بلین ٹری سونامی اور بی آر ٹی میں ناقص پلاننگ فنڈز کا ضیاع

کلوعرزکی بندش سے منصوبے پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں،نجی کاشتکاروں کو نرسریاں دینے کا عمل بھی شفاف نہیں تھا

بی آر ٹی بسوں کی قبل از وقت خریداری سے نقصان ہوا،کئی تعمیر شدہ حصے توڑنا پڑے،تنگ راہداری منصوبے کیلیے موزوں نہیں۔ فوٹو: فائل

آڈیٹرجنرل آف پاکستان نے آڈٹ رپورٹس میں خیبرپختونخوا حکومت کے 2 میگا پراجیکٹس کی ناقص منصوبہ بندی اور فنڈز کے ضیاع کی نشاندہی کی ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت کے 2 میگا پراجیکٹس بلین ٹری سونامی اوربی آرٹی پشاور منصوبوں کے حوالے سے آڈیٹرجنرل آف پاکستان نے آڈٹ رپورٹس میں ناقص منصوبہ بندی اور فنڈز کے ضیاع کی نشاندہی کی ہے۔


آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بلین ٹری سونامی کا منصوبہ کے حوالے سے جنگلات کے تینوں زونز میں بڑی تعداد میں اعلان کردہ کلوعرز کو ڈی نوٹیفائی کردیاگیا کیونکہ پی ایم یو کی جانب سے فیلڈافسروں کو مناسب انداز میں کلوعرز کے انتظام اور ان کو ڈیل کرنے کے سلسلے میں رہنمائی ہی فراہم نہیں کی جاسکی جس کی وجہ سے یہ محکمہ جنگلات اور فیلڈافسروں کے مابین وجہ تنازع بنا رہے.

مذکورہ کلوعرز چونکہ اس منصوبہ کا60 فیصد حصہ پر مشتمل تھے اس لیے ان کی بندش سے منصوبہ پر سوالیہ نشانات لگ گئے ہیں ،نجی کاشت کاروں کو نرسریاں حوالے کرنے کا عمل بھی شفاف نہیں تھا۔ متعدد جنگلات سے متعلق ڈویژنز نے نگرانی کے عمل کے حوالے سے پی سی ون سے زائد رقوم کی وصولی کی۔

منصوبہ کے لیے تخم کی پیداوار بھی بغیر کسی سرٹیفیکیشن کے عمل کے کی گئی ،فیلڈ افسروں وک منصوبہ کے حوالے سے نہ تو مناسب انداز میں رہنمائی فراہم کی گئی اور نہ ہی منصوبہ پر عمل درآمد کے لیے طریقہ کار بتایاگیا۔
Load Next Story