پاکستان وبھارت کی خوشحالی امن سے مشروط ہے عالمی کانفرنس

ویزاپالیسی نرم اورتسلسل کیساتھ ادیبوں، شاعروں، فنکاروں کے وفودکا تبادلہ ہونا چاہیے،مقررین

ویزاپالیسی نرم اورتسلسل کیساتھ ادیبوں، شاعروں، فنکاروں کے وفودکا تبادلہ ہونا چاہیے،مقررین۔ فوٹو: فائل

ورلڈ پنجابی کانگریس اورعالمی صوفی کونسل کے زیراہتمام ہونے والی ''سہ روزہ عالمی امن کانفرنس'' کے دوسرے روزبھی مقررین نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ویزاپالیسی نرم کرنے اورتسلسل کے ساتھ ادیبوں، شاعروںاور فنکاروںکے وفودکے تبادلے پرزور دیااور دونوں ممالک کی ترقی وخوشحالی کوامن کے قیام سے مشروط کیا۔

گزشتہ روزپاک وہند امن کوششیں، امن اورنیو ورلڈآرڈر کے موضوع پرتقاریر کی گئیں۔ شعرانے اپناکلام پیش کیاجبکہ رات کومحفل موسیقی کااہتمام کیاگیا۔ بھارتی مندوب دیپک منموہن نے اپنے خطاب میںہمسایہ ممالک میںثقافتی اورادبی تقریبات کے ذریعے بھائی چارے کوفروغ دینے پر زوردیا۔ جرمن مندوب لینیویبر اورلیتھوینیا کی مندوب ڈالیا اسٹییپونکٹ نے دنیاکے مختلف علاقوں میں کشیدگی کے باوجودامن کانفرنس کے انعقادکو سراہا۔ پروفیسر لورپولوک سمیت یوکرائنی ادیبوںنے مقالے پیش کیے۔




ہالینڈ کے اسدمفتی، ڈاکٹرونینا، ڈاکٹرسکھندر، ثروت محی الدین، گربھجن سنگھ گل، انیل ٹھاکر، خالدحسین، مانگھٹ سہاج پرت، وکرم، ڈاکٹرنجمہ رحمانی اوردیگر نے بھی خطاب کیا۔ ڈاکٹرسکھندر، عامربن علی، اسدمفتی، مرجیت اندرا، رام نے اپنا کلام پیش کیا۔ آج کانفرنس کے آخری روزاقوام متحدہ اورامن، عورت اورامن، زبان اورامن، انسانی حقوق اورامن کے موضوعات پرمقالے پیش کیے جائیںگے جبکہ آخرمیں اعلامیہ لاہورجاری کیاجائے گا۔
Load Next Story