حفاظتی ویکسین تا حال ناپید سندھ میں خسرہ کی انسدادی مہم التوا کا شکار

خسرے کی موجودہ وبا نے ملک میں ہلاکتوں کا ریکارڈتوڑدیا،رواں سال سندھ میں خسرے سے79 اوربلوچستان میں38 بچے جاں بحق ہوگئے

مہم کیلیے30 لاکھ ٹیکے درکار ہیں،ویکسین کی عدم دستیابی سے سندھ میں بچے دوسرے حفاظتی ٹیکے سے محروم،عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ فوٹو: فائل

عالمی ادارہ صحت نے رواں سال جنوری میں خسرہ کے حوالے سے جاری کی جانے والی رپورٹ میں کہا ہے کہ رواں سال کے ابتدائی 36 دن میں 3 ہزار بچوں میں خسرہ کی تصدیق ہوئی تھی۔

جبکہ 131 بچے اس وائرل سے جاں بحق ہوگئے تھے، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خسرے کی موجودہ وبا نے پاکستان میں ہلاکتوں کا ریکارڈ توڑ دیا ہے رواں سال سندھ میں خسرے سے 79بلوچستان میں 38، خیبر پختونخواہ اور پنجاب میں 6، 6 بچے جاں بحق ہوئے، صوبہ سندھ میں رواں سال جون میں دوبارہ بھرپور مہم شروع کرنے کا اعلان کیاگیا جو تاحال شروع نہ ہوسکی، ملک میں 2011 کے دوران خسرہ کے کیسوں میں 5 گنا اضافہ ہوا تھا جس سے سندھ میں 460 بچے جاں بحق ہوگئے تھے اور خسرے کی ہولناکی پر حفاظتی ویکسین کی طلب بڑھنے سے ملک بھر میں ویکسین ناپید ہوگئی تھی، پاکستان حفاظتی ویکسین عالمی ادارے یونیسیف کے ذریعے خریدتا ہے خریداری کے قوانین پیچیدہ ہونے سے بروقت ویکسین کی فراہمی مشکل ہے ۔




یہی وجہ تھی کہ رواں سال جنوری میں شروع کی جانے والی انسداد خسرہ مہم میں بچوں کو پہلا ٹیکہ لگایا گیا جبکہ دوسرے ٹیکے کیلیے ویکسین کا ذخیرہ ختم ہوگیا جس کے بعد ای پی آئی حکام کا کہنا تھا کہ سندھ میں انسداد خسرہ مہم جون میں دوبارہ شروع ہوگی جو اب تک شروع نہیں ہوسکی ہے، سندھ میں خسرہ سے بچائو کے لیے30 لاکھ ٹیکے (ڈوز) درکار ہیں، واضح رہے کہ ملک بھر میں خسرہ کی وبا نے2011 میں شدت اختیار کی تھی جس سے سندھ میں460 سے زائد بچے جاں بحق اور ہزاروں متاثر ہوچکے ہیں، ماہرین طب کا کہنا ہے کہ خسرہ وائرل سے بچاؤکے2 حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں تاہم سندھ میں بچوںکو صرف ایک ہی ٹیکہ لگایا گیا ہے، ملک بھر میں2011 کے دوران 5 ہزار اور 2012 میں21 ہزاربچے خسرہ میں مبتلا ہوئے جبکہ سندھ میں خسرہ سے 12ہزار 650 سے زائد بچے متاثر ہوئے اور صرف سندھ میں2011 کے دوران 1709 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
Load Next Story