حقیقی ثمرات مہیا ہوں تاکہ بات بنے
ملکی معیشت کو جو چیلنجز درپیش ہیں ان کو حل کرنے میں حکومت یقینا اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔
ملکی معیشت کو جو چیلنجز درپیش ہیں ان کو حل کرنے میں حکومت یقینا اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ فوٹو: فائل
پاکستان کی کمزور معیشت میں قدرے بہتری کے آثار نمودار ہونا شروع ہی ہوئے تھے کہ کورونا وائرس کی دوسری خطرناک ترین لہر آ گئی۔
امکان یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہمیں آنے والے دنوں میں ایک بار پھر سخت ترین لاک ڈاؤن کرنا پڑے گا اور اگر ایسا ہوا تو معاشی ماہرین کو خدشہ ہے کہ اس بحران کے معاشی و مالیاتی نقصانات حکومت کی تمام تر کوششوں کی نفی کا سبب بنیں گے۔ اس کی وجہ سیدھی سادی ہے کہ پاکستان کی ایک تہائی آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔
آبادی کا مزید ایک تہائی حصہ نچلے یا لوئر مڈل کلاس میں شامل ہے۔ مجموعی طور پر لگ بھگ چھیاسٹھ فیصد آبادی خط غربت کے آس پاس زندگی گزار رہی ہے، امکان ہے کہ آیندہ مالی سال میں بیروزگار افراد کی تعداد 6.64 ملین تک پہنچ سکتی ہے۔ ایسے خدشات بھی ہیں کہ طویل المدتی لاک ڈاؤن فارمل سیکٹر میں تیس فیصد افرادی قوت کی مزید بیروزگاری کا باعث بن سکتا ہے۔
پہلے ہی ملک میں کاروباری سرگرمیاں ماند ہیں اور ملکی معیشت سکڑ گئی ہے۔ شعبہ زراعت کو مسلسل اتنا نظر انداز کیا گیا ہے کہ اب یہ خسارے کا سودا ہو گیا ہے، یعنی ایک زرعی ملک بحرانی کیفیت سے دوچار ہوتا جا رہا ہے۔ شعبہ تعمیرات کے لیے تمام تر مراعات اور ترغیبات کے اعلان کے باوجود یہ شعبہ خاطر خواہ انداز میں آگے نہیں بڑھ رہاہے۔ مسائل زیادہ اور وسائل انتہائی کم ہیں، ایسے میں حکومتی سطح پر فہم و تدبر اور فراست پر مبنی فیصلوںکی قوم منتظر ہے۔
دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں فیکٹریاں اور روزگار کے مواقعے بند نہیں کریں گے اور یورپ اور انگلینڈ کی طرح مکمل لاک ڈاؤن بھی نہیں ہو گا۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کورونا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، آج ہم نے دیکھا ہے کہ ایک دن میں 50 سے زائد اموات ہو گئی ہیں اور بڑی تیزی سے اوپر جا رہی ہیں، مجھے خوف ہے کہ ہمارے اسپتالوں میں بہت تیزی سے دباؤ پڑنا شروع ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ہمیشہ خدشہ رہتا ہے اور کورونا بڑھا تو ہمیں اپنے ڈاکٹر، نرسز اور دیگر طبی عملے کی فکر ہوتی ہے۔
قوم کو آج پیغام دینا ہے کہ ہم بڑی مشکل سے ایسے معاشی حالات سے نکلے ہیں کہ باقی دنیا کے لوگ اتنے خوش قسمت نہیں ہیں۔ وزیر اعظم کے صائب خیالات سے انکار ممکن نہیں، وہ ہمیشہ ملک اور عوام کی خیر خواہی چاہتے ہیں اور اسی ضمن میں بہترین اقدامات اٹھانا بھی چاہتے ہیں لیکن کورونا کی پہلی لہر کے دوران ملکی سطح پر جن مسائل نے جنم لیا اور انھیں حل نہ کیا جا سکا وہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔
ملک بھر میں تعلیمی ادارے دوبارہ بند کر دیے گئے ہیں، یو این ڈی پی کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریباً بیالیس ملین بچے تعلیم کی سہولت سے محروم ہیں، جو کسی نہ کسی طور تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان کا بھی تعلیمی میدان میں بہت زیادہ نقصان ہوا ہے، چالیس ملین افراد کو پہلے ہی کھانے پینے کی اشیاء کی قلت کا سامنا تھا، جس میں وبا کی وجہ سے قریب ڈھائی ملین افراد کا اضافہ ہو گیا ہے۔
پاکستانی نظام صحت کا وبا سے پہلے بھی برا حال تھا اور اب مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یو این ڈی پی کے مطابق ملک میں ہر 963 افراد کے لیے ایک ڈاکٹر ہے جب کہ ہر 1,608 افراد کے لیے اوسطاً اسپتال کا ایک بستر میسر ہے۔ ملک کو دو لاکھ ڈاکٹرز اور چودہ لاکھ نرسوں کی کمی کا سامنا ہے۔
یقینا یہ اعداد و شمار بھی وزیر اعظم کے علم میں ہوںگے جب ہی وہ کہتے ہیں کہ انھیں وبا کے پھیلاؤ میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کی زندگیوں کے بارے میں فکر لاحق ہے۔ یہ درست سہی کہ حکومت نے احساس پروگرام کے تحت ملک بھر میں بارہ ہزار روپے فی خاندان تقسیم بھی کیے تھے، لیکن تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ قوم کو بھکاری بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ہے۔
ایک رائے یہ بھی ہے کہ کورونا وبا کو پاکستانی حکومت شروع ہی سے نظر انداز کر رہی ہے اور اس کی شدت کو کم بتا رہی ہے۔ متوقع دوسرے لاک ڈاؤن سے زراعت بھی متاثر ہوگی جب کہ ٹرانسپورٹ، مزدوروں اور خام مال کی فراہمی میں خلل کے باعث آیندہ برسوں کے لیے بھی یہ سیکٹر متاثر ہو گا۔ اسٹاک مارکیٹوں میں مستقل استحکام کے اشارے نہیں مل رہے۔ وجہ سادہ سی ہے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے قرضے اور وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار طویل المدتی بنیادوں پر پیسہ لگانے سے گزیر کر رہے ہیں۔ پاکستان اس وبا کے دہانے پر معیشت کی کمزور سی رسی کے سہارے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔
شاید آیندہ سال ملک کو سب سے مشکل چیلنج کا سامنا کرنا پڑے جس میں حوصلہ، قابلیت اور نظم و ضبط کی ضرورت ہو گی۔ برآمدی شعبہ کی نوید مل رہی ہے، شکر ہے، مگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو خاکم بدہن اگر ہم ناکام ہو گئے تو، ہمارے خواب تاریکیوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ملیں گے۔ اس معاملے میں تجزیہ کرتے ہوئے اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تاحال اس وائرس کا کوئی علاج دستیاب نہیں ہے۔ یہ انتہائی متعدی مرض ہے جو ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے۔
وائرس کو محدود کرنے کا واحد راستہ معاشرتی دوری اور احتیاط ہے شہروں اور دیہاتوں میں لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل درآمد کرنے سے مطلونہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں، اگر لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل نہیں کیا جاتا تو انفیکشن کے بڑے پیمانے پرپھیلنے کا دوبارہ خطرہ ہے جو صحت کے انفرااسٹرکچر کو بُری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے ضیاع کا خطرہ ہے۔ دوسری طرف لاک ڈاون سے ملکی معیشت کا دم گھٹ رہا ہے۔ معاشی مشکلات جن کا سامنا ہماری قوم پہلے سے ہی کر رہی تھی، اس میں مزید اضافہ ہونے جا رہا ہے۔
معاشرے کے غریب ترین طبقات کو دو وقت کی روٹی کا حصول بھی جوئے شِیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے۔ بیک وقت معاشی مشکلات پر قابو پانا اور وائرس کے تدارک کے لیے کوششیں کرنا ایک مشکل ٹاسک ہے۔ کوویڈ 19 سے معیشت پر پڑے منفی اثرات کے پہلوؤں کو مناسب حکمتِ عملی سے کم نقصان دہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایک لفظ حکومتی سطح پر بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے بلکہ سیکڑوں بار دہرایا جاتا ہے کہ ایس اوپیز پر عمل کریں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم حقیقی معنوں میں عوام کو اس بات کا مفہوم سمجھا سکے ہیں۔
مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول تقریبا ناممکن ہوتا جا رہا ہے لیکن حکومت مافیاز کو قابو کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے، پرائس کنٹرول کمیٹیوں کا چرچا ہے لیکن کام نہیں کر پا رہی ہیں، ٹائیگر فورس کے جوان بھی ناکام ہو گئے ہیں، ان سب پالیسیوں کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے، جب کہ اس ضمن میں وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ہمیں فوڈ سیکیورٹی کی طرف سے تخمینہ کم دیا گیا اور گندم درآمد کرنے میں تاخیر ہوئی۔
ملکی معیشت کو جو چیلنجز درپیش ہیں ان کو حل کرنے میں حکومت یقینا اپنا کردار ادا کر رہی ہے لیکن یہ سب اس وقت اچھا لگے گا جب عوام حقیقی معنوں میں تبدیلی کے ثمرات پائیں گے۔
امکان یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہمیں آنے والے دنوں میں ایک بار پھر سخت ترین لاک ڈاؤن کرنا پڑے گا اور اگر ایسا ہوا تو معاشی ماہرین کو خدشہ ہے کہ اس بحران کے معاشی و مالیاتی نقصانات حکومت کی تمام تر کوششوں کی نفی کا سبب بنیں گے۔ اس کی وجہ سیدھی سادی ہے کہ پاکستان کی ایک تہائی آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔
آبادی کا مزید ایک تہائی حصہ نچلے یا لوئر مڈل کلاس میں شامل ہے۔ مجموعی طور پر لگ بھگ چھیاسٹھ فیصد آبادی خط غربت کے آس پاس زندگی گزار رہی ہے، امکان ہے کہ آیندہ مالی سال میں بیروزگار افراد کی تعداد 6.64 ملین تک پہنچ سکتی ہے۔ ایسے خدشات بھی ہیں کہ طویل المدتی لاک ڈاؤن فارمل سیکٹر میں تیس فیصد افرادی قوت کی مزید بیروزگاری کا باعث بن سکتا ہے۔
پہلے ہی ملک میں کاروباری سرگرمیاں ماند ہیں اور ملکی معیشت سکڑ گئی ہے۔ شعبہ زراعت کو مسلسل اتنا نظر انداز کیا گیا ہے کہ اب یہ خسارے کا سودا ہو گیا ہے، یعنی ایک زرعی ملک بحرانی کیفیت سے دوچار ہوتا جا رہا ہے۔ شعبہ تعمیرات کے لیے تمام تر مراعات اور ترغیبات کے اعلان کے باوجود یہ شعبہ خاطر خواہ انداز میں آگے نہیں بڑھ رہاہے۔ مسائل زیادہ اور وسائل انتہائی کم ہیں، ایسے میں حکومتی سطح پر فہم و تدبر اور فراست پر مبنی فیصلوںکی قوم منتظر ہے۔
دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں فیکٹریاں اور روزگار کے مواقعے بند نہیں کریں گے اور یورپ اور انگلینڈ کی طرح مکمل لاک ڈاؤن بھی نہیں ہو گا۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کورونا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، آج ہم نے دیکھا ہے کہ ایک دن میں 50 سے زائد اموات ہو گئی ہیں اور بڑی تیزی سے اوپر جا رہی ہیں، مجھے خوف ہے کہ ہمارے اسپتالوں میں بہت تیزی سے دباؤ پڑنا شروع ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ہمیشہ خدشہ رہتا ہے اور کورونا بڑھا تو ہمیں اپنے ڈاکٹر، نرسز اور دیگر طبی عملے کی فکر ہوتی ہے۔
قوم کو آج پیغام دینا ہے کہ ہم بڑی مشکل سے ایسے معاشی حالات سے نکلے ہیں کہ باقی دنیا کے لوگ اتنے خوش قسمت نہیں ہیں۔ وزیر اعظم کے صائب خیالات سے انکار ممکن نہیں، وہ ہمیشہ ملک اور عوام کی خیر خواہی چاہتے ہیں اور اسی ضمن میں بہترین اقدامات اٹھانا بھی چاہتے ہیں لیکن کورونا کی پہلی لہر کے دوران ملکی سطح پر جن مسائل نے جنم لیا اور انھیں حل نہ کیا جا سکا وہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔
ملک بھر میں تعلیمی ادارے دوبارہ بند کر دیے گئے ہیں، یو این ڈی پی کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریباً بیالیس ملین بچے تعلیم کی سہولت سے محروم ہیں، جو کسی نہ کسی طور تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان کا بھی تعلیمی میدان میں بہت زیادہ نقصان ہوا ہے، چالیس ملین افراد کو پہلے ہی کھانے پینے کی اشیاء کی قلت کا سامنا تھا، جس میں وبا کی وجہ سے قریب ڈھائی ملین افراد کا اضافہ ہو گیا ہے۔
پاکستانی نظام صحت کا وبا سے پہلے بھی برا حال تھا اور اب مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یو این ڈی پی کے مطابق ملک میں ہر 963 افراد کے لیے ایک ڈاکٹر ہے جب کہ ہر 1,608 افراد کے لیے اوسطاً اسپتال کا ایک بستر میسر ہے۔ ملک کو دو لاکھ ڈاکٹرز اور چودہ لاکھ نرسوں کی کمی کا سامنا ہے۔
یقینا یہ اعداد و شمار بھی وزیر اعظم کے علم میں ہوںگے جب ہی وہ کہتے ہیں کہ انھیں وبا کے پھیلاؤ میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کی زندگیوں کے بارے میں فکر لاحق ہے۔ یہ درست سہی کہ حکومت نے احساس پروگرام کے تحت ملک بھر میں بارہ ہزار روپے فی خاندان تقسیم بھی کیے تھے، لیکن تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ قوم کو بھکاری بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ہے۔
ایک رائے یہ بھی ہے کہ کورونا وبا کو پاکستانی حکومت شروع ہی سے نظر انداز کر رہی ہے اور اس کی شدت کو کم بتا رہی ہے۔ متوقع دوسرے لاک ڈاؤن سے زراعت بھی متاثر ہوگی جب کہ ٹرانسپورٹ، مزدوروں اور خام مال کی فراہمی میں خلل کے باعث آیندہ برسوں کے لیے بھی یہ سیکٹر متاثر ہو گا۔ اسٹاک مارکیٹوں میں مستقل استحکام کے اشارے نہیں مل رہے۔ وجہ سادہ سی ہے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے قرضے اور وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار طویل المدتی بنیادوں پر پیسہ لگانے سے گزیر کر رہے ہیں۔ پاکستان اس وبا کے دہانے پر معیشت کی کمزور سی رسی کے سہارے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔
شاید آیندہ سال ملک کو سب سے مشکل چیلنج کا سامنا کرنا پڑے جس میں حوصلہ، قابلیت اور نظم و ضبط کی ضرورت ہو گی۔ برآمدی شعبہ کی نوید مل رہی ہے، شکر ہے، مگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو خاکم بدہن اگر ہم ناکام ہو گئے تو، ہمارے خواب تاریکیوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ملیں گے۔ اس معاملے میں تجزیہ کرتے ہوئے اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تاحال اس وائرس کا کوئی علاج دستیاب نہیں ہے۔ یہ انتہائی متعدی مرض ہے جو ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے۔
وائرس کو محدود کرنے کا واحد راستہ معاشرتی دوری اور احتیاط ہے شہروں اور دیہاتوں میں لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل درآمد کرنے سے مطلونہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں، اگر لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل نہیں کیا جاتا تو انفیکشن کے بڑے پیمانے پرپھیلنے کا دوبارہ خطرہ ہے جو صحت کے انفرااسٹرکچر کو بُری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے ضیاع کا خطرہ ہے۔ دوسری طرف لاک ڈاون سے ملکی معیشت کا دم گھٹ رہا ہے۔ معاشی مشکلات جن کا سامنا ہماری قوم پہلے سے ہی کر رہی تھی، اس میں مزید اضافہ ہونے جا رہا ہے۔
معاشرے کے غریب ترین طبقات کو دو وقت کی روٹی کا حصول بھی جوئے شِیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے۔ بیک وقت معاشی مشکلات پر قابو پانا اور وائرس کے تدارک کے لیے کوششیں کرنا ایک مشکل ٹاسک ہے۔ کوویڈ 19 سے معیشت پر پڑے منفی اثرات کے پہلوؤں کو مناسب حکمتِ عملی سے کم نقصان دہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایک لفظ حکومتی سطح پر بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے بلکہ سیکڑوں بار دہرایا جاتا ہے کہ ایس اوپیز پر عمل کریں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم حقیقی معنوں میں عوام کو اس بات کا مفہوم سمجھا سکے ہیں۔
مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول تقریبا ناممکن ہوتا جا رہا ہے لیکن حکومت مافیاز کو قابو کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے، پرائس کنٹرول کمیٹیوں کا چرچا ہے لیکن کام نہیں کر پا رہی ہیں، ٹائیگر فورس کے جوان بھی ناکام ہو گئے ہیں، ان سب پالیسیوں کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے، جب کہ اس ضمن میں وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ہمیں فوڈ سیکیورٹی کی طرف سے تخمینہ کم دیا گیا اور گندم درآمد کرنے میں تاخیر ہوئی۔
ملکی معیشت کو جو چیلنجز درپیش ہیں ان کو حل کرنے میں حکومت یقینا اپنا کردار ادا کر رہی ہے لیکن یہ سب اس وقت اچھا لگے گا جب عوام حقیقی معنوں میں تبدیلی کے ثمرات پائیں گے۔