کراچی کی خوبصورتی کا پلان
کراچی کے لیے 100 منصوبے تیارکر لیے گئے ہیں اور ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت 1117 ارب کے منصوبے 3 مراحل میں مکمل ہوں گے۔
کراچی کے لیے 100 منصوبے تیارکر لیے گئے ہیں اور ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت 1117 ارب کے منصوبے 3 مراحل میں مکمل ہوں گے۔ فوٹو: فائل
وزیر اعظم کی زیرصدارت کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے حوالے سے اعلیٰ سطح اجلاس میں وفاقی وزراء شیخ رشید احمد، اسد عمر، فیصل واوڈا، مشیر ِخزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ، چیف آف دی آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی کے لیے 100 منصوبے تیارکر لیے گئے ہیں اور ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت 1117 ارب کے منصوبے 3 مراحل میں مکمل ہوں گے۔
دریں اثنا ڈچ کمپنی ایوٹیک) AWTEC ( نے کچرے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبہ میں دلچسپی کا اظہارکیا ہے۔ کمپنی اس شعبے میں1.3 ارب امریکی ڈالرکی سرمایہ کاری کرے گی۔
دوسری جانب گزشتہ روز وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان آئی لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں گورنر سندھ عمران اسماعیل، چیئرمین راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی، چیئرمین پاکستان آئی لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی سمیت دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے ساتھ ساتھ ڈچ کمپنی ایوٹیک) AWTEC ( کے نمایندوں نے بھی شرکت کی۔
ڈچ کمپنی نے کراچی میں کچرے سے توانائی اور ڈیسیلینشن پلانٹ لگانے کی تجویز پیش کی۔ ایوٹیک ہالینڈ نے راوی منصوبے اور لاہور میں رینیو ایبل توانائی پلانٹ کے قیام میں بھی گہری دلچسپی ظاہرکی۔ ان منصوبوں میں لگنے والی ٹیکنالوجی پاکستان میں تیارکی جائے گی جس سے ملک میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور روزگارکے مواقع پیدا ہونگے۔ اس منصوبے سے بننے والی بھاپ بھی صنعتوں میں استعمال کی جا سکے گی۔ اس ضمن میں عنقریب حکومت پاکستان اور ایوٹیک کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے۔
کراچی کی صورت گری اور ماحولیاتی تبدیلی کے حوالہ سے حکومت کے مجوزہ اقدامات کی ایک عرصہ سے ضرورت تھی، جب وزیراعظم نے شہرکی ماہیت قلب کے لیے منصوبوں کا اعلان کیا تو عوام کی طرف سے ان کا خیرمقدم کیا گیا، وزیراعظم کئی بار کہہ چکے تھے کہ انھیں کراچی کے مسائل کا علم ہے اور وہ کراچی کے شہری معاملات کو سنجیدگی سے حل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اس یقین دہانی کے پیچھے بلاشبہ حکومت کا یہ انداز نظر شہری آبادی کے دکھوں اور انسانی مصائب کا وہ شہر آشوب ہے جسے وہ ماضی کی حکومتوں کا ورثہ کہتے ہیں، اب جب کہ پی ٹی آئی کو شہرکراچی نے قومی وصوبائی اسمبلیوں میں خاصی نمایاں نمایندگی کا حامل بنا دیا ہے، اب منتخب نمایندوں کو اپنی حکمرانی کی انفرادیت ثابت کرنی ہے۔ شہرکی کایا پلٹ کے نتیجہ میں ہی حکومت ماضی اور حال کا بہتر اور قابل اعتبار تقابل پیش کر سکتی ہے۔
کراچی غم و صدمات سے کراہ رہا ہے اس کے تھوڑے سے غم صوبائی اور وفاقی حکومتیں شئیر کر لیں تو سیاست بھی نئی کروٹ لے سکتی ہے۔ یہ مسئلہ کچرے کو ٹھکانے لگانے تک کا نہیں ہے، لوگ واقعی غیر انسانی زندگی گزار رہے ہیں۔ مہنگائی، بیروزگاری اور تنگ وتاریک گھروں نے زندگی اجیرن بنا دی ہے، میٹروپولیٹن کا نقشہ تبدیل ہونا شرط ہے۔
وفاقی حکومت نے شہر قائد سمیت سندھ کے جزائر کی ترقی، تعمیرات کے ضمن میں اہم منصوبوں کی منظوری دی اور کچرے سے بجلی پیدا کرنے اور سندھ کے عوام کو زندگی کے مختلف شعبوں میں سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اجلاسوں کی صدارت کی اور حکام کو ان منصوبوں کی تکمیل اور ان کے ثمرات سے عوام کو بہرہ مند کرنے کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ وزیر اعظم کوکراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے حوالے سے بتایا گیا کہ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت 100سے زائد منصوبوں کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہیں جو 1117 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہوں گے۔
ان منصوبوں کو تکمیلی مراحل کے اعتبار سے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اجلاس کو ان منصوبوں پر اب تک ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام نہیں ہو رہے، گیارہ سو ارب روپے کی خطیر رقم سے ایک بڑی تبدیلی اور انفرااسٹرکچرکی تنصیب ہو سکتی ہے، ان منصوبوں کی تکمیل ایک بڑی ماحولیاتی تبدیلی کا بھی پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
کچرے سے بجلی پیدا کرنے کا خیال پہلے بھی کئی بار سامنے آیا مگر منصوبہ مکمل نہ ہو سکا، یہی کچرا مون سون بارشوں کے بعد شہرکی بدصورتی کا استعارہ بن گیا۔ پہلی بار شہرکا ایک پوش علاقہ سراپا احتجاج بنا، اہل ثروت کے محل نما گھر پانی میں کئی دن ڈوبے رہے، لہٰذا حکومتی منصوبے اس سمت میں بڑی پیشرفت بن سکتے ہیں۔ ان سے عوام کو آسودگی، معاشی معاونت اور بنیادی سہولتیں فراہم ہو سکتی ہیں۔
سیوریج شہر کا بہت بڑا مسئلہ ہے، یہ حل ہوا تو شہریوں کی مایوسی مسرتوں میں بدل سکتی ہے، اس میں شک نہیں کہ کراچی کے عوام میں محرومی اور معاشی ترقی میں پیچھے رہ جانے کا احساس ایک اہم حقیقت ہے ۔ ایم کیو ایم کی پیپلز پارٹی حکومت پر تنقید کا ایک جواز شہرکی سماجی اور معاشی حالت زار ہے۔ کورونا کے بعد تو صورتحال مزید خراب ہو چکی، شکر ہے کہ حکومت کو اس کا خیال آ گیا۔
شہر کے کچرے سے بجلی بن جائے تو اس سے اچھی بات اورکیا ہو سکتی ہے، جو معترضین اسے ''ایں خیال است و محال است و جنوں'' کہتے ہیں انھیں کہنے کا موقع مل جائے گا کہ حکومت نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا، چنانچہ وزیر اعظم نے منصوبوں کی بروقت تکمیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کے مسائل کا مستقل بنیادوں پر حل انتہائی ضروری ہے ، ہر سال مون سون کے دوران کراچی میں برساتی پانی سے ہونے والے نقصانات کا سبب نالوں پر غیر قانونی تعمیرات ہیں۔
اسے کراچی کا بنیادی مسئلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا، غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات نے شہر کا حلیہ بگاڑ دیا ہے، اس لیے وزیر اعظم نے واضح ہدایت دی کہ کراچی میں تجاوزات ہٹانے سے پہلے وہاں کے مستحق مکینوں کے لیے پیشگی متبادل انتظامات کو یقینی بنایا جائے، وزیر اعظم نے کراچی کو پانی فراہم کرنے کے، کے فور منصوبے کی استعداد اور افادیت بڑھانے کے حوالے سے سفارشات مرتب کرنے کے لیے وزارتِ منصوبہ بندی کے تحت تکنیکی کمیٹی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
علاوہ ازیں قومی رابطہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ، کنسٹرکشن و ڈویلپمنٹ کے ہفتہ وار اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے واضح ہدایت کی کہ اس وقت ملک میں بجلی کی کوئی کمی نہیں ہے اس لیے نئے کنکشنز دینے میں تاخیر کا کوئی جواز نہیں۔ حکومت کا مقصد لوگوں کے لیے آسانیاں اور سہولتیں مہیا کرنا ہے، بیرون ملک بسنے والے پاکستانی ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں۔
ان کے لیے ملکی کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لینے کی راہ میں حائل رکاوٹیں ترجیحی بنیادوں پر دور کی جائیں۔ اجلاس میں مشیر وزیراعظم عشرت حسین، گورنر سندھ عمران اسماعیل، معاونین خصوصی ڈاکٹر شہبازگل اور سید ذوالفقار بخاری کے علاوہ متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ سرکاری عہدیداران نے شرکت کی۔ ذرایع کے مطابق ایوٹیک منصوبے سے بننے والی بھاپ بھی صنعتوں میں استعمال کی جا سکے گی۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان میں کچرے کو ٹھکانے لگانے کا مناسب بندوبست اور انتظام نہ ہونے کی وجہ سے روز بروز مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، پاکستان کے آبی وسائل خاص طور پر سمندری پٹی سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ اس طرح کے منصوبے ہمارے شہروں کو بین الاقوامی معیار کی رہائشی سہولیات دینے میں معاون ثابت ہونگے ۔
وزیر اعظم عمران خان نے منصوبوں کی بروقت تکمیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کے مسائل کا مستقل بنیادوں پر حل انتہائی ضروری ہے۔ ہر سال مون سون کے دوران کراچی میں برساتی پانی سے ہونے والے نقصانات کا بڑا سبب نالوں پر غیر قانونی تعمیرات ہیں۔ وزیر اعظم نے واضح طور پر ہدایت کی کہ اس وقت ملک میں بجلی کی کوئی کمی نہیں، اس لیے نئے کنکشنز دینے میں تاخیر نہ کی جائے۔
وزیراعظم نے ہاؤسنگ سیکٹرمیں سرمایہ کاروں کو سہولتیں دینے اور اس ضمن میں جاری ہونے والے این اوسیز اور منظوری کے طریقہ کارکو سہل بنانے کی بھی ہدایت کی۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ اسکیم کے تحت اپنے گھر کے حصول کے لیے بینکوں سے آسان شرائط پر قرضے لینے والوں پر کسی قسم کا اضافی مالی بوجھ نہ ڈالا جائے۔ حکومت کا مقصد بے گھر لوگوں کے لیے اپنی چھت مہیا کرنا ہے۔
لہٰذا اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کو آسانیاں اور سہولتیں مہیا ہوں، مختلف یوٹیلیٹی سروسز حاصل کرنے کے لیے منظوریاں لینے کے طویل مراحل کو آسان بنایا جائے کیونکہ مروجہ طریقہ کار سے تعمیراتی شعبے کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ عروس البلاد کرچی کو اس کے استحقاق اور تقاضوں کے مطابق سہولتیں مہیا کی جائیں۔ حکومت نے عوام کو گھر دینے کا وعدہ کیا ہے، قرضے بھی جاری کیے گئے ہیں، نوجوانوں اور مزدوروں کی معاشی ضرورتوں کا بھی خیال رکھا جائے، شہر میں جرائم کی نرسریاں بھی اجاڑ دی جائیں تو تمام اقتصادی منصوبے عوام کی تالیف قلب کے لیے ایک نعمت سے کم نہ ہوں گے۔
ضرورت اس امرکی بھی ہے کہ کراچی کے اندر قائم بے شمارکچی آبادیوں اور بڑھتی ہوئی آبادی سے پیدا ہونے والے چیلنجزکا بھی سائنسی حل نکالا جائے۔ ٹرانسپورٹ سسٹم کی فرسودگی نے شہرکو ایک بڑی گیراج میں بدل دیا ہے، شہریوں میں60 فیصد ذہنی دباؤ منی بسز، کوچز، موٹر سائیکلزکی یلغار اور شورکی آلودگی کے باعث ہے، ٹریفک جام معمول ہے، حادثات کی روک تھام ناگزیر ہے۔
بس ایک واضح تبدیلی ہی شہر کراچی کے لیے نیا باب ہو گا جب کہ تنزلی کے بعد اس ترقی کو لوگ مصطفی زیدی کے اس شعر کے آئینہ میں دیکھ سکیں گے کہ
شہر در شہر پھری میرے گناہوں کی بیاض
بعض نظروں پہ میرا سوزِ حکیمانہ کھلا
دریں اثنا ڈچ کمپنی ایوٹیک) AWTEC ( نے کچرے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبہ میں دلچسپی کا اظہارکیا ہے۔ کمپنی اس شعبے میں1.3 ارب امریکی ڈالرکی سرمایہ کاری کرے گی۔
دوسری جانب گزشتہ روز وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان آئی لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں گورنر سندھ عمران اسماعیل، چیئرمین راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی، چیئرمین پاکستان آئی لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی سمیت دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے ساتھ ساتھ ڈچ کمپنی ایوٹیک) AWTEC ( کے نمایندوں نے بھی شرکت کی۔
ڈچ کمپنی نے کراچی میں کچرے سے توانائی اور ڈیسیلینشن پلانٹ لگانے کی تجویز پیش کی۔ ایوٹیک ہالینڈ نے راوی منصوبے اور لاہور میں رینیو ایبل توانائی پلانٹ کے قیام میں بھی گہری دلچسپی ظاہرکی۔ ان منصوبوں میں لگنے والی ٹیکنالوجی پاکستان میں تیارکی جائے گی جس سے ملک میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور روزگارکے مواقع پیدا ہونگے۔ اس منصوبے سے بننے والی بھاپ بھی صنعتوں میں استعمال کی جا سکے گی۔ اس ضمن میں عنقریب حکومت پاکستان اور ایوٹیک کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے۔
کراچی کی صورت گری اور ماحولیاتی تبدیلی کے حوالہ سے حکومت کے مجوزہ اقدامات کی ایک عرصہ سے ضرورت تھی، جب وزیراعظم نے شہرکی ماہیت قلب کے لیے منصوبوں کا اعلان کیا تو عوام کی طرف سے ان کا خیرمقدم کیا گیا، وزیراعظم کئی بار کہہ چکے تھے کہ انھیں کراچی کے مسائل کا علم ہے اور وہ کراچی کے شہری معاملات کو سنجیدگی سے حل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اس یقین دہانی کے پیچھے بلاشبہ حکومت کا یہ انداز نظر شہری آبادی کے دکھوں اور انسانی مصائب کا وہ شہر آشوب ہے جسے وہ ماضی کی حکومتوں کا ورثہ کہتے ہیں، اب جب کہ پی ٹی آئی کو شہرکراچی نے قومی وصوبائی اسمبلیوں میں خاصی نمایاں نمایندگی کا حامل بنا دیا ہے، اب منتخب نمایندوں کو اپنی حکمرانی کی انفرادیت ثابت کرنی ہے۔ شہرکی کایا پلٹ کے نتیجہ میں ہی حکومت ماضی اور حال کا بہتر اور قابل اعتبار تقابل پیش کر سکتی ہے۔
کراچی غم و صدمات سے کراہ رہا ہے اس کے تھوڑے سے غم صوبائی اور وفاقی حکومتیں شئیر کر لیں تو سیاست بھی نئی کروٹ لے سکتی ہے۔ یہ مسئلہ کچرے کو ٹھکانے لگانے تک کا نہیں ہے، لوگ واقعی غیر انسانی زندگی گزار رہے ہیں۔ مہنگائی، بیروزگاری اور تنگ وتاریک گھروں نے زندگی اجیرن بنا دی ہے، میٹروپولیٹن کا نقشہ تبدیل ہونا شرط ہے۔
وفاقی حکومت نے شہر قائد سمیت سندھ کے جزائر کی ترقی، تعمیرات کے ضمن میں اہم منصوبوں کی منظوری دی اور کچرے سے بجلی پیدا کرنے اور سندھ کے عوام کو زندگی کے مختلف شعبوں میں سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اجلاسوں کی صدارت کی اور حکام کو ان منصوبوں کی تکمیل اور ان کے ثمرات سے عوام کو بہرہ مند کرنے کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ وزیر اعظم کوکراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے حوالے سے بتایا گیا کہ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت 100سے زائد منصوبوں کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہیں جو 1117 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہوں گے۔
ان منصوبوں کو تکمیلی مراحل کے اعتبار سے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اجلاس کو ان منصوبوں پر اب تک ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام نہیں ہو رہے، گیارہ سو ارب روپے کی خطیر رقم سے ایک بڑی تبدیلی اور انفرااسٹرکچرکی تنصیب ہو سکتی ہے، ان منصوبوں کی تکمیل ایک بڑی ماحولیاتی تبدیلی کا بھی پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
کچرے سے بجلی پیدا کرنے کا خیال پہلے بھی کئی بار سامنے آیا مگر منصوبہ مکمل نہ ہو سکا، یہی کچرا مون سون بارشوں کے بعد شہرکی بدصورتی کا استعارہ بن گیا۔ پہلی بار شہرکا ایک پوش علاقہ سراپا احتجاج بنا، اہل ثروت کے محل نما گھر پانی میں کئی دن ڈوبے رہے، لہٰذا حکومتی منصوبے اس سمت میں بڑی پیشرفت بن سکتے ہیں۔ ان سے عوام کو آسودگی، معاشی معاونت اور بنیادی سہولتیں فراہم ہو سکتی ہیں۔
سیوریج شہر کا بہت بڑا مسئلہ ہے، یہ حل ہوا تو شہریوں کی مایوسی مسرتوں میں بدل سکتی ہے، اس میں شک نہیں کہ کراچی کے عوام میں محرومی اور معاشی ترقی میں پیچھے رہ جانے کا احساس ایک اہم حقیقت ہے ۔ ایم کیو ایم کی پیپلز پارٹی حکومت پر تنقید کا ایک جواز شہرکی سماجی اور معاشی حالت زار ہے۔ کورونا کے بعد تو صورتحال مزید خراب ہو چکی، شکر ہے کہ حکومت کو اس کا خیال آ گیا۔
شہر کے کچرے سے بجلی بن جائے تو اس سے اچھی بات اورکیا ہو سکتی ہے، جو معترضین اسے ''ایں خیال است و محال است و جنوں'' کہتے ہیں انھیں کہنے کا موقع مل جائے گا کہ حکومت نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا، چنانچہ وزیر اعظم نے منصوبوں کی بروقت تکمیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کے مسائل کا مستقل بنیادوں پر حل انتہائی ضروری ہے ، ہر سال مون سون کے دوران کراچی میں برساتی پانی سے ہونے والے نقصانات کا سبب نالوں پر غیر قانونی تعمیرات ہیں۔
اسے کراچی کا بنیادی مسئلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا، غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات نے شہر کا حلیہ بگاڑ دیا ہے، اس لیے وزیر اعظم نے واضح ہدایت دی کہ کراچی میں تجاوزات ہٹانے سے پہلے وہاں کے مستحق مکینوں کے لیے پیشگی متبادل انتظامات کو یقینی بنایا جائے، وزیر اعظم نے کراچی کو پانی فراہم کرنے کے، کے فور منصوبے کی استعداد اور افادیت بڑھانے کے حوالے سے سفارشات مرتب کرنے کے لیے وزارتِ منصوبہ بندی کے تحت تکنیکی کمیٹی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
علاوہ ازیں قومی رابطہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ، کنسٹرکشن و ڈویلپمنٹ کے ہفتہ وار اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے واضح ہدایت کی کہ اس وقت ملک میں بجلی کی کوئی کمی نہیں ہے اس لیے نئے کنکشنز دینے میں تاخیر کا کوئی جواز نہیں۔ حکومت کا مقصد لوگوں کے لیے آسانیاں اور سہولتیں مہیا کرنا ہے، بیرون ملک بسنے والے پاکستانی ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں۔
ان کے لیے ملکی کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لینے کی راہ میں حائل رکاوٹیں ترجیحی بنیادوں پر دور کی جائیں۔ اجلاس میں مشیر وزیراعظم عشرت حسین، گورنر سندھ عمران اسماعیل، معاونین خصوصی ڈاکٹر شہبازگل اور سید ذوالفقار بخاری کے علاوہ متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ سرکاری عہدیداران نے شرکت کی۔ ذرایع کے مطابق ایوٹیک منصوبے سے بننے والی بھاپ بھی صنعتوں میں استعمال کی جا سکے گی۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان میں کچرے کو ٹھکانے لگانے کا مناسب بندوبست اور انتظام نہ ہونے کی وجہ سے روز بروز مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، پاکستان کے آبی وسائل خاص طور پر سمندری پٹی سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ اس طرح کے منصوبے ہمارے شہروں کو بین الاقوامی معیار کی رہائشی سہولیات دینے میں معاون ثابت ہونگے ۔
وزیر اعظم عمران خان نے منصوبوں کی بروقت تکمیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کے مسائل کا مستقل بنیادوں پر حل انتہائی ضروری ہے۔ ہر سال مون سون کے دوران کراچی میں برساتی پانی سے ہونے والے نقصانات کا بڑا سبب نالوں پر غیر قانونی تعمیرات ہیں۔ وزیر اعظم نے واضح طور پر ہدایت کی کہ اس وقت ملک میں بجلی کی کوئی کمی نہیں، اس لیے نئے کنکشنز دینے میں تاخیر نہ کی جائے۔
وزیراعظم نے ہاؤسنگ سیکٹرمیں سرمایہ کاروں کو سہولتیں دینے اور اس ضمن میں جاری ہونے والے این اوسیز اور منظوری کے طریقہ کارکو سہل بنانے کی بھی ہدایت کی۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ اسکیم کے تحت اپنے گھر کے حصول کے لیے بینکوں سے آسان شرائط پر قرضے لینے والوں پر کسی قسم کا اضافی مالی بوجھ نہ ڈالا جائے۔ حکومت کا مقصد بے گھر لوگوں کے لیے اپنی چھت مہیا کرنا ہے۔
لہٰذا اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کو آسانیاں اور سہولتیں مہیا ہوں، مختلف یوٹیلیٹی سروسز حاصل کرنے کے لیے منظوریاں لینے کے طویل مراحل کو آسان بنایا جائے کیونکہ مروجہ طریقہ کار سے تعمیراتی شعبے کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ عروس البلاد کرچی کو اس کے استحقاق اور تقاضوں کے مطابق سہولتیں مہیا کی جائیں۔ حکومت نے عوام کو گھر دینے کا وعدہ کیا ہے، قرضے بھی جاری کیے گئے ہیں، نوجوانوں اور مزدوروں کی معاشی ضرورتوں کا بھی خیال رکھا جائے، شہر میں جرائم کی نرسریاں بھی اجاڑ دی جائیں تو تمام اقتصادی منصوبے عوام کی تالیف قلب کے لیے ایک نعمت سے کم نہ ہوں گے۔
ضرورت اس امرکی بھی ہے کہ کراچی کے اندر قائم بے شمارکچی آبادیوں اور بڑھتی ہوئی آبادی سے پیدا ہونے والے چیلنجزکا بھی سائنسی حل نکالا جائے۔ ٹرانسپورٹ سسٹم کی فرسودگی نے شہرکو ایک بڑی گیراج میں بدل دیا ہے، شہریوں میں60 فیصد ذہنی دباؤ منی بسز، کوچز، موٹر سائیکلزکی یلغار اور شورکی آلودگی کے باعث ہے، ٹریفک جام معمول ہے، حادثات کی روک تھام ناگزیر ہے۔
بس ایک واضح تبدیلی ہی شہر کراچی کے لیے نیا باب ہو گا جب کہ تنزلی کے بعد اس ترقی کو لوگ مصطفی زیدی کے اس شعر کے آئینہ میں دیکھ سکیں گے کہ
شہر در شہر پھری میرے گناہوں کی بیاض
بعض نظروں پہ میرا سوزِ حکیمانہ کھلا