بلدیاتی نظام اور کشیدگی
سندھ میں بلدیاتی نظام پھر متنازعہ ہوا، حکمران جماعت پیپلزپارٹی کے خلاف اپوزیشن متحدہوگئی مگر پیپلزپارٹی نے سندھ...
tauceeph@gmail.com
سندھ میں بلدیاتی نظام پھر متنازعہ ہوا، حکمران جماعت پیپلزپارٹی کے خلاف اپوزیشن متحدہوگئی مگر پیپلزپارٹی نے سندھ اسمبلی میں اکثریت کی بناء پر یہ قانون منظور کرایا، اس قانون میں کی جانے والی ترامیم کو بھی طاقت کے ذریعے منظور کرایا۔ اب بے اختیار بلدیاتی نظام اور متنازعہ حلقہ بندیوں کے نعروں کی گونج میں 18 جنوری کو انتخابات ہوں گے۔ شہری اور دیہی علاقوں کے نمایندوں کے اختلافات صوبے کی سیاست پر کیا اثرات ڈالیں گے،یہ سوال اہم بن گیا۔ پیپلزپارٹی کے تیار کردہ بلدیاتی قانون تیسرے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے نافذ کردہ قانون کی نئی شکل ہے۔ اس قانون میں اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے تصور کی نفی کی گئی ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی نگرانی میں تیار ہونے والے منشور میں نئے سماجی معاہدے New social contract کی روح کو اس قانون میں پامال کیا گیا ہے۔
اس قانون میں صوبے کے سب سے بڑے شہر کراچی کے منتخب میئر کی حیثیت اختیارات کے حوالے سے محض نمائشی ہوگی۔ منتخب میئر کو ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کے لیے محکمہ بلدیات کے سیکشن افسر، سیکریٹری بلدیات، وزیر بلدیات اور وزیراعلیٰ ہاؤس کی خوشنودی کے لیے اپنی صلاحیتیں استعمال کرنی پڑیں گی۔ منتخب میئر صاحبان کے پاس اپنے اداروں میں محض گریڈ 16تک کے عملے کی تقرری ترقیوں کے اختیارات رہیں گے اور گریڈ 17 اور اس کے اوپر کے افسروں کی ترقی اور تقرری کے لیے وہ محض سفارش کرسکیں گے۔ جب بیوروکریسی کی تقرری اور تقرریوں کے معاملات وزیراعلیٰ ہاؤس میں طے ہوں گے تو پھر انھیں منتخب بلدیاتی قیادت کی اطاعت کی ضرورت نہیں ہوگی، یوں نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی کا معاملہ محض نظریے تک محدود ہوگا۔ قانونی ماہر کا کہنا ہے کہ کراچی کے میئر کو 2کروڑ روپے سے زیادہ پروجیکٹ کے لیے صوبائی حکومت کی منظوری حاصل کرنا ہوگی۔ ملک میں ہونے والی مہنگائی کے نتیجے میں اب 2 کروڑ کی کوئی حیثیت نہیں رہی ہے۔
ایک چھوٹی سڑک کی تعمیر پر کئی کروڑ روپے کی لاگت آتی ہے، یوں بلدیاتی ادارے ترقیاتی کاموں کی ادائیگی کا قرضہ ادا نہیں کرسکیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹی کارپوریشنوں اور ڈسٹرکٹ کونسلوں کے سربراہوں کے اختیارات تو اس سے بھی کم ہیں۔ اس لیے سندھ کے دیہی علاقوں میں نیا بلدیاتی نظام کوئی موثر کردار ادا نہیں کرسکے گا۔ ممتاز دانشور غازی صلاح الدین اندرون سندھ شہروں کے حالات زار کا ذکر کرتے ہوئے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں کہ شہروں میں سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، گندے پانی کی نکاسی کا کوئی نظام نہیں ہے، نہ صرف شہروں کے اندرونی علاقوں کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں بلکہ مرکزی شاہراہوں کی حالت بھی خراب ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ پنجاب میں سڑکیں بہتر اور کشادہ ہیں یوںکچھ عرصے بعد پنجاب اور سندھ کا موازنہ زیادہ شدت سے ہونے لگے گا۔ پیپلزپارٹی کی حکومت نے جو بلدیاتی نظام قائم کرنے کا فیصلہ کیا اس کے نتیجے میں غازی صاحب کی پیشگوئی درست ثابت ہوگی۔
سابق صدر پرویز مشرف نے 2002 میں نچلی سطح کے اختیارات کا نظام قائم کیا تھا، اگرچہ اس میں کئی خامیاں تھیں مگر سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ یونین کونسل سے لے کر سٹی حکومت تک مکمل طور پر خودمختار تھی، انھیں ٹیکس لگانے اور وصول کرنے کے اختیارات کے ساتھ ترقیاتی منصوبے بنانے اور منتخب نمایندوں کو اس کی منظوری دینے کے ساتھ عمل درآمد کا بھی اختیار تھا، ہر شہر میں ترقی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے بلدیاتی ادارے موجود تھے۔ پرویز مشرف دور میں بلدیاتی اداروں کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص کیے گئے۔ کراچی اور حیدرآباد کے منتخب نمایندوں نے ان فنڈز کو بھرپور استعمال کیا۔ جماعت اسلامی کے ناظم نعمت اﷲ کے دور سے کراچی میں بڑے پلوں، اوور ہیڈ برجز کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ ایم کیو ایم کے ناظم مصطفیٰ کمال نے ترقی کے تصور کو ایک جدید شکل دی اور کراچی کا ایک نیا چہرہ ابھرکر سامنے آیا۔ سہراب گوٹھ سے سمندر تک کا گھنٹوں کا سفر مختصر ہوا۔ شہر میں خوبصورت پارکوں، سڑکوں اور انڈر پاس کا جال بچھایا گیا۔ یہ ترقی زیادہ تر متوسط طبقے اور امرا کے علاقوں میں ہوئی مگر لوگوں کو یہ شعور حاصل ہوا کہ اس نظام کے ذریعے شہروں اور گاؤں میں ترقی کا عمل تیز ہوسکتا ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اندرون سندھ بااختیار ناظمین اور وافر مقدار میں فنڈز دستیاب ہونے کے باوجود ترقی کا عمل محدود رہا۔
سابق وزیر بلدیات آغا سراج درانی نے ایک مرتبہ انکشاف کیا تھا کہ بلدیاتی اداروں میں آڈٹ نہیں ہوتا تھا، اس بنا پر بڑے پیمانے پر خرد برد ہوا مگر پیپلزپارٹی کی حکومت نے اپنے دور میں بلدیاتی اداروں کا دوبارہ آڈٹ کرانے یا اندرون سندھ ترقی نہ ہونے کی وجوہات پر نہ کبھی اسمبلی میں بحث کی ضرورت محسوس کی اور نہ ہی کسی نوعیت کا کمیشن قائم کیا گیا مگر پیپلزپارٹی نے اس بلدیاتی نظام کے خاتمے کا فیصلہ کیا۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان بلدیاتی ڈھانچے پر مذاکرات ہوتے رہے مگر حقیقی خواہش نہ ہونے پر معاملہ التوا کا شکار رہا۔ اس دوران بیوروکریسی کے ذریعے بلدیاتی اداروں کوچلایا گیا، بار بار بلدیاتی ڈھانچوں میں تبدیلیاں کی گئیں، ان تبدیلیوں کے نتیجے میں ان اداروں کی کارکردگی متاثر ہوئی، بلدیاتی اداروں میں شدید مالیاتی بحران پیدا ہوا۔
کراچی شہر کے صفائی کرنے والے ہزاروں کارکنوں نے مہینوں تنخواہیں نہ ملنے پر ہڑتالیں کیں اور معاملات عدالت میں گئے اور سندھ ہائی کورٹ کی مداخلت پر ان غریب کارکنوں کوتنخواہیں ملیں۔ یوں کراچی شہر میں صفائی کا نظام تباہ ہوا۔ شہر کے دور دراز غریب علاقوں کے حالات کا ذکر کیا کیا جائے، مرکزی علاقوں کا جائزہ لیا جائے کہ ہرطرف گندگی کے ڈھیر نظر آتے ہیں، گندے پانی کی نکاسی کا نظام تباہ ہوا، شہر کی بڑی سڑکیں اکثر جھیلوں کا منظر پیش کرتی نظر آئیں۔ شہر میں سردیاں شروع ہونے کے باوجود پانی کا بحران ہے۔ کراچی واٹر بورڈ براہ راست محکمہ بلدیات کی نگرانی میں کام کررہا ہے۔ اس کی کارکردگی روزبروز خراب ہوتی جارہی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پیپلزپارٹی کو منتخب بلدیاتی نظام کسی صورت قبول نہیں ہے۔
سیاسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ منتخب بلدیاتی نظام متبادل قیادت فراہم کرنا ہے پھر جن کاموں سے قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین اپنے اپنے حلقے کے ووٹروں کو مطمئن کرتے ہیں، وہ کام بلدیاتی ادارے انجام دیتے ہیں۔ اراکین اسمبلی کے لیے محض قانون سازی حکومت کے لیے پالیسیاں بنانا اور حکومت کے احتساب کا فریضہ باقی بچتا ہے، اس طرح ان کے لیے سیاسی خدمت میں کوئی کشمکش باقی نہیں رہی۔ کچھ اور ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ قومی انتخابات کے بعد بلدیاتی انتخابات کے تصورکو قومی جماعتیں تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بلدیاتی انتخابات میں دوسری جماعتوں کے امیدوار اکثریت سے کامیاب ہوئے تو ایک طرف میڈیا حکومتوں کی غیر مقبولیت کا پرچار کرنا شروع کردے گا۔
دوسری طرف عسکری اسٹبلشمنٹ سے تقویت پانے والے سیاسی رہنما منتخب حکومتوں کی رخصتی کی پیشگوئی کرنے لگ گئے، ملک میں غیر یقینی فضا پیدا ہوگی۔ اس صورتحال کے ممکنہ تدارک کے لیے مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی کے درمیان نظر نہ آنے والا اتفاق رائے ہوا کہ بلدیاتی انتخابات نہ کرائے جائیں مگر سپریم کورٹ کی مداخلت پر بلدیاتی انتخابات کی تاریخیں طے ہوئیں مگر پرانی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک زمانے میں حکومت اپوزیشن کو اپنی سرگرمیوں کی اجازت اس بناء پر نہیں دیتی تھی کہ حکومت کی تبدیلی کا تاثر ابھرے گا اور انتخابات کی تاریخوں کو آخری وقت تک چھپایا جاتا تھا مگر گزشتہ پانچ سال کے دوران مخالف جماعتوں کو مکمل آزادی رہی پھر حکومت کی میعاد کے خاتمے کے بارے میں ہر فرد کو علم تھا مگر سیاسی حکومت قائم رہی اور مقررہ وقت پر انتخابات ہوئے۔
حزب اختلاف اکثریت حاصل کرکے حکمران جماعت بن گئی، سیاسی نظام ایک تجربہ سے گزر کر مضبوط ہوگیا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے شفاف نتائج خواہ اس میں کوئی بھی کامیاب ہو سیاسی نظا م کو مستحکم کرسکتے ہیں۔ پیپلزپارٹی پرانے نظام کی مخالف اس لیے ہوئی تھی کہ مسلم لیگ فنکشنل نے قوم پرستوں کے ساتھ مل کر اندرون سندھ ایسی فضا قائم کی تھی کہ اس کے کارکن بھی متاثر ہوئے تھے مگر اب ایم کیو ایم اور مسلم لیگ فنکشنل نے متحد ہوکر قانون کی مخالفت کردی، دوسری سیاسی جماعتوں کے تضادات بھی عیاں ہوئے ہیں مگر سندھ میں بلدیاتی معاملے پر کشیدگی کے مستقبل میں خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں۔
اس قانون میں صوبے کے سب سے بڑے شہر کراچی کے منتخب میئر کی حیثیت اختیارات کے حوالے سے محض نمائشی ہوگی۔ منتخب میئر کو ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کے لیے محکمہ بلدیات کے سیکشن افسر، سیکریٹری بلدیات، وزیر بلدیات اور وزیراعلیٰ ہاؤس کی خوشنودی کے لیے اپنی صلاحیتیں استعمال کرنی پڑیں گی۔ منتخب میئر صاحبان کے پاس اپنے اداروں میں محض گریڈ 16تک کے عملے کی تقرری ترقیوں کے اختیارات رہیں گے اور گریڈ 17 اور اس کے اوپر کے افسروں کی ترقی اور تقرری کے لیے وہ محض سفارش کرسکیں گے۔ جب بیوروکریسی کی تقرری اور تقرریوں کے معاملات وزیراعلیٰ ہاؤس میں طے ہوں گے تو پھر انھیں منتخب بلدیاتی قیادت کی اطاعت کی ضرورت نہیں ہوگی، یوں نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی کا معاملہ محض نظریے تک محدود ہوگا۔ قانونی ماہر کا کہنا ہے کہ کراچی کے میئر کو 2کروڑ روپے سے زیادہ پروجیکٹ کے لیے صوبائی حکومت کی منظوری حاصل کرنا ہوگی۔ ملک میں ہونے والی مہنگائی کے نتیجے میں اب 2 کروڑ کی کوئی حیثیت نہیں رہی ہے۔
ایک چھوٹی سڑک کی تعمیر پر کئی کروڑ روپے کی لاگت آتی ہے، یوں بلدیاتی ادارے ترقیاتی کاموں کی ادائیگی کا قرضہ ادا نہیں کرسکیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹی کارپوریشنوں اور ڈسٹرکٹ کونسلوں کے سربراہوں کے اختیارات تو اس سے بھی کم ہیں۔ اس لیے سندھ کے دیہی علاقوں میں نیا بلدیاتی نظام کوئی موثر کردار ادا نہیں کرسکے گا۔ ممتاز دانشور غازی صلاح الدین اندرون سندھ شہروں کے حالات زار کا ذکر کرتے ہوئے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں کہ شہروں میں سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، گندے پانی کی نکاسی کا کوئی نظام نہیں ہے، نہ صرف شہروں کے اندرونی علاقوں کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں بلکہ مرکزی شاہراہوں کی حالت بھی خراب ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ پنجاب میں سڑکیں بہتر اور کشادہ ہیں یوںکچھ عرصے بعد پنجاب اور سندھ کا موازنہ زیادہ شدت سے ہونے لگے گا۔ پیپلزپارٹی کی حکومت نے جو بلدیاتی نظام قائم کرنے کا فیصلہ کیا اس کے نتیجے میں غازی صاحب کی پیشگوئی درست ثابت ہوگی۔
سابق صدر پرویز مشرف نے 2002 میں نچلی سطح کے اختیارات کا نظام قائم کیا تھا، اگرچہ اس میں کئی خامیاں تھیں مگر سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ یونین کونسل سے لے کر سٹی حکومت تک مکمل طور پر خودمختار تھی، انھیں ٹیکس لگانے اور وصول کرنے کے اختیارات کے ساتھ ترقیاتی منصوبے بنانے اور منتخب نمایندوں کو اس کی منظوری دینے کے ساتھ عمل درآمد کا بھی اختیار تھا، ہر شہر میں ترقی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے بلدیاتی ادارے موجود تھے۔ پرویز مشرف دور میں بلدیاتی اداروں کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص کیے گئے۔ کراچی اور حیدرآباد کے منتخب نمایندوں نے ان فنڈز کو بھرپور استعمال کیا۔ جماعت اسلامی کے ناظم نعمت اﷲ کے دور سے کراچی میں بڑے پلوں، اوور ہیڈ برجز کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ ایم کیو ایم کے ناظم مصطفیٰ کمال نے ترقی کے تصور کو ایک جدید شکل دی اور کراچی کا ایک نیا چہرہ ابھرکر سامنے آیا۔ سہراب گوٹھ سے سمندر تک کا گھنٹوں کا سفر مختصر ہوا۔ شہر میں خوبصورت پارکوں، سڑکوں اور انڈر پاس کا جال بچھایا گیا۔ یہ ترقی زیادہ تر متوسط طبقے اور امرا کے علاقوں میں ہوئی مگر لوگوں کو یہ شعور حاصل ہوا کہ اس نظام کے ذریعے شہروں اور گاؤں میں ترقی کا عمل تیز ہوسکتا ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اندرون سندھ بااختیار ناظمین اور وافر مقدار میں فنڈز دستیاب ہونے کے باوجود ترقی کا عمل محدود رہا۔
سابق وزیر بلدیات آغا سراج درانی نے ایک مرتبہ انکشاف کیا تھا کہ بلدیاتی اداروں میں آڈٹ نہیں ہوتا تھا، اس بنا پر بڑے پیمانے پر خرد برد ہوا مگر پیپلزپارٹی کی حکومت نے اپنے دور میں بلدیاتی اداروں کا دوبارہ آڈٹ کرانے یا اندرون سندھ ترقی نہ ہونے کی وجوہات پر نہ کبھی اسمبلی میں بحث کی ضرورت محسوس کی اور نہ ہی کسی نوعیت کا کمیشن قائم کیا گیا مگر پیپلزپارٹی نے اس بلدیاتی نظام کے خاتمے کا فیصلہ کیا۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان بلدیاتی ڈھانچے پر مذاکرات ہوتے رہے مگر حقیقی خواہش نہ ہونے پر معاملہ التوا کا شکار رہا۔ اس دوران بیوروکریسی کے ذریعے بلدیاتی اداروں کوچلایا گیا، بار بار بلدیاتی ڈھانچوں میں تبدیلیاں کی گئیں، ان تبدیلیوں کے نتیجے میں ان اداروں کی کارکردگی متاثر ہوئی، بلدیاتی اداروں میں شدید مالیاتی بحران پیدا ہوا۔
کراچی شہر کے صفائی کرنے والے ہزاروں کارکنوں نے مہینوں تنخواہیں نہ ملنے پر ہڑتالیں کیں اور معاملات عدالت میں گئے اور سندھ ہائی کورٹ کی مداخلت پر ان غریب کارکنوں کوتنخواہیں ملیں۔ یوں کراچی شہر میں صفائی کا نظام تباہ ہوا۔ شہر کے دور دراز غریب علاقوں کے حالات کا ذکر کیا کیا جائے، مرکزی علاقوں کا جائزہ لیا جائے کہ ہرطرف گندگی کے ڈھیر نظر آتے ہیں، گندے پانی کی نکاسی کا نظام تباہ ہوا، شہر کی بڑی سڑکیں اکثر جھیلوں کا منظر پیش کرتی نظر آئیں۔ شہر میں سردیاں شروع ہونے کے باوجود پانی کا بحران ہے۔ کراچی واٹر بورڈ براہ راست محکمہ بلدیات کی نگرانی میں کام کررہا ہے۔ اس کی کارکردگی روزبروز خراب ہوتی جارہی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پیپلزپارٹی کو منتخب بلدیاتی نظام کسی صورت قبول نہیں ہے۔
سیاسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ منتخب بلدیاتی نظام متبادل قیادت فراہم کرنا ہے پھر جن کاموں سے قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین اپنے اپنے حلقے کے ووٹروں کو مطمئن کرتے ہیں، وہ کام بلدیاتی ادارے انجام دیتے ہیں۔ اراکین اسمبلی کے لیے محض قانون سازی حکومت کے لیے پالیسیاں بنانا اور حکومت کے احتساب کا فریضہ باقی بچتا ہے، اس طرح ان کے لیے سیاسی خدمت میں کوئی کشمکش باقی نہیں رہی۔ کچھ اور ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ قومی انتخابات کے بعد بلدیاتی انتخابات کے تصورکو قومی جماعتیں تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بلدیاتی انتخابات میں دوسری جماعتوں کے امیدوار اکثریت سے کامیاب ہوئے تو ایک طرف میڈیا حکومتوں کی غیر مقبولیت کا پرچار کرنا شروع کردے گا۔
دوسری طرف عسکری اسٹبلشمنٹ سے تقویت پانے والے سیاسی رہنما منتخب حکومتوں کی رخصتی کی پیشگوئی کرنے لگ گئے، ملک میں غیر یقینی فضا پیدا ہوگی۔ اس صورتحال کے ممکنہ تدارک کے لیے مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی کے درمیان نظر نہ آنے والا اتفاق رائے ہوا کہ بلدیاتی انتخابات نہ کرائے جائیں مگر سپریم کورٹ کی مداخلت پر بلدیاتی انتخابات کی تاریخیں طے ہوئیں مگر پرانی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک زمانے میں حکومت اپوزیشن کو اپنی سرگرمیوں کی اجازت اس بناء پر نہیں دیتی تھی کہ حکومت کی تبدیلی کا تاثر ابھرے گا اور انتخابات کی تاریخوں کو آخری وقت تک چھپایا جاتا تھا مگر گزشتہ پانچ سال کے دوران مخالف جماعتوں کو مکمل آزادی رہی پھر حکومت کی میعاد کے خاتمے کے بارے میں ہر فرد کو علم تھا مگر سیاسی حکومت قائم رہی اور مقررہ وقت پر انتخابات ہوئے۔
حزب اختلاف اکثریت حاصل کرکے حکمران جماعت بن گئی، سیاسی نظام ایک تجربہ سے گزر کر مضبوط ہوگیا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے شفاف نتائج خواہ اس میں کوئی بھی کامیاب ہو سیاسی نظا م کو مستحکم کرسکتے ہیں۔ پیپلزپارٹی پرانے نظام کی مخالف اس لیے ہوئی تھی کہ مسلم لیگ فنکشنل نے قوم پرستوں کے ساتھ مل کر اندرون سندھ ایسی فضا قائم کی تھی کہ اس کے کارکن بھی متاثر ہوئے تھے مگر اب ایم کیو ایم اور مسلم لیگ فنکشنل نے متحد ہوکر قانون کی مخالفت کردی، دوسری سیاسی جماعتوں کے تضادات بھی عیاں ہوئے ہیں مگر سندھ میں بلدیاتی معاملے پر کشیدگی کے مستقبل میں خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں۔