جمہوری منزل کی تلاش
آج سیاسی نظریات،حکومتی اقدامات جمہوریت اورقانون سازی کے عوام کی زندگیوں پراثرات پر کوئی امید افزا بات زیر بحث نہیں ہے۔
آج سیاسی نظریات،حکومتی اقدامات جمہوریت اورقانون سازی کے عوام کی زندگیوں پراثرات پر کوئی امید افزا بات زیر بحث نہیں ہے۔ فوٹو: فائل
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سوشل میڈیا سے متعلق بنائے گئے حکومتی قواعد و ضوابط کے خلاف دائر کی گئی ایک آئینی درخواست کی سماعت کے دوران پی ٹی اے کو ہدایت کی ہے کہ سوشل میڈیا قواعد کے حوالے سے پاکستان بار کونسل کے تحفظات کو مدنظر رکھے اور دوبارہ جواب جمع کرائے۔
چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ تنقید جمہوریت اور آزادی اظہار کا اہم جزو ہے، کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، عدالتی فیصلوں پر رائے دی جا سکتی ہے، پی ٹی اے کے لاء افسر آیندہ سماعت پر عدالت کو مطمئن کریں کہ یہ قواعد وضوابط آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 اے سے متصادم نہیں ہیں؟ عدلیہ نے قرار دیا کہ جمہوریت میں احتساب کو یقینی بنانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ لوگوں کو معلومات تک رسائی حاصل ہو، جب عدالتیں اور جج بھی تعمیری تنقید سے محفوظ نہ ہوں تو حکومت کیسے تنقید سے استثنیٰ لے سکتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عدالتی ریمارکس نے جمہوریت، آزادی اظہار، شفاف و یقینی احتساب اور صحت مند و تعمیری تنقید کے حوالے سے سنگ میل جیسے صائب افکار و تاثرات کا اظہار کیا ہے جو جمہوری عمل میں اساسی پیش رفت اور سیاسی انداز فکر میں بنیادی تفکر اور فیصلہ و اقدام کی آزادی کے غیر مبہم نظام سیاست کی طرف بلند اشارہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
آج سیاسی نظریات، حکومتی اقدامات، جمہوریت اور قانون سازی کے عوام کی زندگیوں پر اثرات پر کوئی امید افزا بات زیر بحث نہیں ہے، سیاست دان الجھے ہوئے ہیں، گڈ گورننس کے چراغ بجھ رہے ہیں، رواداری، کشادہ دلی اور مثالی سیاسی فیصلوں کے قحط پر اہل فکر ونظر بھی اس سوچ میں غلطاں ہیں کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کیا کسی دیوانے کا خواب ہے یا مجذوب کی بڑ۔ عدالتی ریمارکس نے ملکی سیاست پر چھائی ہوئی دھند کو صاف کرنے کا سامان کیا ہے، ریاست و حکومتی حلقوں کو اس کو مشعل راہ بنانا چاہیے۔
محترم چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ کا یہ انداز نظر کہ کوئی قانون سے بالاتر نہیں، ملکی سیاسی نظام و سماجی نظام اقدار کے لیے فکر کی ایک تازہ لہر ہے، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اہل سیاست قوم کو شفافیت پر مبنی سیاسی و سماجی سسٹم کی سوغات دیں، خود بھی اس برمودا ٹرائی اینگل سے نکلیں اور قوم کو بھی سکھ کا سانس لینے دیں، اس حقیقت پر اوپن بحث ہونی چاہیے کہ پارلیمنٹ قانون سازی کا اعلیٰ ترین فورم ہے اور پارلیمنٹیرینز ہی عوام کے سیاسی، معاشی اور فکری مسائل کا حل ڈھونڈنے اور اپنے حلقہ انتخاب کے لیے جمہوری ثمرات کی فراہمی کے ذمے دار ہیں۔
ارباب اقتدار کے سامنے مقننہ، عدلیہ، میڈیا اور انتظامیہ کے ریاستی ستون جمہوریت کے سٹیک ہولڈرز ہی ہیں، اظہار آزادی کے مسلمہ اور عالمگیر جمہوری حق کو دنیا تسلیم کرتی ہے، آج کوئی معاشرہ حقیقت کو چھپانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا، سوشل میڈیا نے انسانی تعلقات، دنیا میں موجود ثقافتوں کو ایک دوسرے سے قریب کر دیا ہے، لیکن سوشل میڈیا کی ذمے داری بھی بڑھ گئی ہے، فیک نیوز اور دل آزاری پر مبنی اطلاعات، تصاویر، رپورٹس، ٹویٹس اور ویڈیوز کا سیل رواں حکومتوں کے امتناعی قوانین سے روکا نہیں جا سکتا، قدغن لگانا مسئلہ کا حل نہیں، نئی نسل کی فکری آزادی، جستجو، خواندگی کے فروغ سے اس کا صائب تدارک ممکن ہے۔
روایتی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی سنجیدگی آج بھی ''میڈیم از دی میسیج'' کے اصول کو پیش نظر رکھتی ہے لیکن سوشل میڈیا کے پلس پوائنٹ بھی ہیں اور منفی بھی موجود ہیں، اس نے کورونا کے خلاف عوامی بیداری کا کام کیا، آگہی مہم کی تمام سرکاری کوششوں میں معاونت کی، معصوم بچوں، بچیوں اور خواتین سے زیادتی اور ان کی دردناک ہلاکتوں پر کہرام برپا کیا، قصور کی زینب اور لاہور موٹر وے پر بے آبرو ہونے والی بے بس خاتون کا واقعہ میڈیا نے بے نقاب کیا، ملکی سیاست 72 برسوں سے تاریک راہوں میں مارے جانے والوں کا نوحہ سناتی ہے، جمہوریت کو بہت سے دانشور ایک سراب کہتے ہیں، مگر سب کو آزادی اظہار کا حق ہے، والٹیر موجود نہیں مگر ان کی سوچ کا چراغ مسلسل جل رہا ہے، بقول شاعر
؎
جو بات برسرِ منبر نہ کہہ سکا واعظ
وہ بات اہل جنوں زیرِ دار کہتے ہیں
سوشل میڈیا کی منفی سرگرمیاں تسلیم لیکن بات تعمیری اور تخریبی وسیلوں کے درمیان جمہوری حد فاصل کی ہے، سوشل میڈیا کی بے ہنگم اطلاعات اور بے لگام آزادی تحریر واظہار کی حد وہاں ختم ہونی چاہیے جہاں حکومت وریاست کی رٹ کے قیام کا معاملہ آتا ہے، ہماری سیاست میں لب و لہجے کا بحران، الزام تراشی اور بلیم گیم کا شور ختم ہوسکتا ہے اگر سیاستدان ادراک کریں کہ ملک میں ہتک عزت یا ازالہ حیثیت عرفی کا قانون موجود ہے، عدلیہ انصاف کا سب سے بڑا منصب ہے، عوام داد رسی کے لیے عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں، کوئی بھی شہری اپنی توہین، بے توقیری اور الزام تراشی کے خلاف عدالت سے انصاف مانگ سکتا ہے، کسی پر قدغن نہیں۔
قانون کو راستہ ملے تو سیاسی محاذ آرائی ختم جب کہ شائستہ گفتگو، سنجیدہ مکالمہ کی مٹی نم بھی ہوسکتی ہے، معاشی اور سیاسی مسائل پر عمومی ڈیبیٹ کی راہیں کھل جائیں گی، سوشل میڈیا مادر پدر زاد آزاد ذریعہ ابلاغ ہے مگر قانون و ذمے داری سے ماورا نہیں۔ جناب چیف جسٹس نے ریمارک دیا کہ عدالتی فیصلوں پر بھی تنقید ہو سکتی ہے، صرف فیئر ٹرائل متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت احتساب سے کیوں ڈرے، نہ تو کوئی قانون سے بالاتر ہے، اور نہ ہی تنقید سے، عدلیہ نے یاد دلایا کہ جب آپ سقم چھوڑیں گے تو مسائل بھی پیدا ہوں گے۔
سچ یہ ہے کہ مسائل پیدا ہوئے، حکمرانی قرون وسطیٰ کے مائنڈ سیٹ سے نکلنے پر تیار ہوگی تو سیاسی اور معاشی حقائق ریاستی ستونوں کی توجہ کا مرکز بنیں گے، ماہرین فکر و نظر کا کہنا ہے کہ سیاسی المیہ ہمہ جہتی ہے، بنیادی مسئلہ قانون سازی کا ہے اور عجلت میں ہونے والے عارضی یا سیاسی مفادات میں منظور ہونے والے قانون جب تک عوام کے دکھوں کی نشاندہی یا ان کے دائمی حل کا ازالہ نہیں کریں گے پارلیمان کا تقدس اور اس کی بالادستی کی صرف بحث ہی چلتی رہے گی، منزل نہیں ملے گی۔
ماہرین کا جنسی زیادتی کے مجرموں کو جنسی صلاحیت سے محرومی کے قانون پر کہنا تھا کہ اس قانون کے اطلاق کے مضمرات انسانیت پر اس کے ذہنی، جسمانی اور انسانی اثرات کا جائزہ لینا ناگزیر ہے، قانون سازی کے عمل میں دیکھنا ہوگا کہ ہم ایسے مجرم سے زندگی بھر کے لیے ایک تائب اور اچھا انسان بننے کی توقع ہی ختم کر لیں اور اس امکان کو تسلیم ہی نہ کریں کہ ایک برا انسان اپنے گناہ یا جرم پر نادم ہوکر سماجی زندگی کا حصہ بن سکتا ہے، کیسٹریشن آج بھی اہل دانش کے نزدیک ایک سوالیہ نشان ہے، وہ پوچھتے ہیں کہ ارباب اختیار نے ان ممالک سے جنسی صلاحیت کے خاتمے کے نتائج دریافت کیے یا ان سے قانونی استفادہ کا کچھ سوچا ہے۔ کئی حوالوں سے سیاسی نظام پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔
ضرورت اب اس بات کے ادراک کی ہے کہ جمہوریت کا انحصار انتظامیہ، مقننہ، عدلیہ اور چوتھے ستون کی عملداری سے جڑا ہوا ہے۔ 22 کروڑ عوام ایک شفاف، منصفانہ و عادلانہ سیاسی ومعاشی نظام کے منتظر ہیں جہاں مساوات، روزگار، انصاف اور خیر اندیشی کی قدریں پھل پھول رہی ہوں، سیاست عوام کی خدمت سے عبارت ہو، ملک میں امن ہو اور عوام آسودہ حال ہوں۔
پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی کئی مسائل کا شکار ہے۔ گزشتہ روز ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت کے ارادوںسے پردہ اٹھایا ہے۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا، پاکستان کے دفتر خارجہ نے کئی بار بھارتی عزائم کا ذکر کیا ہے۔ ایک جانب بھارتی خطرات سر پر منڈلا رہے ہیں تو دوسری جانب ملک میں داخلی حالات کی سمت بھی درست نظر نہیں آ رہی۔ سیاسی تناؤ اور کھینچاتانی بہت بڑھ چکی ہے۔ اس سیاسی کھینچاتانی کا ذمے دار مین اسٹریم میڈیا یا سوشل میڈیا نہیں ہے بلکہ ہماری سیاسی جماعتوں کے درمیان موجود مفاداتی ٹکراؤ ہی اصل وجہ ہے۔
اپوزیشن متحد ہو کر جلسے جلوس کر رہی ہے اور دوسری جانب حکومت ہے۔ حکومت کا مؤقف اپنی جگہ درست نظر آتا ہے۔ حکومت نے معیشت کی خرابیوں کو دور کرنے کے حوالے سے جو کچھ کیا ہے، اس کے باوجود گراس روٹ لیول پر عوام کو ریلیف ملتا نظر نہیں آ رہا۔ مہنگائی سیلاب کی طرح بڑھ رہی ہے۔
پڑھے لکھے نوجوان روزگار کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں جب کہ درمیانے درجے کا کاروباری طبقہ کورونا وباء کے باعث حکومتی حفاظتی اقدامات کی نذر ہو رہا ہے۔ ان کی آمدنیاں کم ہو گئی ہیں۔ اس کے اثرات چھوٹی موٹی ریڑیاں لگا کر روٹی روزی کا بندوبست کرنے والے بھی معاشی بدحالی کا شکار ہیں۔ سیاسی جماعتوں خصوصاً برسراقتدار جماعت کو ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالنا چاہیے تاکہ ملک میں معاشی اور سیاسی استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔
چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ تنقید جمہوریت اور آزادی اظہار کا اہم جزو ہے، کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، عدالتی فیصلوں پر رائے دی جا سکتی ہے، پی ٹی اے کے لاء افسر آیندہ سماعت پر عدالت کو مطمئن کریں کہ یہ قواعد وضوابط آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 اے سے متصادم نہیں ہیں؟ عدلیہ نے قرار دیا کہ جمہوریت میں احتساب کو یقینی بنانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ لوگوں کو معلومات تک رسائی حاصل ہو، جب عدالتیں اور جج بھی تعمیری تنقید سے محفوظ نہ ہوں تو حکومت کیسے تنقید سے استثنیٰ لے سکتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عدالتی ریمارکس نے جمہوریت، آزادی اظہار، شفاف و یقینی احتساب اور صحت مند و تعمیری تنقید کے حوالے سے سنگ میل جیسے صائب افکار و تاثرات کا اظہار کیا ہے جو جمہوری عمل میں اساسی پیش رفت اور سیاسی انداز فکر میں بنیادی تفکر اور فیصلہ و اقدام کی آزادی کے غیر مبہم نظام سیاست کی طرف بلند اشارہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
آج سیاسی نظریات، حکومتی اقدامات، جمہوریت اور قانون سازی کے عوام کی زندگیوں پر اثرات پر کوئی امید افزا بات زیر بحث نہیں ہے، سیاست دان الجھے ہوئے ہیں، گڈ گورننس کے چراغ بجھ رہے ہیں، رواداری، کشادہ دلی اور مثالی سیاسی فیصلوں کے قحط پر اہل فکر ونظر بھی اس سوچ میں غلطاں ہیں کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کیا کسی دیوانے کا خواب ہے یا مجذوب کی بڑ۔ عدالتی ریمارکس نے ملکی سیاست پر چھائی ہوئی دھند کو صاف کرنے کا سامان کیا ہے، ریاست و حکومتی حلقوں کو اس کو مشعل راہ بنانا چاہیے۔
محترم چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ کا یہ انداز نظر کہ کوئی قانون سے بالاتر نہیں، ملکی سیاسی نظام و سماجی نظام اقدار کے لیے فکر کی ایک تازہ لہر ہے، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اہل سیاست قوم کو شفافیت پر مبنی سیاسی و سماجی سسٹم کی سوغات دیں، خود بھی اس برمودا ٹرائی اینگل سے نکلیں اور قوم کو بھی سکھ کا سانس لینے دیں، اس حقیقت پر اوپن بحث ہونی چاہیے کہ پارلیمنٹ قانون سازی کا اعلیٰ ترین فورم ہے اور پارلیمنٹیرینز ہی عوام کے سیاسی، معاشی اور فکری مسائل کا حل ڈھونڈنے اور اپنے حلقہ انتخاب کے لیے جمہوری ثمرات کی فراہمی کے ذمے دار ہیں۔
ارباب اقتدار کے سامنے مقننہ، عدلیہ، میڈیا اور انتظامیہ کے ریاستی ستون جمہوریت کے سٹیک ہولڈرز ہی ہیں، اظہار آزادی کے مسلمہ اور عالمگیر جمہوری حق کو دنیا تسلیم کرتی ہے، آج کوئی معاشرہ حقیقت کو چھپانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا، سوشل میڈیا نے انسانی تعلقات، دنیا میں موجود ثقافتوں کو ایک دوسرے سے قریب کر دیا ہے، لیکن سوشل میڈیا کی ذمے داری بھی بڑھ گئی ہے، فیک نیوز اور دل آزاری پر مبنی اطلاعات، تصاویر، رپورٹس، ٹویٹس اور ویڈیوز کا سیل رواں حکومتوں کے امتناعی قوانین سے روکا نہیں جا سکتا، قدغن لگانا مسئلہ کا حل نہیں، نئی نسل کی فکری آزادی، جستجو، خواندگی کے فروغ سے اس کا صائب تدارک ممکن ہے۔
روایتی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی سنجیدگی آج بھی ''میڈیم از دی میسیج'' کے اصول کو پیش نظر رکھتی ہے لیکن سوشل میڈیا کے پلس پوائنٹ بھی ہیں اور منفی بھی موجود ہیں، اس نے کورونا کے خلاف عوامی بیداری کا کام کیا، آگہی مہم کی تمام سرکاری کوششوں میں معاونت کی، معصوم بچوں، بچیوں اور خواتین سے زیادتی اور ان کی دردناک ہلاکتوں پر کہرام برپا کیا، قصور کی زینب اور لاہور موٹر وے پر بے آبرو ہونے والی بے بس خاتون کا واقعہ میڈیا نے بے نقاب کیا، ملکی سیاست 72 برسوں سے تاریک راہوں میں مارے جانے والوں کا نوحہ سناتی ہے، جمہوریت کو بہت سے دانشور ایک سراب کہتے ہیں، مگر سب کو آزادی اظہار کا حق ہے، والٹیر موجود نہیں مگر ان کی سوچ کا چراغ مسلسل جل رہا ہے، بقول شاعر
؎
جو بات برسرِ منبر نہ کہہ سکا واعظ
وہ بات اہل جنوں زیرِ دار کہتے ہیں
سوشل میڈیا کی منفی سرگرمیاں تسلیم لیکن بات تعمیری اور تخریبی وسیلوں کے درمیان جمہوری حد فاصل کی ہے، سوشل میڈیا کی بے ہنگم اطلاعات اور بے لگام آزادی تحریر واظہار کی حد وہاں ختم ہونی چاہیے جہاں حکومت وریاست کی رٹ کے قیام کا معاملہ آتا ہے، ہماری سیاست میں لب و لہجے کا بحران، الزام تراشی اور بلیم گیم کا شور ختم ہوسکتا ہے اگر سیاستدان ادراک کریں کہ ملک میں ہتک عزت یا ازالہ حیثیت عرفی کا قانون موجود ہے، عدلیہ انصاف کا سب سے بڑا منصب ہے، عوام داد رسی کے لیے عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں، کوئی بھی شہری اپنی توہین، بے توقیری اور الزام تراشی کے خلاف عدالت سے انصاف مانگ سکتا ہے، کسی پر قدغن نہیں۔
قانون کو راستہ ملے تو سیاسی محاذ آرائی ختم جب کہ شائستہ گفتگو، سنجیدہ مکالمہ کی مٹی نم بھی ہوسکتی ہے، معاشی اور سیاسی مسائل پر عمومی ڈیبیٹ کی راہیں کھل جائیں گی، سوشل میڈیا مادر پدر زاد آزاد ذریعہ ابلاغ ہے مگر قانون و ذمے داری سے ماورا نہیں۔ جناب چیف جسٹس نے ریمارک دیا کہ عدالتی فیصلوں پر بھی تنقید ہو سکتی ہے، صرف فیئر ٹرائل متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت احتساب سے کیوں ڈرے، نہ تو کوئی قانون سے بالاتر ہے، اور نہ ہی تنقید سے، عدلیہ نے یاد دلایا کہ جب آپ سقم چھوڑیں گے تو مسائل بھی پیدا ہوں گے۔
سچ یہ ہے کہ مسائل پیدا ہوئے، حکمرانی قرون وسطیٰ کے مائنڈ سیٹ سے نکلنے پر تیار ہوگی تو سیاسی اور معاشی حقائق ریاستی ستونوں کی توجہ کا مرکز بنیں گے، ماہرین فکر و نظر کا کہنا ہے کہ سیاسی المیہ ہمہ جہتی ہے، بنیادی مسئلہ قانون سازی کا ہے اور عجلت میں ہونے والے عارضی یا سیاسی مفادات میں منظور ہونے والے قانون جب تک عوام کے دکھوں کی نشاندہی یا ان کے دائمی حل کا ازالہ نہیں کریں گے پارلیمان کا تقدس اور اس کی بالادستی کی صرف بحث ہی چلتی رہے گی، منزل نہیں ملے گی۔
ماہرین کا جنسی زیادتی کے مجرموں کو جنسی صلاحیت سے محرومی کے قانون پر کہنا تھا کہ اس قانون کے اطلاق کے مضمرات انسانیت پر اس کے ذہنی، جسمانی اور انسانی اثرات کا جائزہ لینا ناگزیر ہے، قانون سازی کے عمل میں دیکھنا ہوگا کہ ہم ایسے مجرم سے زندگی بھر کے لیے ایک تائب اور اچھا انسان بننے کی توقع ہی ختم کر لیں اور اس امکان کو تسلیم ہی نہ کریں کہ ایک برا انسان اپنے گناہ یا جرم پر نادم ہوکر سماجی زندگی کا حصہ بن سکتا ہے، کیسٹریشن آج بھی اہل دانش کے نزدیک ایک سوالیہ نشان ہے، وہ پوچھتے ہیں کہ ارباب اختیار نے ان ممالک سے جنسی صلاحیت کے خاتمے کے نتائج دریافت کیے یا ان سے قانونی استفادہ کا کچھ سوچا ہے۔ کئی حوالوں سے سیاسی نظام پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔
ضرورت اب اس بات کے ادراک کی ہے کہ جمہوریت کا انحصار انتظامیہ، مقننہ، عدلیہ اور چوتھے ستون کی عملداری سے جڑا ہوا ہے۔ 22 کروڑ عوام ایک شفاف، منصفانہ و عادلانہ سیاسی ومعاشی نظام کے منتظر ہیں جہاں مساوات، روزگار، انصاف اور خیر اندیشی کی قدریں پھل پھول رہی ہوں، سیاست عوام کی خدمت سے عبارت ہو، ملک میں امن ہو اور عوام آسودہ حال ہوں۔
پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی کئی مسائل کا شکار ہے۔ گزشتہ روز ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت کے ارادوںسے پردہ اٹھایا ہے۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا، پاکستان کے دفتر خارجہ نے کئی بار بھارتی عزائم کا ذکر کیا ہے۔ ایک جانب بھارتی خطرات سر پر منڈلا رہے ہیں تو دوسری جانب ملک میں داخلی حالات کی سمت بھی درست نظر نہیں آ رہی۔ سیاسی تناؤ اور کھینچاتانی بہت بڑھ چکی ہے۔ اس سیاسی کھینچاتانی کا ذمے دار مین اسٹریم میڈیا یا سوشل میڈیا نہیں ہے بلکہ ہماری سیاسی جماعتوں کے درمیان موجود مفاداتی ٹکراؤ ہی اصل وجہ ہے۔
اپوزیشن متحد ہو کر جلسے جلوس کر رہی ہے اور دوسری جانب حکومت ہے۔ حکومت کا مؤقف اپنی جگہ درست نظر آتا ہے۔ حکومت نے معیشت کی خرابیوں کو دور کرنے کے حوالے سے جو کچھ کیا ہے، اس کے باوجود گراس روٹ لیول پر عوام کو ریلیف ملتا نظر نہیں آ رہا۔ مہنگائی سیلاب کی طرح بڑھ رہی ہے۔
پڑھے لکھے نوجوان روزگار کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں جب کہ درمیانے درجے کا کاروباری طبقہ کورونا وباء کے باعث حکومتی حفاظتی اقدامات کی نذر ہو رہا ہے۔ ان کی آمدنیاں کم ہو گئی ہیں۔ اس کے اثرات چھوٹی موٹی ریڑیاں لگا کر روٹی روزی کا بندوبست کرنے والے بھی معاشی بدحالی کا شکار ہیں۔ سیاسی جماعتوں خصوصاً برسراقتدار جماعت کو ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالنا چاہیے تاکہ ملک میں معاشی اور سیاسی استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔