کامیابی قدم چومے گی… مگر

لاہور میں سونامی نہیں آیا البتہ کچھ پُرشور لہروں نے اپنا جلوہ ضرور دکھایا۔۔۔

zahedahina@gmail.com

ISLAMABAD:
نیٹو سپلائی روکنے کے لیے دھرنا تحریک کے ٹھیک ایک ماہ بعد لاہور میں مہنگائی کے خلاف ریلی نکالی گئی۔ اندازوں کے مطابق اس ریلی کو وہ کامیابی نہیں ملی جس کے دعوے کیے جارہے تھے ۔ اس ریلی میں شریک لوگوں کی تعداد اکتوبر 2011 اور مارچ 2013 میں مینار پاکستان پر ہونے والے جلسوں میں شریک افراد کے مقابلے میں بہت کم تھی۔ لاہور میں سونامی نہیں آیا البتہ کچھ پُرشور لہروں نے اپنا جلوہ ضرور دکھایا۔ سیاسی اصطلاح میں آٹھ دس ہزار کے مجمعے کو باآسانی ایک یا دو لاکھ قرار دیا جاتا ہے لیکن سیاسی رہنما اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کو کتنی عوامی پذیرائی ملی ہے۔ اعلان کیا گیا ہے کہ جنوری کے مہینے میں عمرکوٹ اور راولپنڈی میں بھی ایسی ریلیاں منعقد کی جائیں گی۔ ان دو شہروں کا انتخاب سوچ سمجھ کرکیا گیا ہے۔ عمر کوٹ ایک چھوٹا سا شہر ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہاں ریلی کا انعقاد اس لیے کیا جارہا ہے کہ اس علاقے میں شاہ محمود قریشی کے مریدین کی ایک بڑی تعداد آباد ہے جو اپنے پیر کے حکم پر ریلی میں شرکت کو اپنا فرض سمجھے گی۔

راولپنڈی کے ایک حلقے سے شیخ رشید کامیاب ہوئے ہیں جنھیں بعض لوگ عمران خان کا سیاسی گرو کہتے ہیں، عمران خان خود بھی راولپنڈی سے جیتے ہیں۔راولپنڈی دو سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کا شہر ہے لہٰذا یہاں ریلی کامیاب ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔ دھرنا تحریک کے پہلے ماہ کے مکمل ہونے کے بعد لاہور سے ریلی تحریک کا آغاز ظاہر کرتا ہے کہ دھرنوں کو علامتی طور پر جاری رکھا جائے گا، لیکن سیاسی سبکی سے بچنے اور بلدیاتی انتخابات میں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے مہنگائی ریلی تحریک کو آگے بڑھایا جائے گا۔ تاہم، لاہور میں ریلی کے نتائج کو دیکھتے ہوئے اس تحریک کو ایک ماہ کے اندر محض دو شہروں تک محدود رکھنے کا مفہوم یہی ہے کہ مہم چلانے والے جانتے ہیں کہ پاکستان کے عوام احتجاج کے لیے آمادہ نہیں ہیں اور منتخب نمایندوںکو کام کرنے کا پورا موقع دینا چاہتے ہیں۔ انھیں اندازہ ہے کہ چہروں کی تبدیلی سے نہ مہنگائی ختم ہوگی اور نہ ڈرون حملے رکیں گے۔ مہنگائی کے خاتمے کے لیے معاشی عمل میں تیزی اور ڈرون حملوں کو ختم کرنے کے لیے افغانستان سے امریکا کا انخلا ضروری ہے۔ دھرنوں اور ریلیوںسے یہ دونوں کام ممکن نہیں ۔

پاکستان اس لحاظ سے ایک منفرد ملک ہے کہ یہاں کے ناخواندہ عوام اپنے دانش وروں اور سیاسی اور مذہبی رہنماؤں سے کہیں زیادہ سیاسی بصیرت کے مالک ہیں۔ پاکستان میں چار مارشل لا لگ چکے ہیں۔ چاروں مرتبہ فوجی آمروں نے عوام کو ان کی پسندیدہ سیاسی جماعتوں سے برگشتہ کرنے کے تمام ذرایع استعمال کیے لیکن ہر مرتبہ انھیں رسوا ہوکر اقتدار سے دستبردار ہونا پڑا۔ اپنے دور میں انھوں نے جن سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو پروان چڑھایا، آئین میں من مانی ترامیم کرکے جو بھی سیاسی نظام تشکیل دیے، عوام نے موقع ملنے پر ان سب کو مسترد کردیا۔ 2008 کے عام انتخابات میں ، جنرل پرویز مشرف کے حامی سیاستدانوں اور ان کی جماعتوں کو انتخابات میں ہزیمت اٹھانی پڑی تھی۔

2013 کے عام انتخابات میں بھی توقعات کے مطابق وہی سیاسی جماعتیں کامیاب ہوئیں جو عوام میں گہری جڑیں رکھتی ہیں۔ مذکورہ انتخابات میں تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں کو ان کے اندازوں کے مطابق عوامی پذیرائی نہیں ملی جس سے ان کے اندر جھنجھلاہٹ پیدا ہوئی ۔ انھوں نے سیاسی حقائق کو ماننے کے بجائے دھاندلی کا شور مچایا لیکن بعد ازاں، ضمنی انتخابات کے نتائج میں دھاندلی کے الزامات لگانے والوں کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلے دھاندلی کا شور پھر ڈرون دھرنے اور اس کے بعد مہنگائی ریلی یہ سب سیاسی جھنجھلاہٹ کے مختلف مظاہر ہیں۔


عوام کی سیاسی دانش انھیں سیاست اور حقیقت کے درمیان فرق کرنے کی بے مثال صلاحیت عطا کرتی ہے۔ جس جماعت کی سیاست، حقیقت کے قریب تر ہوتی ہے، اسے عوامی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جس پر ان رہنماؤں اور سیاسی جماعتوں کو غورکرنا چاہیے جو مستقبل میںسیاسی اقتدار حاصل کرنے کی آرزو مند ہیں۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ نیٹو سپلائی روکنے سے جب ڈرون حملے نہیں بند ہوںگے تو پھر اسے روکنے کے لیے دھرنے کیوں دیے جارہے ہیں؟ فرض کیجیے اگر مقصد واقعی ڈرون حملوں کو روکنا ہے تو پھر دھرنے کراچی کی بندر گاہ پر کیوں نہیں دیے جاتے جہاں سے یہ سپلائی شروع ہوتی ہے۔ سپلائی پورے سندھ اور پنجاب سے گزر کر صوبہ پختونخوا پہنچتی ہے تو دھرنے ان دو صوبوں کی سڑکوں پر دیے جانے چاہئیں۔ پہلے سے تباہ حال خیبرپختونخوا کو اس مہم کا مرکز بنا کر اس کی معیشت اور کاروبار کو کیوں بے پناہ نقصان پہنچایا جارہاہے؟ وہ سیاستدان جو شاندار ٹرالر میں کھڑے ہوکر مہنگائی کے خلاف ریلی کی قیادت کررہے ہیں وہ سب کے سب خوشحال طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔

کوئی سگار کے مرغولے اڑاتا ہے، کوئی اربوں کے شاندار محل نما گھر میں رہتا ہے، کوئی بڑا جاگیردار ہے اور لاکھوں اس کے مرید ہیں، ان رہنماؤں کو آلو، ٹماٹر، پیاز اور دوسری سبزیوں کے بھاؤ تک معلوم نہیں ۔ مہنگائی کے خلاف ریلی عوام کے دل کو بھاتی ہے لیکن کیا کیا جائے کہ وہ سیاست اور حقیقت میں فرق کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیںکہ مہنگائی آج کا نہیں بہت پرانا مسئلہ ہے، مہنگائی کے خلاف ریلی نکالنے والوں کو ماضی میں مہنگائی کا خیال کبھی نہیں آیا، اب اچانک عوام کا درد ان کے دلوں میں کیسے جاگ اٹھا؟ چلیں دیر آید درست آید۔ اچھی بات کبھی بھی یاد آسکتی ہے لیکن یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مہنگائی کے خلاف ریلی کا آغاز لاہور سے ہی کیوں کیا گیا؟ تمام اعدادو شمار یہ بتاتے ہیں کہ اشیائے ضرورت کی قیمتیں لاہور اور پنجاب میں کم اور پشاور اور صوبہ پختونخوا میں کہیں زیادہ ہیں۔ سیاست حقیقت پر مبنی ہوتی تو اس ریلی کا آغاز پشاور سے ہونا چاہیے تھا۔ زراعت اور تعلیم صوبے کا معاملہ ہے۔ پنجاب کی کارکردگی سب سے بہتر ہے اور سزا بھی اسی کو دی جارہی ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا اور وفاقی حکومت کو چھوڑ کر لاہور کو تحریک کا ہدف بنانا ایک غیر حقیقت پسندانہ عمل ہے۔ اس کا مقصد مہنگائی کو کم کرنا نہیں بلکہ اپنی حریف جماعتوں کو نیچا دکھانا ہے۔ لوگ اس طرز کی سیاست سے اکتا چکے ہیں۔ عوام احتجاجی تحریک چلانے والوں سے چاہتے ہیں کہ وہ عملی طور پر یہ ثابت کریں کہ جس صوبے میں انھیں اقتدار ملا ہے وہاں ان کی کارکردگی ان کی حریف جماعت کے مقابلے میں کہیں زیادہ اعلیٰ ہے۔ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال مخدوش ہے۔ کراچی میں بھتہ خوری کم ہوئی ہے لیکن بھتہ خوروں کا مرکز اب کے پی کے بن گیا ہے۔ کرپشن اور بدعنوانی کا یہ عالم ہے کہ صوبے کے کئی وزراء پر بدعنوانی کے سنگین الزامات کے سبب انھیں خود نکالنا پڑا ہے۔ تعلیم کا شعبہ انتہائی زبوں حالی کا شکار ہے۔ اس صوبے کے 2625 اسکولوں میں صرف ایک استاد موجود ہے۔ ان میں 1175 اسکول لڑکوں جب کہ 1450 اسکول لڑکیوں کے ہیں اور ان میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا و طالبات کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہے۔ چھ مہینوں کے اندر ڈھائی ہزار اسکولوں میں ایک سے زیادہ استاد فراہم نہ کرسکنے والی سیاسی جماعت ملک کے تعلیمی نظام کو درست کرنے کی کتنی اہلیت رکھتی ہے وہ اظہر من الشمس ہے۔ تبدیلی لانے کے نعرے پر انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے والوں نے تھانہ کلچر تین مہینوں کے اندر بدل دینے کا وعدہ کیا تھا۔ آج تھانے اور تھانے دار دونوں وہی ہیںکچھ تبدیل نہیں ہوا۔ موجودہ انتخابی نظام کو یہ کہہ کر رد کیا گیا تھا کہ تھانے دار اور پٹواری مل کر لوگوںکو انتخابات جتواتے ہیں۔ پنجاب پر تو خاص الزام تھا کہ وہاں کا مینڈیٹ پٹواریوں کا مرہون منت ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ 6 ماہ کے اندر آدھے سے زیادہ پٹواری نظام پنجاب سے ختم ہوگیا ہے جہاں اب پٹواری کے بغیر اراضی کے تمام امور ایک گھنٹے کے اندر طے پا جاتے ہیں۔ دوسری جانب چھ ماہ بعد بھی خیبرپختونخوا میں پٹواری نظام اپنے پرانے جاہ و جلال کے ساتھ کام کررہا ہے۔ اس طرح کی اور کئی مثالیں ہیں جو پیش کی جاسکتی ہیں۔ بات اس نکتے سے شروع ہوئی تھی کہ عوام کے پاس ایسی دانش ہے جو اس کے سیکڑوں برس کے تجربوں کا نچوڑ ہے۔ عوام اپنی دانش کی بنیاد پر یہ سمجھتے ہیں کہ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں راتوں رات کوئی تبدیلی نہیں لائی سکتی لہٰذا جذباتی نعروں کے فریب میں نہیں آنا چاہیے ، وہ سیاست اور حقیقت کے درمیان فرق سمجھتے ہیں۔ ایسی سیاست جو محض سیاسی دشمنی پر مبنی ہو اور حقائق سے دور ہو، وہ اسے قبول نہیں کرتے۔ تیسرا اور غالباً سب سے اہم اصول عوام یہ وضع کرتے ہیں کہ قول اور عمل کے درمیان مطابقت وہ سیاسی حمایت مہیا کرنے کا معیار بناتے ہیں۔

سیاسی تحریک چلانا ہر سیاسی جماعت کا بنیادی حق ہے لیکن ایسا کرنے سے قبل تمام سیاسی جماعتوں کو اس بات پرغور کرلینا چاہیے کہ کیا وہ ان اصولوں اورمعیار پر پورا اترتے ہیں جو عوام نے اپنی اجتماعی دانش کے نتیجے میں متعین کررکھے ہیں؟ اگر ہاں تو آگے بڑھیں، تحریک چلائیں اور اگر نہیں تو پہلے عوام کے مطلوبہ معیار پر پورے اتریں، اس کے بعد تحریک کا آغاز کریں، کامیابی یقیناً ان کے قدم چومے گی۔
Load Next Story