موبائل سروسز بندکرنا کوئی حل نہیں

معمول بن گیا ہے کہ ہر حساس موقع پر موبائل فون سروس بند کر دی جاتی ہے

معمول بن گیا ہے کہ ہرحساس موقع پر موبائل فون سروس بند کر دی جاتی ہے۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
منگل کو موبائل سروسز بند ہونے کے باعث ملک بھر میں لوگوں کو ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کے معاملے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت نے شہدائے کربلا کے چہلم کے موقع پر سیکیورٹی کو فول پروف بنانے کے لیے جو اقدامات کیے ان میں موبائل سروسز بند کرنے کا اقدام بھی شامل تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ شہدائے کربلا کے چہلم کے موقع پر دہشت گردی کا شدید خطرہ تھا۔ اس خطرے کے تدارک کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جانے چاہیے تھے لیکن یہ اب معمول بن گیا ہے کہ ہر حساس موقع پر موبائل فون سروس بند کر دی جاتی ہے۔


اس سے لوگوں کو ایک دوسرے سے رابطہ کرنے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک آدمی گھر سے باہر ہے اور وہ کسی مشکل میں پھنس گیا ہے اس کے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے کہ وہ فوری طور پر متعلقہ حکام یا گھر والوں سے رابطہ کر سکے۔ دہشت گردی ایک ایسا عفریت ہے جو مسلسل قوم کا تعاقب کر رہا ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے انٹیلی جنس اداروں کی کارکردگی کو غیرمعمولی حد تک بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مذہبی حلقوں کو بھی ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
Load Next Story