میزبانی بچانے کیلیے بنگلہ دیش نے سیکیورٹی پلان بدل دیا

ایونٹس میں غیرملکی کرکٹ ٹیموں کوسربراہان مملکت جتنی اہمیت دی جائے گی

آئندہ ماہ کے پہلے عشرے میں ہی ایشیا کپ اور ورلڈ ٹوئنٹی 20 کے مستقبل کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔

بنگلہ دیش نے بڑے ایونٹس کی میزبانی بچانے کیلیے سیکیورٹی پلان ہی بدل دیا، غیرملکی کرکٹ ٹیموں کو سربراہان مملکت جتنی اہمیت دی جائے گی، انٹرنیشنل اور ایشین کرکٹ کونسلز کو نئے پروگرام سے آگاہ کردیا۔

آئندہ ماہ کے پہلے عشرے میں ہی ایشیا کپ اور ورلڈ ٹوئنٹی 20 کے مستقبل کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کو جنوری کے آغاز میں سری لنکا کی میزبانی کرنی ہے، فروری میں یہاں ایشیا کپ اور پھر مارچ، اپریل میں ورلڈ ٹوئنٹی 20 کا انعقاد ہوگا، ملک میں جاری سیاسی کشیدگی میں بہت زیادہ اضافہ ہوچکا جس کی وجہ سے یہاں ان ایونٹس کا انعقاد خطرے میں پڑچکا، اب بی سی بی نے میزبانی بچانے کیلیے کوششیں شروع کردی ہیں۔ ان ایونٹس کے لیے سیکیورٹی میں بے پناہ اضافے کی یقین دہانی کرتے ہوئے نیا پلان بھی ترتیب دے دیا، جسے سری لنکا کرکٹ بورڈ، آئی سی سی اور ایشین کونسل کو بھیج دیا گیا ہے۔ ابھی تک سری لنکا کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا تاہم اس کی جانب سے بنگلہ دیشی سیکیورٹی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جارہا ہے۔




بی سی بی کے پاکستان بورڈ سے تعلقات بھی کافی عرصے سے کشیدہ ہیں جبکہ عبدالقادرملا کو سزائے موت دینے کے باوجود بنگلہ دیش میں پاکستان مخالف جذبات بھڑکے ہوئے ہیں،ان کو بھارتی نواز عوامی لیگ کی حکومت مسلسل ہوا دے کر سیاسی فائدہ سمیٹنا چاہتی ہے۔ بی سی بی کو اچھی طرح علم ہے کہ پاکستان بورڈ سے شائد ہی اسے کوئی مدد ملے کیونکہ وہ خود ٹورز کے تحریری معاہدے کرکے مکر چکا تھا۔ آفیشلز نے کہاکہ بنگلہ دیش میں ایشیا کپ کے انعقاد کا فیصلہ ایشین کونسل کے 4 جنوری کے اجلاس میں ہوگا،ممبران انڈر 19 ایشیا کپ کے دوران یو اے ای میں اکھٹے ہوں گے،8اور 9 جنوری کو آئی سی سی کی بھی اہم میٹنگ ہونی ہے۔ سری لنکا کے دورے کا انحصار بھی ایشین کونسل کے اجلاس میں ہونے والے فیصلے پر ہے، بھارتی میڈیا میں پہلے ہی کولکتہ اور چنئی کو ورلڈ ٹوئنٹی 20 کا متبادل وینیوز منتخب کرنے کی خبریں زیرگردش ہیں۔
Load Next Story