب4 اور ملتان میں31 کیسزسامنے آئے، سرگودھا 10، مظفرگڑھ5، سیالکوٹ2، گوجرانوالہ 2، اٹک5 ، خانیوال 3،ٹوبہ 7 اور فیصل آباد میں 7کیسز رپورٹ ہوئے، ساہیوال 2، حافظ آباد2، ڈیرہ غازی خان 6جب کہ چنیوٹ، ننکانہ، قصوراور رحیم یارخان میں ایک ایک کیس سامنے آیا، پنجاب میں مزید تین مریض دم توڑ گئے، کل اموات2,365 ہو چکی ہیں۔97,471 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں 100نئے کیسز رپورٹ ہوئے ایک مریض جاں بحق ہوگیا۔
صوبے کے تمام اسپتالوں کو کورونا کی دوسری لہر کے حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی مشتاق احمد غنی نے اسمبلی سیکریٹریٹ میں ہر قسم کے ملاقاتیوں اور پبلک ڈے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ آزاد کشمیر کے ضلع میرپور میں41 نئے کیس رپورٹ ہوئے۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ میں 443 نئے کیسز سامنے آئے، دو مریض انتقال کر گئے، مثبت کیسزکی شرح 4.5 فیصد ہو گئی۔ مزید 195مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔ حیدر آباد کے سول اسپتال میں ڈاکٹر سمیت دو افراد کورونا سے چل بسے۔ کورونا پھیلاؤکے پیش نظر حکومت نے پنجاب کے36 اضلاع میں884 مقامات پر اسمارٹ لاک ڈاؤن لگا دیا۔ تین ہزار8سو 32 لوگوں کو قرنطینہ کیاگیا ہے، سب سے زیادہ لاہور میں398مقامات کو لاک ڈاؤن میں رکھا گیا ہے جہاں 1266قرنطینہ میں ہیں، کراچی میں ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سخی حسن پر واقع موبائل مارکیٹ کو سیل کردیا گیا۔
لاہور میں نجی یونیورسٹی کے کیمپس کو ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے پر سیل کردیا گیا۔ ننکانہ صاحب میں گورونانک ڈگری کالج برائے خواتین کی6 طالبات میں وائرس کی تصدیق ہوگئی،کالج بند کر دیا گیا۔ جامعہ زکریا ملتان میں پانچ طلبہ، ایک ٹیچر ، ڈپٹی رجسٹرار، اور چار ملازمین میں کوروناکی تصدیق ہو گئی۔
کورونا کیسز نکلنے پر اسلام آباد میں ایک کالج، چار اسکول، اوگی میں ڈگری کالج دربند، ایبٹ آباد میں چار اسکول، گلگت کے ضلع غذر میں آٹھ نجی اسکول بندکر دیے گئے۔ پشاور میں فوڈ اسٹریٹ نمک منڈی میںکئی ریسٹورنٹس سیل کر دیے گئے۔ حیدرآباد میں پانچ اساتذہ اور بینک افسر میں کورونا کی تصدیق کے بعد چار لوئر سیکنڈری اسکولز، ایک پرائمری اسکول اور بینک کی برانچ کو سیل کردیا گیا ہے۔
یہ کورونا کی درد انگیز صورتحال کا جائزہ ہے مگر تصویرکا دوسرا رخ اس سے کم تشویش ناک نہیں، اور یہ معیشت کی کتھا ہے جو ملکی سلامتی ،سیاسی استحکام اور عوام کی آسودگی اور خوشحالی کے تصور اور حقیقی منزل کے مابین سینہ بہ سینہ چل رہی ہے۔
عوام ، حکمراں اور سیاست دان اس کہانی کے اہم کردار ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ ایک مضبوط ومستحکم جمہوری نظام کے ہونے یا نہ ہونے کی کشمکش میں قوم کے اعصاب پر جو دھچکے لگتے ہیں وہ کورونا، معیشت اور 22 کروڑ عوام کی فکری، جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی صورتحال کے ہیں مثلاً یہ خبر بھی کسی صدمہ سے کم نہیں کہ موجودہ حکومت کے دو برسوں میں پاور سیکٹرکا گردشی قرضہ1139ارب روپے اضافے کے ساتھ 2300 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ رانا تنویر حسین کی زیرصدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں سیکریٹری توانائی نے انکشاف کیا کہ گزشتہ3 ماہ میں گردشی قرضہ 116 ارب روپے بڑھا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا حکومت نے 4 بار بجلی مہنگی کی۔ گردشی قرضہ مصیبت بنا ہوا ہے۔
آڈٹ حکام نے بتایا کہ مالی سال 2019کے دوران 280ارب جب کہ مالی سال 2020کے دوران 410ارب روپے کم ریکوریاںہوئیں۔بلوچستان حکومت کے ذمے 283ارب روپے واجب الادا ہیں۔ وفاق سبسڈیزکے پیسے نہیں ادا کرتا۔ سیکریٹری توانائی نے بتایا کہ 31دسمبر 2018 کو گردشی قرضہ 1.415کھرب تھا، اس میں جون 2018سے 288ارب کا اضافہ ہوا۔ جنوری سے جون 2019تک 198ارب، اگلے چھ ماہ میں 243ارب جب کہ اس سے اگلے چھ ماہ میں جون 2020 تک 294ارب کا اضافہ ہوا ۔ گردشی قرضوں کی کئی وجوہات ہیں۔
بہرحال پیداشدہ صورتحال میں ضرورت ایک اتفاق رائے اورگراں قدر افہام وتفہیم کی ہے، حکومت احتساب کا عمل جاری رکھے لیکن سسٹم کو جو خطرات لاحق ہیں، دشمن دن رات قومی سلامتی کو جن گھناؤنے عزائم کے ساتھ چیلنج کررہا ہے اس میں سیاسی اسٹیک ہولڈرزکی ذمے داری کیا بنتی ہے، ملک وقوم کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے، اس ایک سوال پر حکومت اور اپوزیشن آج کی سیاسی لڑائی بند کریں۔
قوم خبردار کررہی ہے کہ ہمیں 1258 جیسے سقوط بغداد کی تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہیے جب ہلاکو خوں آشام یلغار کے لیے فیصلہ کن گھڑی کا منتظر تھا اور ہمارے اہل فکر ونظر اندرونی خلفشار اور بحث وتکرار میں مصروف تھے۔ یہ روح عصر کی صدا ہے ، تاریخ دان ابن خلدون کہتا ہے۔ ہمیں آنکھیں کھول لینی چاہئیں۔
اجلاس میں ملک میں کورونا کیسزکا جائزہ لیا گیا، تعلیمی اداروں کی بندش، ایس او پیز پر عمل درآمد سمیت اہم معاملات زیر غورآئے۔ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کوکورونا وائرس کی تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے این سی او سی میں کئی آپشن زیرغور ہیں۔ مختلف تجاویز این سی او سی کے آیندہ اجلاس میں پیش کی جائیں گی، معیشت میں رکاوٹ ڈالے بغیرکورونا کی روک تھام کے لیے مزید اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔
محسوس ہوتا ہے فطرت کی تعزیریں ختم ہونے کو تیار نہیں، کورونا وائرس کی دوسری لہر کی سفاکی کی گھن گرج عوام کے کانوں میں آ رہی ہیں، فرنٹ لائن پر کورونا سے نمٹنے والی ٹیم، وزارت صحت، وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کو خبردارکر رہی ہیں کہ وبا دوسری مرتبہ پھیلاؤکے لیے پر تول رہی ہے، فعال کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، ہلاکتیں بڑھتی جا رہی ہیں، ڈاکٹروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپتالوں پر دباؤ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وبا سے بہ حسن وخوبی نمٹنے کی حکومتی صائب اور ماہرانہ کوششیں اپنے انجام کو پہنچ چکیں، اب آزمائشوں کا دوسرا دورانیہ سر پر آ گیا ہے۔
اس لیے احتیاط کی اشد ضرورت ہے، عوام ایس او پیز، سماجی فاصلے اور رش کے مقامات سے بچیں، اس بحث میں نہ پڑیں کہ کورونا ہے یا نہیں، جو مسئلہ حقیقت بن کر قومی عزم کو للکار رہا ہے وہ ایک ضدی جرثومہ ہے جس کی ابھی تک کوئی ویکسین نہیں بنی ۔ دنیا کے طاقتور اور مضبوط صحت سسٹم کے دعویدار ہلاکتوں سے تنگ آ چکے، امریکا، بھارت، فرانس، برطانیہ اور دنیا کے ترقی یافتہ اور قابل تقلید صحت مراکز بے بس ہیں۔
پاکستان کوعالمی ادارہ صحت کے سربراہوں سے کورونا سے بچاؤکے لیے موثر اقدامات پر جو تعریفی پیغامات اور اعترافی اسناد ملیں اب ان کو ایک طرف رکھ کر قوم کو ایک نئے مائنڈ سیٹ کے ساتھ وائرس سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہے۔
وائرس کے تیور خطرناک لگتے ہیں، عوام سخت الجھن میں ہیں،کورونا کی اذیت ایک انفرادی بیماری کی نہیں، بلکہ اس وبا کے ساتھ ملک کے لاکھوں ،کروڑوں لوگ بھوک، بیروزگاری، مہنگائی اور بدحالی کے سمندر میں غرق ہو چکے ہیں، دوسری طرف کورونا فاتحانہ اندازسے قدم بڑھاتا چلا آ رہا ہے اور اہل وطن کی یہ حالت ہے کہ انھیںکثیر جہتی سیاسی بے سمتی، محاذ آرائی، معاشی مجبوری اور خطے کی ہولناک صورتحال نے اندیشہ ہائے دور دراز میں الجھا دیا ہے۔ کورونا وائرس کے لبوں پر مسکراہٹ ہے اور یہ کہتے ہوئے ہمارے صحت انفرااسٹرکچر پر خندہ زن ہے کہ:
یوں تو آنے کوکئی بار ادھر آیا ہوں
اب کے اے دوست بہ اند ازِِ دگر آیا ہوں
میڈیا کے مطابق کورونا وائرس سے مزید 9 افراد انتقال کر گئے، جس سے کل اموات 6841 ہو گئیں۔ 1056نئے مریض سامنے آنے کے بعد مصدقہ کیسز کی تعداد بڑھ کر 3 لاکھ 35 ہزار 729 ہو گئی جن میں سے 3 لاکھ 15 ہزار 314 صحتیاب ہو چکے ہیں، فعال کیسز کی تعداد 13574ہو گئی۔ کورونا پھیلاؤ کے پیش نظر پنجاب بھر میں884 مقامات پر اسمارٹ لاک ڈاؤن لگا دیاگیا۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق پنجاب میں ایک لاکھ 4 ہزار 554، سندھ ایک لاکھ46 ہزار 774، خیبرپختونخوا 39 ہزار 749، بلوچستان15ہزار 954، اسلام آباد 20ہزار 89، گلگت بلتستان4279 اور آزاد کشمیر میں 4330 مریض رپورٹ ہو چکے ہیں۔ یاد رہے گزشتہ روز ملک میں کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح چار فیصد سے زائد رہی، اسلام آباد میں مزید152نئے کیسز سامنے آئے، سینیٹ کے 20 سے زائد ملازمین میں کورونا کی تصدیق ہو گئی، سینیٹ حکام کا قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں، مہمانوں کی آمد اور اسٹاف کے داخلے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے حتمی منظوری چیئرمین سینیٹ دینگے۔
پنجاب میں283 نئے مریض رپورٹ ہوئے، لاہور میں116، راولپنڈی37، وہاڑی5، بہاولپور 33، بھکر2، خوشاب4 اور ملتان میں31 کیسزسامنے آئے، سرگودھا 10، مظفرگڑھ5، سیالکوٹ2، گوجرانوالہ 2، اٹک5 ، خانیوال 3،ٹوبہ 7 اور فیصل آباد میں 7کیسز رپورٹ ہوئے، ساہیوال 2، حافظ آباد2، ڈیرہ غازی خان 6جب کہ چنیوٹ، ننکانہ، قصوراور رحیم یارخان میں ایک ایک کیس سامنے آیا، پنجاب میں مزید تین مریض دم توڑ گئے، کل اموات2,365 ہو چکی ہیں۔97,471 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں 100نئے کیسز رپورٹ ہوئے ایک مریض جاں بحق ہوگیا۔
صوبے کے تمام اسپتالوں کو کورونا کی دوسری لہر کے حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی مشتاق احمد غنی نے اسمبلی سیکریٹریٹ میں ہر قسم کے ملاقاتیوں اور پبلک ڈے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ آزاد کشمیر کے ضلع میرپور میں41 نئے کیس رپورٹ ہوئے۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ میں 443 نئے کیسز سامنے آئے، دو مریض انتقال کر گئے، مثبت کیسزکی شرح 4.5 فیصد ہو گئی۔ مزید 195مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔ حیدر آباد کے سول اسپتال میں ڈاکٹر سمیت دو افراد کورونا سے چل بسے۔ کورونا پھیلاؤکے پیش نظر حکومت نے پنجاب کے36 اضلاع میں884 مقامات پر اسمارٹ لاک ڈاؤن لگا دیا۔ تین ہزار8سو 32 لوگوں کو قرنطینہ کیاگیا ہے، سب سے زیادہ لاہور میں398مقامات کو لاک ڈاؤن میں رکھا گیا ہے جہاں 1266قرنطینہ میں ہیں، کراچی میں ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سخی حسن پر واقع موبائل مارکیٹ کو سیل کردیا گیا۔
لاہور میں نجی یونیورسٹی کے کیمپس کو ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے پر سیل کردیا گیا۔ ننکانہ صاحب میں گورونانک ڈگری کالج برائے خواتین کی6 طالبات میں وائرس کی تصدیق ہوگئی،کالج بند کر دیا گیا۔ جامعہ زکریا ملتان میں پانچ طلبہ، ایک ٹیچر ، ڈپٹی رجسٹرار، اور چار ملازمین میں کوروناکی تصدیق ہو گئی۔
کورونا کیسز نکلنے پر اسلام آباد میں ایک کالج، چار اسکول، اوگی میں ڈگری کالج دربند، ایبٹ آباد میں چار اسکول، گلگت کے ضلع غذر میں آٹھ نجی اسکول بندکر دیے گئے۔ پشاور میں فوڈ اسٹریٹ نمک منڈی میںکئی ریسٹورنٹس سیل کر دیے گئے۔ حیدرآباد میں پانچ اساتذہ اور بینک افسر میں کورونا کی تصدیق کے بعد چار لوئر سیکنڈری اسکولز، ایک پرائمری اسکول اور بینک کی برانچ کو سیل کردیا گیا ہے۔
یہ کورونا کی درد انگیز صورتحال کا جائزہ ہے مگر تصویرکا دوسرا رخ اس سے کم تشویش ناک نہیں، اور یہ معیشت کی کتھا ہے جو ملکی سلامتی ،سیاسی استحکام اور عوام کی آسودگی اور خوشحالی کے تصور اور حقیقی منزل کے مابین سینہ بہ سینہ چل رہی ہے۔
عوام ، حکمراں اور سیاست دان اس کہانی کے اہم کردار ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ ایک مضبوط ومستحکم جمہوری نظام کے ہونے یا نہ ہونے کی کشمکش میں قوم کے اعصاب پر جو دھچکے لگتے ہیں وہ کورونا، معیشت اور 22 کروڑ عوام کی فکری، جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی صورتحال کے ہیں مثلاً یہ خبر بھی کسی صدمہ سے کم نہیں کہ موجودہ حکومت کے دو برسوں میں پاور سیکٹرکا گردشی قرضہ1139ارب روپے اضافے کے ساتھ 2300 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ رانا تنویر حسین کی زیرصدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں سیکریٹری توانائی نے انکشاف کیا کہ گزشتہ3 ماہ میں گردشی قرضہ 116 ارب روپے بڑھا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا حکومت نے 4 بار بجلی مہنگی کی۔ گردشی قرضہ مصیبت بنا ہوا ہے۔
آڈٹ حکام نے بتایا کہ مالی سال 2019کے دوران 280ارب جب کہ مالی سال 2020کے دوران 410ارب روپے کم ریکوریاںہوئیں۔بلوچستان حکومت کے ذمے 283ارب روپے واجب الادا ہیں۔ وفاق سبسڈیزکے پیسے نہیں ادا کرتا۔ سیکریٹری توانائی نے بتایا کہ 31دسمبر 2018 کو گردشی قرضہ 1.415کھرب تھا، اس میں جون 2018سے 288ارب کا اضافہ ہوا۔ جنوری سے جون 2019تک 198ارب، اگلے چھ ماہ میں 243ارب جب کہ اس سے اگلے چھ ماہ میں جون 2020 تک 294ارب کا اضافہ ہوا ۔ گردشی قرضوں کی کئی وجوہات ہیں۔
بہرحال پیداشدہ صورتحال میں ضرورت ایک اتفاق رائے اورگراں قدر افہام وتفہیم کی ہے، حکومت احتساب کا عمل جاری رکھے لیکن سسٹم کو جو خطرات لاحق ہیں، دشمن دن رات قومی سلامتی کو جن گھناؤنے عزائم کے ساتھ چیلنج کررہا ہے اس میں سیاسی اسٹیک ہولڈرزکی ذمے داری کیا بنتی ہے، ملک وقوم کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے، اس ایک سوال پر حکومت اور اپوزیشن آج کی سیاسی لڑائی بند کریں۔
قوم خبردار کررہی ہے کہ ہمیں 1258 جیسے سقوط بغداد کی تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہیے جب ہلاکو خوں آشام یلغار کے لیے فیصلہ کن گھڑی کا منتظر تھا اور ہمارے اہل فکر ونظر اندرونی خلفشار اور بحث وتکرار میں مصروف تھے۔ یہ روح عصر کی صدا ہے ، تاریخ دان ابن خلدون کہتا ہے۔ ہمیں آنکھیں کھول لینی چاہئیں۔