بلاول بھٹو نانا اور والدہ کے نقش قدم پر
’’سندھ ثقافتی میلہ‘‘ تقریب کی ستائش کی جانی چاہیے۔ مجھے اس تقریب کے دوران جرمنی کی معروف تحقیق نگار محترمہ ...
tanveer.qaisar@express.com.pk
''سندھ ثقافتی میلہ'' تقریب کی ستائش کی جانی چاہیے۔ مجھے اس تقریب کے دوران جرمنی کی معروف تحقیق نگار محترمہ این میری شمل یاد آتی رہیں جن کی اقبالؒ اور سندھی ثقافت سے محبت لازوال بھی تھی اور انمٹ بھی۔ شمل صاحبہ سندھی ثقافت اور تاریخ میں اتنی رچ بس گئی تھیں کہ معاملہ ''من تُو شدی، تُو من شدی''کی شکل اختیار کرچکا تھا۔
پندرہ دسمبر 2013ء کی شام کراچی کی کئی ثقافتی شاموں سے اس لیے بھی ممتاز اور منفرد تھی کہ اس پُر شکوہ تقریب کے روحِ رواں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین جناب بلاول بھٹو زرداری تھے۔ اسٹیج اور سامعین ان کے منفرد کنڈکٹ کے سحر میں تھے۔ جن لوگوں نے براہ راست یا ٹی وی کی اسکرینوں کے توسط سے ''سندھ ثقافتی میلے'' کی اس پرکشش تقریب کو دیکھا، گواہی دیں گے کہ بلاول بھٹو نے کس اعتماد سے سندھی زبان، ثقافت، تاریخ اور سیاست کی شاندار انداز مین ترجمانی کی۔ بلاول بھٹو کا یہ بالکل ہی نیا اور تازہ بہ تازہ روپ تھا۔
ان کا یہ اعلان کہ ہم سمندر کنارے بسنت منائیں گے، اہل پنجاب کو بھی بہت اچھا لگا کہ عمومی طور پر سمجھا تو یہی جاتا ہے کہ بسنت منانا، پتنگ اڑانا اور ڈھول کی تھاپ پر پتنگ باز سجنا کا پیلے کپڑے پہن کر رقص کرنا صرف پنجابیوں خصوصاً لاہوریوں کا طرئہ امتیاز ہے۔ پنجاب کے حکمران تو مذہبی طبقات کے دباؤ میں آکر بسنت منانے کی تقریبات، جو کبھی خواجہ نظام الدین ؒاولیاء اپنے مرید اعلیٰ امیر خسروؒ کے ساتھ مل کر منایا کرتے تھے، سے توبہ کرچکے ہیں۔ چلیئے، اب بلاول بھٹو زرداری صاحب کی وجہ سے بسنت کا میلہ کراچی میں بھی سجا کرے گا۔ اس حوالے سے بلاول بھٹو کی ایک خوبصورت تصویر بھی شایع ہوئی ہے جس میں وہ ایک بڑی سی پتنگ تھامے اپنی ہمشیرہ محترمہ بختاور کے ساتھ گلے میں اجرک پہنے مسکراتے نظر آرہے ہیں۔
ہمارے بعض ملاؤں نے ہماری ثقافت کا جس طرح مثلہ کیا ہے، اپنی طاقت سے جس انداز میں ہماری ثقافت کو محدود سے محدود تر کردیا ہے، اس پیش منظر میں جناب بلاول بھٹو کا یہ اسلوبِ حیات پاکستان کے لاتعداد نوجوانوں کے دلوں میں گھر کر گیا ہے۔ اسے آنے والے شاندار زمانوں کی ایک دھندلی سی تصویر بھی کہا جاسکتا ہے اور ثقافتی و سیاسی حوالے سے امید کی ایک نئی کرن بھی۔ ''سندھ ثقافتی میلے'' سے خطاب کرتے ہوئے ان کا یہ کہنا کہ ہم کسی کو جبراً درآمدی اسلام نافذ نہیں کرنے دیں گے، خود کش حملہ آوروں اور شدت پسندوں کے خوف سے ڈرے سہمے پاکستانیوں کے لیے نئے حوصلے اور ہمت افزائی کا باعث بنا ہے۔
سچی بات یہ ہے کہ جناب بلاول بھٹو کے الفاظ پاکستان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقات اور حالات کا معروضی انداز میں جائزہ لینے والوں کے لیے مشکبار ہوا کا تازہ جھونکا ثابت ہوئے ہیں۔ خصوصاً ان حالات میں جب کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے بعض حکمران، ڈر کے مارے، شدت پسندوں کے سرپرستوں کو گھروں میں بلا کر دعائیں کرواتے ہیں، ان کی ہر طرح سے سیوا اور خدمت کرتے نظر آرہے ہیں، حکمرانوں کا یہ فعل ان کی ذات اور ذاتی مفادات کا تحفظ کرسکتا ہے لیکن غالباً وہ نہیں جانتے کہ اس عمل سے سوسائٹی پر کس قدر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
بلاول بھٹو صاحب نے مذکورہ بالا تقریب سے انگریزی زبان میں خطاب کیا۔ مناسب اور مستحسن بات تو یہ تھی کہ وہ قومی زبان یا کم از کم سندھی زبان میں خطاب کرتے۔ ان پر یہ لازم تھا کہ اب وہ قومی لیڈر بھی ہیں اور سندھ دھرتی کے سپوت بھی۔ اگر بھارت کے راہول گاندھی، جو ایک غیر ہندوستانی خاتون کے بیٹے اور جنہوں نے انگریزی زبان میں ساری تعلیم حاصل کی، جلسے جلوسوں اور پریس کانفرنسوں میں عموماً سنسکرت ملی ہندی اردو بول سکتے ہیں۔ اگر مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ، جو چِٹی چمڑی والی ایک خالص انگریز عورت کے بطن سے ہیں اور جن کی تعلیم و تربیت انگریزی زبان میں ہوئی ہے، اکثریتی طور پر اردو اور کشمیری زبان میں گفتگو اور تقریریں کرسکتے ہیں تو بلاول بھٹو صاحب کو بھی اردو اور سندھی میں گفتگو کرنی چاہیے۔
ان کے ورکر بھی خوش ہوں گے اور ان کی عوامیت میں بھی اضافہ ہوگا۔ ہاں، جہاں ناگزیر ہو، وہاں انھیں انگریزی دانی کے جوہر دکھانے چاہئیں۔ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ وہ بہر حال ان ''عظیم'' لیڈروں کی طرح کاغذ پر انگریزی میں اپنی گفتگو لکھ کر بات کرنے پر مجبور تو نہیں۔ بلاول بھٹو صاحب کی والدہ اور نانا بھی اپنا مافی الضمیرانگریزی زبان میں زیادہ آسانی کے ساتھ اور بہترین اسلوب میں اداکرتے تھے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ان کی والدہ محترمہ Daughter of The Eastاور Reconciliation: Islam, Democracy and the Westایسی معرکہ آرا اور عالمی شہرت یافتہ تصانیف نہ لکھ سکتیں۔ وہ بھی آخر کار اسی نتیجے پر پہنچیں کہ انھیں بھی اپنے والد گرامی کے مانند اردو ہی کو ذریعہ اظہار اپنانا چاہیے۔ یوں وہ چاروں صوبوں کی اسی لیے زنجیر بنیں کہ چاروں صوبوں میں یہ زبان بہر حال بولی اور بخوبی سمجھی جاتی ہے۔ ہم پاکستان اور بیرون ملک میں جب بھی بلاول بھٹو کی والدہ بی بی شہید صاحبہ سے ملے، انھیں اردو میں بات کرتے پایا۔
درمیان میں وہ انگریزی کے لمبے لمبے Patchesبھی لگاتی جاتی تھیں۔ یہ ان کی جبلّت کا حصہ تھا۔ بلاول بھٹو صاحب کے لیے قومی زبان میں بات چیت کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ان کی حریف سیاسی پارٹی کے سربراہ کی صاحبزادی بھی قومی زبان میں گفتگو کرتی ہیں اور یوں دل کی بات دل میں اتر جاتی ہے۔ بلاول صاحب اردو زبان میں بات چیت کرنا جتنا جلد سیکھ جائیں گے، سیاسی طور پر یہ اتنا ہی ان کے لیے مفید ہوگا۔
کہا گیا ہے کہ بلاول بھٹو صاحب اگر والد کا راستہ اختیار کریں گے تو سیاسی کامیابیوں اور عظمتوں کو نہیں چُھو سکیں گے اور اگر وہ اپنی والدہ اور نانا کا راستہ (جو قربانیوں اور اولو العزمی کا راستہ ہے) اپنائیں گے تو خدانخواستہ اگر ناکام بھی ہوتے ہیں تو کامیاب ہی ہوں گے۔ یہ تجزیہ کسی بھی اعتبار سے غلط نہیں۔ ان کے والد صاحب بہت سے مواقع اور بے پناہ اختیار رکھنے کے باوصف، بدقسمتی سے، سیاسی ورکرز اور پارٹی کے لیے جان تک دینے والوں کے دلوں میں اپنی دلکش تصویر نہ بنا سکے۔ انھوں نے پاکستان کا جو اعلیٰ ترین اقتداری مقام حاصل کیا، وہ ان کی ذاتی محنتوں اور کاوشوں کا نتیجہ نہیں تھا۔ اگرچہ انھوں نے تشدد اور قیدوبند کی سزائیں صبر اور مسکراتے ہوئے برداشت کیں لیکن وہ اپنے شہید سسر کا مقام حاصل کرسکے نہ ہی اپنی شہید بیوی کی جگہ لے سکے۔ ہاں، دولت و حشمت کے خزانے ان کے پاس خوب ہیں۔ ان کے سیاسی فیصلے بھی ثمر آور ثابت نہ ہوسکے۔ مثال کے طور پر بہت سے حقائق جاننے کے باوجود اعتزاز احسن کو اپنے قرب میں بٹھانا اور منظور وٹو صاحب ایسے نامقبول سیاست کار کو پنجاب ایسے بڑے صوبے میں پیپلز پارٹی کا صدر بنانا اور یہ کہ صدارت سے فراغت کے بعد ان کا یہ اعلان کرنا کہ ہم پانچ سال تک نواز شریف کی مخالفت نہیں کریں گے۔
یہ انتہائی غیر محتاط جملہ تھا جو پیپلز پارٹی کے جیالوں نے بھی سخت ناپسند کیا۔ جناب بلاول کے والد گرامی کے اس جملے کا یہ مطلب لیا گیا ہے کہ نواز شریف اور زرداری کے درمیان بعض اوقات جو لفظوں کی شدت نظر آتی ہے، یہ محض نُورا کشتی ہے۔ ایسے میں بلاول بھٹو کا نواز حکومت پر تنقید کرنا سمجھ سے بالا ہے۔ چنانچہ لازم ہوگیا ہے کہ نوجوان بلاول بھٹو صاحب اپنی والدہ اور نانا کا راستہ اختیار کریں، اگرچہ یہ بہت ہی اوکھا اور پُرآزمائش راستہ ہے لیکن بلاول کی بقا اسی کانٹوں بھرے راستے پر چلنے میں ہے۔ ننھیال کا راستہ ہی ان کا اصل اثاثہ ہے جو ان کے لیے قابل فخر بھی ہے اور سیاسی اعتبار سے رہبری اور روشنی کا ایک مینار بھی۔
پندرہ دسمبر 2013ء کی شام کراچی کی کئی ثقافتی شاموں سے اس لیے بھی ممتاز اور منفرد تھی کہ اس پُر شکوہ تقریب کے روحِ رواں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین جناب بلاول بھٹو زرداری تھے۔ اسٹیج اور سامعین ان کے منفرد کنڈکٹ کے سحر میں تھے۔ جن لوگوں نے براہ راست یا ٹی وی کی اسکرینوں کے توسط سے ''سندھ ثقافتی میلے'' کی اس پرکشش تقریب کو دیکھا، گواہی دیں گے کہ بلاول بھٹو نے کس اعتماد سے سندھی زبان، ثقافت، تاریخ اور سیاست کی شاندار انداز مین ترجمانی کی۔ بلاول بھٹو کا یہ بالکل ہی نیا اور تازہ بہ تازہ روپ تھا۔
ان کا یہ اعلان کہ ہم سمندر کنارے بسنت منائیں گے، اہل پنجاب کو بھی بہت اچھا لگا کہ عمومی طور پر سمجھا تو یہی جاتا ہے کہ بسنت منانا، پتنگ اڑانا اور ڈھول کی تھاپ پر پتنگ باز سجنا کا پیلے کپڑے پہن کر رقص کرنا صرف پنجابیوں خصوصاً لاہوریوں کا طرئہ امتیاز ہے۔ پنجاب کے حکمران تو مذہبی طبقات کے دباؤ میں آکر بسنت منانے کی تقریبات، جو کبھی خواجہ نظام الدین ؒاولیاء اپنے مرید اعلیٰ امیر خسروؒ کے ساتھ مل کر منایا کرتے تھے، سے توبہ کرچکے ہیں۔ چلیئے، اب بلاول بھٹو زرداری صاحب کی وجہ سے بسنت کا میلہ کراچی میں بھی سجا کرے گا۔ اس حوالے سے بلاول بھٹو کی ایک خوبصورت تصویر بھی شایع ہوئی ہے جس میں وہ ایک بڑی سی پتنگ تھامے اپنی ہمشیرہ محترمہ بختاور کے ساتھ گلے میں اجرک پہنے مسکراتے نظر آرہے ہیں۔
ہمارے بعض ملاؤں نے ہماری ثقافت کا جس طرح مثلہ کیا ہے، اپنی طاقت سے جس انداز میں ہماری ثقافت کو محدود سے محدود تر کردیا ہے، اس پیش منظر میں جناب بلاول بھٹو کا یہ اسلوبِ حیات پاکستان کے لاتعداد نوجوانوں کے دلوں میں گھر کر گیا ہے۔ اسے آنے والے شاندار زمانوں کی ایک دھندلی سی تصویر بھی کہا جاسکتا ہے اور ثقافتی و سیاسی حوالے سے امید کی ایک نئی کرن بھی۔ ''سندھ ثقافتی میلے'' سے خطاب کرتے ہوئے ان کا یہ کہنا کہ ہم کسی کو جبراً درآمدی اسلام نافذ نہیں کرنے دیں گے، خود کش حملہ آوروں اور شدت پسندوں کے خوف سے ڈرے سہمے پاکستانیوں کے لیے نئے حوصلے اور ہمت افزائی کا باعث بنا ہے۔
سچی بات یہ ہے کہ جناب بلاول بھٹو کے الفاظ پاکستان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقات اور حالات کا معروضی انداز میں جائزہ لینے والوں کے لیے مشکبار ہوا کا تازہ جھونکا ثابت ہوئے ہیں۔ خصوصاً ان حالات میں جب کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے بعض حکمران، ڈر کے مارے، شدت پسندوں کے سرپرستوں کو گھروں میں بلا کر دعائیں کرواتے ہیں، ان کی ہر طرح سے سیوا اور خدمت کرتے نظر آرہے ہیں، حکمرانوں کا یہ فعل ان کی ذات اور ذاتی مفادات کا تحفظ کرسکتا ہے لیکن غالباً وہ نہیں جانتے کہ اس عمل سے سوسائٹی پر کس قدر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
بلاول بھٹو صاحب نے مذکورہ بالا تقریب سے انگریزی زبان میں خطاب کیا۔ مناسب اور مستحسن بات تو یہ تھی کہ وہ قومی زبان یا کم از کم سندھی زبان میں خطاب کرتے۔ ان پر یہ لازم تھا کہ اب وہ قومی لیڈر بھی ہیں اور سندھ دھرتی کے سپوت بھی۔ اگر بھارت کے راہول گاندھی، جو ایک غیر ہندوستانی خاتون کے بیٹے اور جنہوں نے انگریزی زبان میں ساری تعلیم حاصل کی، جلسے جلوسوں اور پریس کانفرنسوں میں عموماً سنسکرت ملی ہندی اردو بول سکتے ہیں۔ اگر مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ، جو چِٹی چمڑی والی ایک خالص انگریز عورت کے بطن سے ہیں اور جن کی تعلیم و تربیت انگریزی زبان میں ہوئی ہے، اکثریتی طور پر اردو اور کشمیری زبان میں گفتگو اور تقریریں کرسکتے ہیں تو بلاول بھٹو صاحب کو بھی اردو اور سندھی میں گفتگو کرنی چاہیے۔
ان کے ورکر بھی خوش ہوں گے اور ان کی عوامیت میں بھی اضافہ ہوگا۔ ہاں، جہاں ناگزیر ہو، وہاں انھیں انگریزی دانی کے جوہر دکھانے چاہئیں۔ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ وہ بہر حال ان ''عظیم'' لیڈروں کی طرح کاغذ پر انگریزی میں اپنی گفتگو لکھ کر بات کرنے پر مجبور تو نہیں۔ بلاول بھٹو صاحب کی والدہ اور نانا بھی اپنا مافی الضمیرانگریزی زبان میں زیادہ آسانی کے ساتھ اور بہترین اسلوب میں اداکرتے تھے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ان کی والدہ محترمہ Daughter of The Eastاور Reconciliation: Islam, Democracy and the Westایسی معرکہ آرا اور عالمی شہرت یافتہ تصانیف نہ لکھ سکتیں۔ وہ بھی آخر کار اسی نتیجے پر پہنچیں کہ انھیں بھی اپنے والد گرامی کے مانند اردو ہی کو ذریعہ اظہار اپنانا چاہیے۔ یوں وہ چاروں صوبوں کی اسی لیے زنجیر بنیں کہ چاروں صوبوں میں یہ زبان بہر حال بولی اور بخوبی سمجھی جاتی ہے۔ ہم پاکستان اور بیرون ملک میں جب بھی بلاول بھٹو کی والدہ بی بی شہید صاحبہ سے ملے، انھیں اردو میں بات کرتے پایا۔
درمیان میں وہ انگریزی کے لمبے لمبے Patchesبھی لگاتی جاتی تھیں۔ یہ ان کی جبلّت کا حصہ تھا۔ بلاول بھٹو صاحب کے لیے قومی زبان میں بات چیت کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ان کی حریف سیاسی پارٹی کے سربراہ کی صاحبزادی بھی قومی زبان میں گفتگو کرتی ہیں اور یوں دل کی بات دل میں اتر جاتی ہے۔ بلاول صاحب اردو زبان میں بات چیت کرنا جتنا جلد سیکھ جائیں گے، سیاسی طور پر یہ اتنا ہی ان کے لیے مفید ہوگا۔
کہا گیا ہے کہ بلاول بھٹو صاحب اگر والد کا راستہ اختیار کریں گے تو سیاسی کامیابیوں اور عظمتوں کو نہیں چُھو سکیں گے اور اگر وہ اپنی والدہ اور نانا کا راستہ (جو قربانیوں اور اولو العزمی کا راستہ ہے) اپنائیں گے تو خدانخواستہ اگر ناکام بھی ہوتے ہیں تو کامیاب ہی ہوں گے۔ یہ تجزیہ کسی بھی اعتبار سے غلط نہیں۔ ان کے والد صاحب بہت سے مواقع اور بے پناہ اختیار رکھنے کے باوصف، بدقسمتی سے، سیاسی ورکرز اور پارٹی کے لیے جان تک دینے والوں کے دلوں میں اپنی دلکش تصویر نہ بنا سکے۔ انھوں نے پاکستان کا جو اعلیٰ ترین اقتداری مقام حاصل کیا، وہ ان کی ذاتی محنتوں اور کاوشوں کا نتیجہ نہیں تھا۔ اگرچہ انھوں نے تشدد اور قیدوبند کی سزائیں صبر اور مسکراتے ہوئے برداشت کیں لیکن وہ اپنے شہید سسر کا مقام حاصل کرسکے نہ ہی اپنی شہید بیوی کی جگہ لے سکے۔ ہاں، دولت و حشمت کے خزانے ان کے پاس خوب ہیں۔ ان کے سیاسی فیصلے بھی ثمر آور ثابت نہ ہوسکے۔ مثال کے طور پر بہت سے حقائق جاننے کے باوجود اعتزاز احسن کو اپنے قرب میں بٹھانا اور منظور وٹو صاحب ایسے نامقبول سیاست کار کو پنجاب ایسے بڑے صوبے میں پیپلز پارٹی کا صدر بنانا اور یہ کہ صدارت سے فراغت کے بعد ان کا یہ اعلان کرنا کہ ہم پانچ سال تک نواز شریف کی مخالفت نہیں کریں گے۔
یہ انتہائی غیر محتاط جملہ تھا جو پیپلز پارٹی کے جیالوں نے بھی سخت ناپسند کیا۔ جناب بلاول کے والد گرامی کے اس جملے کا یہ مطلب لیا گیا ہے کہ نواز شریف اور زرداری کے درمیان بعض اوقات جو لفظوں کی شدت نظر آتی ہے، یہ محض نُورا کشتی ہے۔ ایسے میں بلاول بھٹو کا نواز حکومت پر تنقید کرنا سمجھ سے بالا ہے۔ چنانچہ لازم ہوگیا ہے کہ نوجوان بلاول بھٹو صاحب اپنی والدہ اور نانا کا راستہ اختیار کریں، اگرچہ یہ بہت ہی اوکھا اور پُرآزمائش راستہ ہے لیکن بلاول کی بقا اسی کانٹوں بھرے راستے پر چلنے میں ہے۔ ننھیال کا راستہ ہی ان کا اصل اثاثہ ہے جو ان کے لیے قابل فخر بھی ہے اور سیاسی اعتبار سے رہبری اور روشنی کا ایک مینار بھی۔