وطن کابیٹا یونس حسین

تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے 1965 میں پاک فضائیہ میں شمولیت اختیار کی۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے 1965 میں پاک فضائیہ میں شمولیت اختیار کی۔ فوٹو: فائل

KARACHI:
قیام پاکستان کے وقت اُن کی عمر بہ مشکل بارہ تیرہ برس تھی۔

خاندان کے دیگر افراد کے ہم راہ وہ بھی ایک اَن دیکھے وطن کی طرف عازم سفر ہوئے جس کی بنیاد ہی دو قومی نظریے پر رکھی گئی تھی۔ جائے پیدائش کو چھوڑنے پر ایک الگ وطن کو حاصل کرلینے کی خوشی ہر ہجرت کرنے والے کے چہرے سے عیاں تھی، لیکن ہجرت کا سفر دوسرے مسلمانوں کی طرح اس نوعمر نوجوان اور اس کے خاندان کے لیے بھی ایک بھیانک خواب ثابت ہوا تھا۔ ان کا خاندان پانی پت سے پاکستان کے لیے روانہ ہوا تھا۔

جلتے ہوئے مکان، کٹی پھٹی اُدھڑی ہوئی بے گوروکفن لاشیں، نیزوں اور بھالوں سے چھیدے گئے جسم، غرض انسانیت کی تذلیل کا ایسا کون سا منظر تھا جو انہوں نے نہیں دیکھا۔ ہجرت کا دکھ کیا ہوتا ہے؟ وہ اچھی طرح جانتے تھے۔ بڑی مصیبتیں اور مشکلات جھیل کر ان کا خاندان پاکستان پہنچا اور جھنگ میں آباد ہوگیا۔ لیکن ہجرت کے مناظر اب بھی ان کے اعصاب پر بری طرح سوار تھے۔ وہ شروع سے ہی حساس طبیعت کے مالک تھے۔ عورتوں اور بچوں کی چیخیں انہیں بے چین کیے رکھتیں۔ پاکستان سے ان کو والہانہ عقیدت تھی۔ وطن سے محبت کا جذبہ ان کے دل میں ٹھاٹھیں مارتا تھا۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے 1965 میں پاک فضائیہ میں شمولیت اختیار کی۔ محنت، شوق اور وطن کے لیے کچھ کر دکھانے کا جذبہ اس حد تک بڑھا ہوا تھا کہ ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے 1963 میں انہیں فلائٹ لیفٹیننٹ کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ اس عہدے پر فائز ہوئے ابھی دو ہی سال کا عرصہ ہوا تھا کہ آزمایش کا وقت آن پہنچا۔ 6 ستمبر 1965 کی صبح بھارت نے بین الاقوامی سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان پر بلاجواز حملہ کردیا۔ بھارتی جرنیلوں کا جنگی جنون پاگل پن کی حدوں کو چُھو رہا تھا۔

وہ اپنے تئیں اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ رات کی تاریکی میں پاک فوج پر شب خون مارتے ہوئے لاہور پر قبضہ کر لیںگے۔ لیکن ہمارے سرحدی محافظ اس رات بھی چوکس تھے۔ دشمن طاقت کے نشے میں مست ہوکر پاکستان میں گھس تو آیا لیکن بی آر بی نہر کو عبور کرنا اس کے لیے ناقابل تسخیر چیلنج بن چکا تھا۔ لاہور سیکٹر پر شیردل مجاہد میجر عزیز بھٹی کی کمپنی ''دو پلاٹون'' متعین تھی جو انتہائی بے جگری سے لڑتے ہوئے لاہور کے دفاع میں مصروف تھی۔ جب کہ دوسری جانب دشمن صرف اسی ایک سیکٹر پر اپنی پوری بٹالین جھونک چکا تھا۔ ٹینکوں اور توپوں کی بھرپور مدد حاصل ہونے کے باوجود دشمن کے لیے لاہور کو فتح کرنا تو درکنار بی آر بی نہر عبور کرنا بھی نصیب نہ ہوا۔

دوسری جانب فضائیہ کے شاہین بھارتی طیاروں کا شکار کھیلنے میں مصروف تھے۔ شاہینوں نے جنگ کے پہلے ہی دن بائیس بھارتی طیارے گرا کر دشمن پر کاری ضرب لگائی تھی۔


31 سالہ فلائٹ لیفٹیننٹ تین ہوابازوں کے اس فارمیشن (F-86) میں شامل تھا جسے ہلواڑہ اور پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈوں کو تباہ کرنے کا ٹاسک ملا تھا۔ دس ہنٹر ایئرکرافٹ پر مبنی اس مشن کی قیادت اسکواڈرن لیڈر سرفراز احمد رفیقی کے سپرد تھی۔ تینوں ہواباز جانتے تھے کہ وہ اپنی زندگی کے ایک مشکل اور پُرخطر مشن پر روانہ ہورہے ہیں۔ پٹھان کوٹ کا ہوائی اڈا اپنی وسعت اور جنگی نقطۂ نظر سے انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔

اطلاعات تھیںکہ پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈے پر بھارتی جنگی طیارے پاکستان پر بمباری کے لیے تیار کھڑے ہیں۔ رات کی تاریکی دن کی روشنی کو تیزی سے نگل رہی تھی۔ جیسے جیسے دشمن کے علاقے کی حدود قریب آرہی تھیں ویسے ویسے نوجوان ہواباز کی آنکھوں کی چمک بڑھتی جارہی تھی۔ اسے یقین تھا کہ آج اس کاوہ خواب ضرور پورا ہوگا جس کی تمنا برسوں سے اُس کے دل میں تھی۔

پٹھان کوٹ کی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی تینوں جاںباز دشمن طیاروں کی بھاری تعداد میں موجودگی بھانپ چکے تھے۔ فضا میں طیاروں کے درمیان خوف ناک جنگ چِِھڑگئی۔ فلائٹ لیفٹیننٹ تنِ تنہا دشمن کے چھے لڑاکا طیاروں کا مقابلہ کررہا تھا۔ آن کی آن میں دو بھارتی طیارے شعلوں میں گھرے نیچے جاگرے۔ اسی دوران فلائٹ لیفٹیننٹ کا طیارہ بھی ہِٹ ہوچکا تھا۔ تجربہ کار فلائٹ لیفٹیننٹ نے اپنے طیارے کو غوطہ لگایا، اب دشمن کا ایک طیارہ اُن کے نشانے پر تھا جو ہِٹ ہوکر جلتا ہوا زمین کی طرف لپکا، لیکن اسی اثناء میں ان کا اپنا طیارہ دشمن طیارے کی فائرنگ کی زد میں آگیا۔

انہوں نے اپنے طیارے سے کنٹرول ٹاور پر اطلاع دی؛ ''میرا طیارہ اس وقت آگ کی لپیٹ میں ہے اور میں زخمی ہوچکا ہوں۔'' کنٹرول ٹاور سے فوراً جواب موصول ہوا؛ آپ کسی طرح پاکستانی علاقے کی حدود میں پہنچ کر پیراشوٹ کی مدد سے کود جائیں اور ہر قیمت پر اپنی جان بچائیں۔ لیکن جواب میں وطن کے اس عظیم بیٹے نے یہ تاریخی الفاظ کہے؛ ''میرے لیے وطن کی آزادی اور سلامتی اپنی جان سے زیادہ قیمتی ہے اور میں ضرور اسے اپنے وطن کے لیے قربان کروںگا۔'' یہ کہہ کر شیردل ہواباز نے اپنا جلتا ہوا طیارہ پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈے پر گرادیا۔ ایک زبردست دھماکا ہوا اور ہوائی اڈے پر کھڑے طیاروں اور گولہ بارود میں آگ لگ گئی۔

پورا پٹھان کوٹ وقفے وقفے سے ہونے والے دھماکوں سے گونج رہا تھا۔ فضائی اڈے کی تباہی نے دشمن فضائیہ کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔ ہواباز کی عظیم قربانی رنگ لائی تھی۔

پیارے کرنیں ساتھیو! کیاآپ جانتے ہیںکہ قیام پاکستان کے وقت دل دِہلا دینے والے مناظر دیکھنے والا بچہ اور 1965 کی جنگ میں پٹھان کوٹ کے اڈے پر جلتا ہوا طیارہ گرا کر اسے تباہ کرنے والا کون تھا؟
یہ فلائٹ لیفٹیننٹ یونس حُسین شہید تھے جنہوں نے جان دے کر وطن کے لیے ایک عظیم قربانی پیش کی۔ انہیں بعد ازشہادت ستارۂ جرأت سے نوازا گیا۔ بلاشبہ یہی لوگ ہمارے ہیرو ہیں اور یہی ہیرو کہلوانے کے مستحق ہیں۔
Load Next Story