زائد سواریاں اٹھانے پرسی این جی رکشوں کے خلاف درخواست پر نوٹس
سی این جی رکشا میں 3سواریوں کی گنجائش ہوتی ہے مگر8سے11سواریوں کو بٹھایا جاتا ہے،درخواستگزار
شہر کی اہم شاہراہوں پر یہ سی این جی رکشے حادثات کا سبب بن رہے ہیں۔فوٹو:فائل
شہر میں چلنے والے غیرقانونی سی این جی رکشوں کیخلاف دائر درخواست پر چیف سیکریٹری، وزارت ٹرانسپورٹ،وزارت قانون،محکمہ ایکسائز اینڈٹیکسیشن آئی جی سندھ،ایڈمنسٹریٹرکے ایم سی اور دیگر کو 16جنوری کیلیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا گیا۔
رانا فیض الحسن کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ سی این جی رکشا میں 3سواریوں کی گنجائش ہوتی ہے مگر ان میں اضافی نشست نصب کرکے 8سے11سواریوں کو بٹھایا جاتا ہے اور اسٹینڈ پربھی دو تین افراد لٹکتے ہیں جو کہ موٹر وہیکل آڑدیننس1965کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
شہر میں چلنے والے آٹورکشہ کی تعداد80ہزار سے تجاوزکرگئی ہے جن میں30ہزار سی این جی رکشہ شامل ہیں، درخواست میں کہا گیا ہے کہ شہر کی اہم شاہراہوں پر یہ سی این جی رکشے حادثات کا سبب بن رہے ہیں جن میں یونیورسٹی روڈ تا ایم اے جناح روڈ،شاہراہ پاکستان،ناگن چورنگی سے ایم اے جناح روڈ ٹاور،شہید ملت روڈ،کورنگی ایکسپریس وے،صدر تاکورنگی اور شاہراہ فیصل پربھی سی این جی رکشہ مافیا اور ٹریفک پولیس کی سرپرستی میں چل رہے ہیں۔
رانا فیض الحسن کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ سی این جی رکشا میں 3سواریوں کی گنجائش ہوتی ہے مگر ان میں اضافی نشست نصب کرکے 8سے11سواریوں کو بٹھایا جاتا ہے اور اسٹینڈ پربھی دو تین افراد لٹکتے ہیں جو کہ موٹر وہیکل آڑدیننس1965کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
شہر میں چلنے والے آٹورکشہ کی تعداد80ہزار سے تجاوزکرگئی ہے جن میں30ہزار سی این جی رکشہ شامل ہیں، درخواست میں کہا گیا ہے کہ شہر کی اہم شاہراہوں پر یہ سی این جی رکشے حادثات کا سبب بن رہے ہیں جن میں یونیورسٹی روڈ تا ایم اے جناح روڈ،شاہراہ پاکستان،ناگن چورنگی سے ایم اے جناح روڈ ٹاور،شہید ملت روڈ،کورنگی ایکسپریس وے،صدر تاکورنگی اور شاہراہ فیصل پربھی سی این جی رکشہ مافیا اور ٹریفک پولیس کی سرپرستی میں چل رہے ہیں۔