حضرت امام حسین کا چہلم عقیدت و احترام سے منایا گیا
نشترپارک میں مجلس کے بعد جلوس برآمد ہوا جوحسینیہ ایرانیان پر اختتام پذیر ہوا
حضرت امام حسین وشہدائے کربلا کے چہلم پرنکالا جانے والا جلوس ایم اے جناح روڈ سے گزر رہا ہے ۔ فوٹو : ایکسپریس
حضرت امام حسین کا چہلم نہایت عقیدت و احترام سے منایا گیا۔
شہر بھر میں مجالس عزا منعقد ہوئیں اور ماتمی جلوس نکالے گئے، نشترپارک میں صبح مرکزی مجلس منعقد ہوئی جس سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز عالم دین مولانا شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ دین کی فلاح ، انسانیت کی بقا اور امن کے قیام کیلئے سید الشہدا امام حسین کے پیغام کو عام کیا جائے، انھوں نے کہا کہ آج مسلم امہ جس کرب اور پریشانی سے دوچار ہے اس سے نجات کیلیے کربلا والوں کے حوصلے اور جرأت سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے، دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کیلیے دشمنوں کی سازشوں سے ہوشیار رہنا ہوگا کیونکہ مسلمانوں کا دشمن مشترکہ ہے، نشترپارک میں مرکزی مجلس کے بعد علم و ذوالجناح کا مرکزی جلوس برآمد ہوا جس کی قیادت بوتراب اسکائوٹس نے کی، مرکزی جلوس کے شرکا نے نماز ظہرین ایم اے جناح روڈ پر امام بارگاہ علی رضا کے سامنے ادا کی ۔
جس کے انتظامات آئی ایس او نے کیے تھے،اس موقع پر آئی ایس او کے تحت فلسطین میں اسرائیلی مظالم اور ملک میں جاری دہشت گردی کے واقعات خصوصا کراچی میں بم دھماکوں کیخلاف احتجاج کیا گیا اور دہشت گردی کی مذمت کی گئی، مظاہرے کے شرکا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ قاتلوں اور دہشت گردوں کو گرفتار کرکے انھیں عبرتناک سزا دے، مرکزی جلوس اپنے مقررہ راستوں پرانی نمائش، ایم اے جناح روڈ، ایمپریس مارکیٹ، ریگل چوک، تبت سینٹر، ریڈیو پاکستان سے ہوتا ہوا حسینیہ ایرانیاں کھارادر پر اختتام پذیر ہوا،مختلف تنظیموں کے تحت نشترپارک، پرانی نمائش اور اس کے اطراف استقبالیہ و طبی کیمپ لگائے گئے تھے، انتظامیہ نے چہلم امام حسین کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے اور مساجد و امام بارگاہوں سمیت شہر کے تمام حساس مقامات پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا تھا، انتظامیہ نے ٹریفک کے بھی متبادل انتظامات کیے تھے اور پبلک ٹرانسپورٹ کو جلوس کے راستوں میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔
شہر بھر میں مجالس عزا منعقد ہوئیں اور ماتمی جلوس نکالے گئے، نشترپارک میں صبح مرکزی مجلس منعقد ہوئی جس سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز عالم دین مولانا شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ دین کی فلاح ، انسانیت کی بقا اور امن کے قیام کیلئے سید الشہدا امام حسین کے پیغام کو عام کیا جائے، انھوں نے کہا کہ آج مسلم امہ جس کرب اور پریشانی سے دوچار ہے اس سے نجات کیلیے کربلا والوں کے حوصلے اور جرأت سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے، دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کیلیے دشمنوں کی سازشوں سے ہوشیار رہنا ہوگا کیونکہ مسلمانوں کا دشمن مشترکہ ہے، نشترپارک میں مرکزی مجلس کے بعد علم و ذوالجناح کا مرکزی جلوس برآمد ہوا جس کی قیادت بوتراب اسکائوٹس نے کی، مرکزی جلوس کے شرکا نے نماز ظہرین ایم اے جناح روڈ پر امام بارگاہ علی رضا کے سامنے ادا کی ۔
جس کے انتظامات آئی ایس او نے کیے تھے،اس موقع پر آئی ایس او کے تحت فلسطین میں اسرائیلی مظالم اور ملک میں جاری دہشت گردی کے واقعات خصوصا کراچی میں بم دھماکوں کیخلاف احتجاج کیا گیا اور دہشت گردی کی مذمت کی گئی، مظاہرے کے شرکا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ قاتلوں اور دہشت گردوں کو گرفتار کرکے انھیں عبرتناک سزا دے، مرکزی جلوس اپنے مقررہ راستوں پرانی نمائش، ایم اے جناح روڈ، ایمپریس مارکیٹ، ریگل چوک، تبت سینٹر، ریڈیو پاکستان سے ہوتا ہوا حسینیہ ایرانیاں کھارادر پر اختتام پذیر ہوا،مختلف تنظیموں کے تحت نشترپارک، پرانی نمائش اور اس کے اطراف استقبالیہ و طبی کیمپ لگائے گئے تھے، انتظامیہ نے چہلم امام حسین کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے اور مساجد و امام بارگاہوں سمیت شہر کے تمام حساس مقامات پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا تھا، انتظامیہ نے ٹریفک کے بھی متبادل انتظامات کیے تھے اور پبلک ٹرانسپورٹ کو جلوس کے راستوں میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔