ترکی کے تین وزیر کرپشن اسکینڈل پر مستعفی
ترکی میں کرپشن کا بڑا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد 3 وزراء اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ ترکی کے...
کرپشن کا نیا معاملہ وزیراعظم رجب طیب اردوان کے11سالہ دور اقتدار کاسب سے مشکل چیلنج ہے ۔فوٹو:اے ایف پی
KARACHI:
ترکی میں کرپشن کا بڑا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد 3 وزراء اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ ترکی کے وزیر اقتصادیات مہمت ظفر کیغلیان، وزیر داخلہ معمر گیولر اور وزیر ماحولیات اردوان بائریکتر نے گزشتہ روز وزیر اعظم کی وطن واپسی کے فوری بعد اپنے عہدے چھوڑنے کا اعلان کیا جب کہ وزیر اعظم رجب طیب اردگان سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ موجودہ دور میںہمارے حکمران ترکی کے ساتھ مختلف مشترکہ منصوبوں پر خاصہ زور دے رہے ہیں تاکہ ترکی کی تعمیر و ترقی سے فائدہ اٹھانے کی کوئی سبیل پیدا ہو سکے۔ اگر ہمارے ارباب بست و کشاد فی الواقعی برادر ملک ترکی سے صحیح معنوں میں استفادہ کرنا چاہتے ہیں تو انھیں ترکی کے ارباب اختیار سے کرپشن کے الزام میں مستعفی ہونے کے عمل سے بھی کچھ سیکھنا چاہیے۔ ترکی میں وزیر اقتصادیات اور وزیر داخلہ کے بیٹوں کو 24 دوسرے افراد کے ساتھ گزشتہ دنوں کرپشن کے ایک بڑے اسکینڈل میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا گیا تھا۔
کرپشن کا نیا معاملہ وزیر اعظم رجب طیب اردگان کے11 سالہ دور اقتدار کا سب سے مشکل چیلنج ہے اور اس میں اعلیٰ ترین سرکاری اور کاروباری شخصیات بھی ملوث ہیں۔ اس سے قبل رجب طیب اردگان نے اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستان کے دورے سے واپسی پر اپنی کابینہ میں تبدیلیاں کریں گے۔ مہمت ظفر کیغلیان نے اپنے بیان میں حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا پولیس کی جانب سے تفتیش انقرہ حکام، ان کی جماعت اور ملک کے خلاف خفیہ چال ہے، وہ عہدے سے اس وجہ سے الگ ہو رہے ہیں تا کہ ان کے قریبی ساتھیوں اور ان کے بیٹوں کو نشانہ بنانے کے لیے جاری گھنائونا کھیل ختم کیا جا سکے اور جلد از جلد حقیقت منظر عام پر آئے۔ معمر گیولر نے ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کو بتایا انھوں نے17 دسمبر کو وزیر اعظم کو بتا دیا تھا کہ وہ مستعفی ہونے کے لیے تیار ہیں اور آج میں نے تحریری طور پر انھیں مطلع کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا وہ ثابت کریں گے کہ وہ بے گناہ ہیں۔ دوسری جانب مبصرین کے مطابق اس اسکینڈل سے وزیراعظم رجب طیب اردگان کی حکومت کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے مستعفی ہونے والے وزیروں کی طرف سے وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔
ترکی میں کرپشن کا بڑا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد 3 وزراء اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ ترکی کے وزیر اقتصادیات مہمت ظفر کیغلیان، وزیر داخلہ معمر گیولر اور وزیر ماحولیات اردوان بائریکتر نے گزشتہ روز وزیر اعظم کی وطن واپسی کے فوری بعد اپنے عہدے چھوڑنے کا اعلان کیا جب کہ وزیر اعظم رجب طیب اردگان سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ موجودہ دور میںہمارے حکمران ترکی کے ساتھ مختلف مشترکہ منصوبوں پر خاصہ زور دے رہے ہیں تاکہ ترکی کی تعمیر و ترقی سے فائدہ اٹھانے کی کوئی سبیل پیدا ہو سکے۔ اگر ہمارے ارباب بست و کشاد فی الواقعی برادر ملک ترکی سے صحیح معنوں میں استفادہ کرنا چاہتے ہیں تو انھیں ترکی کے ارباب اختیار سے کرپشن کے الزام میں مستعفی ہونے کے عمل سے بھی کچھ سیکھنا چاہیے۔ ترکی میں وزیر اقتصادیات اور وزیر داخلہ کے بیٹوں کو 24 دوسرے افراد کے ساتھ گزشتہ دنوں کرپشن کے ایک بڑے اسکینڈل میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا گیا تھا۔
کرپشن کا نیا معاملہ وزیر اعظم رجب طیب اردگان کے11 سالہ دور اقتدار کا سب سے مشکل چیلنج ہے اور اس میں اعلیٰ ترین سرکاری اور کاروباری شخصیات بھی ملوث ہیں۔ اس سے قبل رجب طیب اردگان نے اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستان کے دورے سے واپسی پر اپنی کابینہ میں تبدیلیاں کریں گے۔ مہمت ظفر کیغلیان نے اپنے بیان میں حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا پولیس کی جانب سے تفتیش انقرہ حکام، ان کی جماعت اور ملک کے خلاف خفیہ چال ہے، وہ عہدے سے اس وجہ سے الگ ہو رہے ہیں تا کہ ان کے قریبی ساتھیوں اور ان کے بیٹوں کو نشانہ بنانے کے لیے جاری گھنائونا کھیل ختم کیا جا سکے اور جلد از جلد حقیقت منظر عام پر آئے۔ معمر گیولر نے ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کو بتایا انھوں نے17 دسمبر کو وزیر اعظم کو بتا دیا تھا کہ وہ مستعفی ہونے کے لیے تیار ہیں اور آج میں نے تحریری طور پر انھیں مطلع کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا وہ ثابت کریں گے کہ وہ بے گناہ ہیں۔ دوسری جانب مبصرین کے مطابق اس اسکینڈل سے وزیراعظم رجب طیب اردگان کی حکومت کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے مستعفی ہونے والے وزیروں کی طرف سے وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔