ارکان پارلیمنٹ کے گوشواروں کی ازخودتحقیقات نہیں کرسکتےالیکشن کمیشن
گوشوارے غلط ہونے کی صورت میں رکن کو 5 سال قید اور 5ہزار روپے جرمانے کےساتھ نا اہلی کی سزا بھی ہوسکتی ہے
گوشوارے غلط ہونے کی صورت میں رکن کو 5 سال قید اور 5ہزار روپے جرمانے کےساتھ نا اہلی کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔ ۔ فوٹو؛فائل
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کے گوشواروں کی از خود تحقیقات نہیں کر سکتے۔
شکایت کنندہ عدالت سے رجوع کر سکتا ہے'کسی رکن کے گوشوارے غلط ثابت ہو جاتے ہیں تو اسے 5 سال قید اور 5 ہزار روہے تک جرمانے کے ساتھ نااہلی کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔پیر کو ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق ارکان پارلیمنٹ کے ٹیکس گوشواروں کوشائع کرنے کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ ان کے خلاف شکایات سامنے آسکیں،اگر کسی شہری کو شکایت ہے تو وہ عدالت کے علاوہ الیکشن کمیشن کو براہ راست درخواست بھی دے سکتا ہے۔
شکایت کنندہ عدالت سے رجوع کر سکتا ہے'کسی رکن کے گوشوارے غلط ثابت ہو جاتے ہیں تو اسے 5 سال قید اور 5 ہزار روہے تک جرمانے کے ساتھ نااہلی کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔پیر کو ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق ارکان پارلیمنٹ کے ٹیکس گوشواروں کوشائع کرنے کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ ان کے خلاف شکایات سامنے آسکیں،اگر کسی شہری کو شکایت ہے تو وہ عدالت کے علاوہ الیکشن کمیشن کو براہ راست درخواست بھی دے سکتا ہے۔