ملک میں کرپٹو کرنسی پر پابندی نہیں صرف ریگولرائزڈ نہیں کیا اسٹیٹ بینک

وزارت خزانہ کی جانب سے جواب جمع کرانے کےلیے مہلت دی جائے، ڈپٹی اٹارنی جنرل

وزارت خزانہ کی جانب سے جواب جمع کرانے کے لیے مہلت دی جائے،ڈپٹی اٹارنی جنرل۔ فوٹو : فائل

سندھ ہائی کورٹ نے کرپٹو کرنسی پر پابندی سے متعلق درخواست پر تحریری جواب جمع کرانے کےلیے وفاقی حکومت کو آخری مہلت دے دی ہے۔

جسٹس کے کے آغا اور جسٹس امجد علی سہتو پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو ڈیجیٹل کرپٹو کرنسی پر پابندی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔

معروف پاکستانی یو ٹیوبر، اینکر، سماجی کارکن اور پاکستان ٹیکنالوجی موومنٹ کے بانی وقار ذکا نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایف آئی اے کرپٹو کرنسی استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں کررہی ہے، اسے روکا جائے۔ اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جوابی مؤقف جمع کروانے کےلیے مہلت مانگی۔


اسٹیٹ بنیک کے وکیل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی پر پابندی نہیں لگائی۔ جسٹس امجد علی سہتو نے ریمارکس دیئے کہ آپ کہہ رہے ہیں کرپٹو کرنسی میں کاروبار سے نہیں روکا؟ لیکن کسی کے تحفظ کےلیے کوئی گارنٹی بھی نہیں دے رہے؟

وقار ذکا نے مؤقف دیا کہ اسٹیٹ بینک بٹ کوائن کا اکاؤنٹ نہیں کھول رہا، جس پر اسٹیٹ بینک کے وکیل نے کہا کہ کرپٹو کرنسی کو ملک میں ریگولرئزاڈ نہیں کیا گیا، اسٹیٹ بینک نے صرف وارننگ جاری کی ہے۔

عدالت نے ڈپٹی ڈائریکٹر سائبر کرائم کو ذاتی حیثیت سے طلب کرتے ہوئے تحریری جواب جمع کرانے کےلیے وفاقی حکومت کو آخری مہلت دی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 17 دسمبر تک ملتوی کردی ہے۔
Load Next Story