اعجاز شاہ کی معذرت قبول اے این پی کی اسلام آباد مارچ کی کال واپس

پرویز خٹک کی قیادت میں جرگہ قبول، انکوائری کے مطالبے سے دستبردار، پختونوں کی ملک کیلیے شہادتیں تسلیم کی گئیں، ایمل ولی

غلط پیرائے میں بات کی ہوتی تو معذرت کے لیے نہ آتا، جلسے والے کورونا صورتحال بھی دیکھیں، اعجاز شاہ، پرویز خٹک فوٹو: فائل

عوامی نیشنل پارٹی نے وزیر داخلہ اعجاز شاہ کی اپنے بیان پر معذرت قبول کر لی۔

وزیر داخلہ اعجاز شاہ کی اپنے بیان پر عوامی نیشنل پارٹی نے معذرت قبول کر لی جب کہ 11 نومبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کی کال واپس لے لی گئی، وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کی قیادت میں پی ٹی آئی کے جرگے نے باچاخان مرکز پشاور میں اے این پی کے قائدین سے ملاقات کی، وزیر داخلہ بریگیڈئیر (ر) اعجاز شاہ اور صوبائی وزیر تیمور جھگڑا بھی جرگہ میں شامل تھے۔


بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈئیر (ر) اعجاز شاہ نے کہا کہ انھوں نے پختونوں اور ان کے شہدا سے متعلق کسی غلط پیرائے میں اگر بات کی ہوتی تو وہ پشاور معذرت کرنے نہ آتے، وہ پختونوں اور شہداء کی قدر کرتے ہیں اور انہیں خوشی ہے کہ ان کا جرگہ قبول کر لیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ ان کی پشاور آمد کا مقصد پختونوں کی دل آزاری کا ازالہ ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے اس وقت جو حالت ہے اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ ہم نے جرگہ قبول کیا ہے اور اب 11 نومبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ نہیں کرینگے۔

انہوں نے کہا کہ ہم انکوائری کے مطالبہ سے بھی دستبردار ہو گئے ہیں کیونکہ یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ جو شہادتیں ہوئیں وہ ملک و قوم کے لئے ہوئیں کسی اور مقصد کے لئے نہیں۔
Load Next Story