عراق گرجا گھروں پر بم دھماکے 40 افراد ہلاک 60 زخمی
کرادا کے کیتھولک چرچ میں تقریب کے بعد لوگ نکل رہے تھے کہ کار بم دھماکا ہوگیا، 25 افراد مارے گئے
عراق میں2003 میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ملک میں متعدد گرجا گھروں پر حملے ہو چکے ہیں ۔فوٹو:رائٹرز
لاہور:
عراق کے دارالحکومت بغداد میں کرسمس کے موقع پر 2 گرجا گھروں کے باہر کار بم دھماکوں میں مسیحی برادری کے40 افراد ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہوگئے۔
عراقی وزارت داخلہ کے ترجمان سعد مان نے بتایا کہ بغداد شہر کے نواحی علاقے کرادا میں کیتھولک چرچ میں سے عیسائی برادری کے لوگ دعائیہ تقریب کے بعد باہر نکل رہے تھے کہ قریب ہی کار بم دھماکا ہو گیا جس میں25 افراد ہلاک اور 28 زخمی ہو گئے۔ اس کے علاوہ بغداد ہی کے ایک دوسرے عیسائی اکثریتی علاقے دورا میں مارکیٹ میں واقع سینٹ جونز چرچ کے قریب ہی کھڑی ایک گاڑی میں دھماکا ہوا جس میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور30 زخمی ہو گئے۔
عیسائی رہنما سعد سیروب نے تمام عراقی شہریوں کیلیے امن اور سیکیورٹی کی اپیل کی ہے۔ عراق میں2003 میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ملک میں متعدد گرجا گھروں پر حملے ہو چکے ہیں اس کے بعد ملک میں صدیوں سے آباد عیسائی آبادی کی تعداد نصف رہ گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق عراق میں پرتشدد واقعات میں صرف نومبر میں 659 افراد ہلاک ہوئے جس میں 565 عام شہری اور 94 سیکیورٹی اہل کار شامل ہیں جب کہ جنوری سے اب تک 950 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 7150 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
عراق کے دارالحکومت بغداد میں کرسمس کے موقع پر 2 گرجا گھروں کے باہر کار بم دھماکوں میں مسیحی برادری کے40 افراد ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہوگئے۔
عراقی وزارت داخلہ کے ترجمان سعد مان نے بتایا کہ بغداد شہر کے نواحی علاقے کرادا میں کیتھولک چرچ میں سے عیسائی برادری کے لوگ دعائیہ تقریب کے بعد باہر نکل رہے تھے کہ قریب ہی کار بم دھماکا ہو گیا جس میں25 افراد ہلاک اور 28 زخمی ہو گئے۔ اس کے علاوہ بغداد ہی کے ایک دوسرے عیسائی اکثریتی علاقے دورا میں مارکیٹ میں واقع سینٹ جونز چرچ کے قریب ہی کھڑی ایک گاڑی میں دھماکا ہوا جس میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور30 زخمی ہو گئے۔
عیسائی رہنما سعد سیروب نے تمام عراقی شہریوں کیلیے امن اور سیکیورٹی کی اپیل کی ہے۔ عراق میں2003 میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ملک میں متعدد گرجا گھروں پر حملے ہو چکے ہیں اس کے بعد ملک میں صدیوں سے آباد عیسائی آبادی کی تعداد نصف رہ گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق عراق میں پرتشدد واقعات میں صرف نومبر میں 659 افراد ہلاک ہوئے جس میں 565 عام شہری اور 94 سیکیورٹی اہل کار شامل ہیں جب کہ جنوری سے اب تک 950 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 7150 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔