شام فورسز کی بمباری جاری8روز میں300ہلاکتیں روس نے کیمیائی ہتھیار تلف کرنے کیلیے سامان بھیج دیا
مرنیوالوں میں87 بچے،30 خواتین اور30 باغی بھی شامل، ملک کو شدت پسندوں کی بربریت کا سامنا ہے، بشار الاسد
سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے شامی بحران کوحل کرنے کے لیے 3 نکاتی فارمولہ پیش کردیا۔فوٹو:رائٹرز
شام کے شہر حلب میں سرکاری فوج کے جنگی طیاروں کی 8 روزہ بمباری میں 87 بچوں سمیت ہلاکتیں 300 سے زائد ہوگئیں۔
ذرائع کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد سے اسپتال بھر گئے۔ بمباری کی ہرسطح پر مذمت کی گئی ہے۔ شام کی ایک انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق مرنے والوں میں 30 خواتین اور 30 باغی بھی شامل ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق ضلع مرجا میں ایک اور حملے میں 3 بچوں سمیت مزید 5 افراد ہلاک ہوگئے۔ ادھر روس نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لیے 75 گاڑیاں اوردیگر سامان شام بھیج دیا ہے۔ سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے شامی بحران کوحل کرنے کے لیے 3 نکاتی فارمولہ پیش کردیا۔
انھوں نے کہا کہ شام میں امن لانے کے لیے ملک میں شفاف انتخابات ہونے چاہیں اور اس کے بعد انتخابی نتائج کو کھلے دل سے تسلیم بھی کرنا چاہیں اور تیسرا یہ کہ شام میں عالمی امن فوج کو تعینات کیا جائے۔ ایرانی مجلس کی خارجہ کمیٹی کے وائس چیئرمین منصورحقیقت پور نے کہا ہے کہ ایران کے بغیر کوئی بھی قوت شامی بحران کو حل نہیں کرسکتی۔اے ایف پی کے مطابق شامی صدر بشارالاسد نے کہا کہ ملک کو شدت پسندوں کی بربریت کا سامنا ہے۔ بشارالاسد نے مغربی ممالک کے رہنمائوں کو خودغرض قراردیتے ہوئے ان کے دہرے معیار پرشدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
ذرائع کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد سے اسپتال بھر گئے۔ بمباری کی ہرسطح پر مذمت کی گئی ہے۔ شام کی ایک انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق مرنے والوں میں 30 خواتین اور 30 باغی بھی شامل ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق ضلع مرجا میں ایک اور حملے میں 3 بچوں سمیت مزید 5 افراد ہلاک ہوگئے۔ ادھر روس نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لیے 75 گاڑیاں اوردیگر سامان شام بھیج دیا ہے۔ سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے شامی بحران کوحل کرنے کے لیے 3 نکاتی فارمولہ پیش کردیا۔
انھوں نے کہا کہ شام میں امن لانے کے لیے ملک میں شفاف انتخابات ہونے چاہیں اور اس کے بعد انتخابی نتائج کو کھلے دل سے تسلیم بھی کرنا چاہیں اور تیسرا یہ کہ شام میں عالمی امن فوج کو تعینات کیا جائے۔ ایرانی مجلس کی خارجہ کمیٹی کے وائس چیئرمین منصورحقیقت پور نے کہا ہے کہ ایران کے بغیر کوئی بھی قوت شامی بحران کو حل نہیں کرسکتی۔اے ایف پی کے مطابق شامی صدر بشارالاسد نے کہا کہ ملک کو شدت پسندوں کی بربریت کا سامنا ہے۔ بشارالاسد نے مغربی ممالک کے رہنمائوں کو خودغرض قراردیتے ہوئے ان کے دہرے معیار پرشدید تنقید کا نشانہ بنایا۔