منشیات بیروزگاری اور کورونا
پوری دنیا میں اسلحہ، منشیات اور کرپشن، جرائم اور مافیاتی تعلقات سے سیاسی طاقت کے حصول کی بین الاقوامی حقیقت بن گئی ہے۔
پوری دنیا میں اسلحہ، منشیات اور کرپشن، جرائم اور مافیاتی تعلقات سے سیاسی طاقت کے حصول کی بین الاقوامی حقیقت بن گئی ہے۔ فوٹو: فائل
پیر کو اینٹی نارکوٹکس فورس کے ہیڈکوارٹرز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے منشیات کے سماجی مسئلہ پر اظہار خیال کیا، یہ حقیقت ہے کہ ملک میں منشیات کی استعمال اور افرادی قوت کے درد انگیز ضیاع پر سیاستدانوں یا حکمرانوں کی توجہ زیادہ نہیں جاتی۔
سیاست کے مسائل اس قدر گھمبیر ہیں کہ منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور مقامی حکومتیں منشیات کے عادی افراد کو دھرتی کا بوجھ قرار دیتے اور انھیں ذلت آمیز رویوں اور درد ناک امراض کا شکار ہو کر ایڑیاں رگرتے ہوئے مرتا دیکھتے ہیں لیکن معاشرہ عادی افراد پر رحم نہیں کھاتا، حالانکہ لاکھوں افراد کو اس لت میں مبتلا کرنے والے ڈرگ اسمگلر، اربوں روپے اسی دھندے سے کماتے ہیں اور اسی منشیات کے راستے اور غیر قانونی تجارت کے ذریعے سیاست کی غلام گردشوں تک پہنچ کر ''ان ٹچ ایبلز'' بھی بن جاتے ہیں۔
ہزاروں نوجوان نشہ آور اشیاء کی تباہ کاریوں کی نذر ہو جاتے ہیں، غریب خاندانوں کے نوجوان اپنی زندگی، مستقبل اور صحت برباد کر ڈالتے ہیں، اس وقت پوری دنیا میں اسلحہ، منشیات اور کرپشن ،جرائم اور مافیاتی تعلقات سے سیاسی طاقت کے حصول کی بین الاقوامی حقیقت بن گئی ہے۔ جدید سیاسی دنیا میں جرم اور سیاست الگ الگ نہیں بلکہ گڈ مڈ ہو گئی ہے۔
وزیراعظم نے گزشتہ روز منشیات کے اہم موضوع پر قوم کو متوجہ کیا، انھوں نے کہا کہ اے این ایف منشیات، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جرائم اور نیب یا دوسرے ادارے کرپشن روکنے کے لیے کافی نہیں، ان جرائم سے پورے معاشرے کو مل کر لڑنا ہے۔ ہمارے معاشرے کا ناجائز دولت کمانے والوں کو تسلیم کرنا بدقسمتی ہے۔ ماضی میں اس پیسے سے کئی لوگ انتخابات جیتے، سنتھیٹک ڈرگز منشیات کی نئی شکل ہے، جو اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں بھی پھیل چکی ہے۔
وزیر اعظم نے زور دیا کہ نشہ کے کینسر کے خلاف ملک بھر میں تحریک چلائی جائے گی، تاہم سماجی رہنماؤں، منشیات سے نمٹنے والے سرکاری اور رضاکار سماجی تنظیموں کے سماجی کاموں کے اعتراف کا کلچر فعال کرنا بے حد ضروری ہے، اس کے بعد ہی سماج حاشیوں میں رہنے والی اس لاوارث اور بے مصرف مخلوق کے لیے معاشی اور حفظان صحت کے حوالہ سے کوئی مثبت کام کی بنیاد ڈال سکتی ہے، بعض سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ منشیات کے بعض اڈوں کی تاریخ قیام پاکستان اور برٹش دور سے چلی آ رہی ہے، اقبال نے ''گراں خواب چینی سنبھلنے لگے'' جیسی نظم سے برصغیر میں منشیات (افیون) کی کاشت اور تجارت کے اندوہ ناک واقعات کی طرف اشارہ کیا تھا۔
آج بھی وزارت صحت کی منشیات کے عادی افراد کی بحالی، روزگار اور معاشرہ میں عزت و وقار سے بحالی بنیادی ذمے داری بنتی ہے۔ پوری قوم کو وزیر اعظم خان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے نئی نسل کو منشیات کے استعمال سے بچانے کے لیے جدوجہد کرنا پڑے گی، تبھی ہم ایک صحت مند قوم بن سکیں گے، اور نوجوان ملکی تعمیر وترقی میں اپنا بھرپور حصہ ڈال سکیں گے۔رواں مالی سال کے ابتدائی چار ماہ (جولائی تا اکتوبر) کے دوران دفاعی اور ترقیاتی اخراجات میں کمی کے باوجود بجٹ خسارے کا حجم مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں 2 فیصد بڑھ کر 894 ارب روپے ہو گیا جوگزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 17 فیصد زائد ہے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کی معیشت کورونا وائرس کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اس وبا کے منفی معاشی اثرات مختلف طریقوں سے سامنے آئے جس میں کاروباری سرگرمیوں میں کمی، درآمد اور برآمد میں کمی اور سپلائی چین میں خلل کی وجہ سے پیداوار میں کمی شامل ہیں۔ اس کا ایک سب سے اہم اثر روزگار میں کمی کی صورت میں سامنے آیا ہے، افرادی قوت کو اس وقت پریشانیوں کا سامنا ہے، ملک میں بیروزگاری کی شرح بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے، یہ انتہائی پریشان کن صورتحال ہے۔
مالی سال 21-2020کے دوران ملک میں بیروزگار افراد کی تعداد 66 لاکھ 50 ہزار تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جب کہ مالی سال 20-2019کے دوران اس کی تعداد 58 لاکھ تھی۔ ایک رپورٹ کے مطابق حکومت کے سالانہ منصوبے 21-2020کے مطابق پاکستان میں دنیا کی نویں بڑی لیبر فورس ہے جو ہر سال بڑھتی جا رہی ہے۔
لیبر فورس سروے کے مطابق آیندہ مالی سال (21-2020) کے لیے بیروزگاری کی شرح 9.56 فیصد بتائی گئی ہے۔ پاکستان میں تعلیم یافتہ بیروزگار افراد خصوصاً ڈگری رکھنے والے بیروزگار افراد کے رجحان میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ڈگری رکھنے والوں میں بیروزگاری کی شرح دیگر مجموعی طور پر بیروزگار افراد کے مقابلے میں تقریبا 3 گنا زیادہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ فراہم کی جانے والی تعلیم اور نئے تعلیم یافتہ افراد کو جذب کرنے کی معیشت کی ضرورت کے درمیان مطابقت نہیں ہے۔ بیروزگاری کی سب سے زیادہ شرح 11.56 فیصد، 20-24 سال کی عمر والے افراد میں پائی جاتی ہے، یہ اعداد و شمار چشم کشا ہیں۔پاکستان تحریک انصاف، حکومتی اداروں کو مضبوط بنانے اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کے وعدے کے ساتھ حکومت میں آئی تھی لیکن اس کے برعکس مسلسل ملازمتیں ختم کی جا رہی ہیں۔
لوگوں کو بیروزگار کیا جا رہا ہے اداروں کو مضبوط کرنے کے نام پر یا اصلاحات کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے اس وجہ سے عوامی سطح پر بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بیروزگاری بڑھنے سے غربت بڑھے گی، نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہو گا، جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہو گا۔ اداروں میں اصلاحات کے نام پر ہونے والی بیروزگاری سے ہونے والے نقصان کا ذمے دار کون ہو گا، یہ حکومتی کرتا دھرتا افراد کے لیے سوچنے والی بات ہے۔
اس وقت پاکستان دنیا کا چھٹا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے جس کی مجموعی آبادی بائیس کروڑ سے زائد ہے۔ آبادی میں اضافے کی موجودہ شرح کو دیکھتے ہوئے اس کا اندازہ لگایا جاتا ہے کہ 2030تک اس کی آبادی اٹھائیس کروڑ تک پہنچ جائے گی، فی الحال آبادی میں 63 فیصد افراد کی عمر 30 سال سے کم ہے۔ یہ نوجوان روزگار کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبورکر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اشیائے خور و نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جب کہ حکومتی وزراء مسلسل مہنگائی کو مصنوعی قرار دے کر خود کو بری الذمہ سمجھتے ہیں جب کہ حقیقت کچھ اور ہے۔ مصنوعی مہنگائی بھی حکومت کی انتظامی معاملات پر گرفت نہ ہونے کی وجہ سے ہے، اس کے باوجود مصنوعی مہنگائی کا حصہ کم ہے حقیقت میں ہونے والی مہنگائی مجموعی طور پر اشیائے خور و نوش کی لاگت میں اضافے، ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کی وجہ سے قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اس اہم ترین معاملے کو مکمل طور پر نظر انداز کیا اور نتیجتاً سبزیاں، پھل، دالیں، دودھ، دہی، ادویات، چینی گھی، آٹا اور ادویات سمیت ہر چیز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، اب اگر حکومت بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرے گی تو عام آدمی کے لیے زندگی مزید مشکل ہو جائے گی۔
مہنگائی میں مسلسل اضافے کے ساتھ ساتھ حکومت عام آدمی کی آمدن کو بڑھانے کے لیے اقدامات کرنے میں بھی مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ اگر آمدن اور اخراجات میں توازن رہے، عام آدمی کی قوت خرید بہتر رہے معاملات قابو میں رہ سکتے ہیں لیکن قوت خرید میں اضافہ نہ ہونا مسلسل مہنگائی سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔
اس حقیقت اور اس نظام سے بھی حکومتی وزراء بے خبر نظر آتے ہیں چونکہ ان کے لیے آٹا، چینی، ادویات، سبزیاں، پھل اور گوشت خریدتے وقت کوئی مسئلہ نہیں ہوتا اس لیے حکومتی معاشی جادوگروں کے نزدیک بھی مہنگائی زیادہ اہم مسئلہ نہیں ہے۔ ایک طرف مہنگائی بڑھ رہی ہے تو دوسری جانب بیروزگاری کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
یہ صورتحال انتہائی خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے لہٰذا ارباب اختیار کو سنجیدگی سے ان مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ موجودہ سیاسی صورتحال ارباب اختیار کو زمینی حقائق سے غافل نہ بنائے ورنہ سیاسی تناؤ اور بڑھتی ہوئی کشمکش مشکلات کو دوچند کر دیگی، بلاشبہ روزگار کے مواقعے پیدا کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، نوجوان نسل کو روزگار کی فراہمی ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور نوجوان نسل کی صلاحیتوں کی ترقی اور ان کو بروئے کار لانا بہت ضروری ہے اوراس وقت نوجوانوں کو روزگار کے لیے صحیح مہارتیں حاصل کرنے میں مدد کرنا معاشی لحاظ سے معنی رکھتا ہے جب کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس وقت تعلیم، روزگار یا تربیت سے وابستہ نہیں ہے۔
لہٰذا تعلیم اور ملازمت کے مابین ایک متحرک رشتہ برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ ایک موثر حکمت عملی کے تحت نئی نسل کو بیروزگاری سے بچایا جا سکتا ہے، بس جرات اور خلوص نیت چاہیے۔کورونا وائرس کی دوسری لہر شدت اختیارکرتی جا رہی ہے، گزشتہ روز مزید 73 افراد انتقال کر گئے جس سے کل اموات 8446 ہو گئیں، 3901 نئے مریض سامنے آنے کے بعد مصدقہ کیسز کی تعداد 4 لاکھ 22 ہزار491 ہو گئی جن میں سے 3 لاکھ 58 ہزار53 صحتیاب ہو چکے ہیں جب کہ فعال کیسز بڑھ کر 55992 ہو گئے ہیں۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کر رہے ہیں ، کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے ۔ اسی ضمن میں ایک بات مشاہدے میں آئی ہے کہ ایس اوپیز پر عملدرآمد کے حوالے سے عوام اور کاروباری طبقے کو بینکوں میں لین دین کے معاملات میں خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، بینکوں کے باہر طویل قطاریں بھی نظر آ رہی ہیں ، یہ درست سہی کہ بینک میں کام کرنیوالے عملے کی حفاظت بھی ضروری ہے لیکن ایسی راہ بہتر تدبیر سے نکالی جانی چاہیے کہ کاروباری طبقہ باسانی بینک کی سہولتوں سے فائدہ اٹھاسکے اور کاروبار زندگی بھی متاثر نہ ہو۔
اس بار عوام تمام تر حکومتی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے ایس اوپیزپر قعطاً عمل کرتے نظر نہیں آرہے، لہٰذا حکومت پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سختی سے حفاظتی قوانین پر عملداری کو یقینی بنائے ۔
سیاست کے مسائل اس قدر گھمبیر ہیں کہ منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور مقامی حکومتیں منشیات کے عادی افراد کو دھرتی کا بوجھ قرار دیتے اور انھیں ذلت آمیز رویوں اور درد ناک امراض کا شکار ہو کر ایڑیاں رگرتے ہوئے مرتا دیکھتے ہیں لیکن معاشرہ عادی افراد پر رحم نہیں کھاتا، حالانکہ لاکھوں افراد کو اس لت میں مبتلا کرنے والے ڈرگ اسمگلر، اربوں روپے اسی دھندے سے کماتے ہیں اور اسی منشیات کے راستے اور غیر قانونی تجارت کے ذریعے سیاست کی غلام گردشوں تک پہنچ کر ''ان ٹچ ایبلز'' بھی بن جاتے ہیں۔
ہزاروں نوجوان نشہ آور اشیاء کی تباہ کاریوں کی نذر ہو جاتے ہیں، غریب خاندانوں کے نوجوان اپنی زندگی، مستقبل اور صحت برباد کر ڈالتے ہیں، اس وقت پوری دنیا میں اسلحہ، منشیات اور کرپشن ،جرائم اور مافیاتی تعلقات سے سیاسی طاقت کے حصول کی بین الاقوامی حقیقت بن گئی ہے۔ جدید سیاسی دنیا میں جرم اور سیاست الگ الگ نہیں بلکہ گڈ مڈ ہو گئی ہے۔
وزیراعظم نے گزشتہ روز منشیات کے اہم موضوع پر قوم کو متوجہ کیا، انھوں نے کہا کہ اے این ایف منشیات، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جرائم اور نیب یا دوسرے ادارے کرپشن روکنے کے لیے کافی نہیں، ان جرائم سے پورے معاشرے کو مل کر لڑنا ہے۔ ہمارے معاشرے کا ناجائز دولت کمانے والوں کو تسلیم کرنا بدقسمتی ہے۔ ماضی میں اس پیسے سے کئی لوگ انتخابات جیتے، سنتھیٹک ڈرگز منشیات کی نئی شکل ہے، جو اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں بھی پھیل چکی ہے۔
وزیر اعظم نے زور دیا کہ نشہ کے کینسر کے خلاف ملک بھر میں تحریک چلائی جائے گی، تاہم سماجی رہنماؤں، منشیات سے نمٹنے والے سرکاری اور رضاکار سماجی تنظیموں کے سماجی کاموں کے اعتراف کا کلچر فعال کرنا بے حد ضروری ہے، اس کے بعد ہی سماج حاشیوں میں رہنے والی اس لاوارث اور بے مصرف مخلوق کے لیے معاشی اور حفظان صحت کے حوالہ سے کوئی مثبت کام کی بنیاد ڈال سکتی ہے، بعض سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ منشیات کے بعض اڈوں کی تاریخ قیام پاکستان اور برٹش دور سے چلی آ رہی ہے، اقبال نے ''گراں خواب چینی سنبھلنے لگے'' جیسی نظم سے برصغیر میں منشیات (افیون) کی کاشت اور تجارت کے اندوہ ناک واقعات کی طرف اشارہ کیا تھا۔
آج بھی وزارت صحت کی منشیات کے عادی افراد کی بحالی، روزگار اور معاشرہ میں عزت و وقار سے بحالی بنیادی ذمے داری بنتی ہے۔ پوری قوم کو وزیر اعظم خان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے نئی نسل کو منشیات کے استعمال سے بچانے کے لیے جدوجہد کرنا پڑے گی، تبھی ہم ایک صحت مند قوم بن سکیں گے، اور نوجوان ملکی تعمیر وترقی میں اپنا بھرپور حصہ ڈال سکیں گے۔رواں مالی سال کے ابتدائی چار ماہ (جولائی تا اکتوبر) کے دوران دفاعی اور ترقیاتی اخراجات میں کمی کے باوجود بجٹ خسارے کا حجم مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں 2 فیصد بڑھ کر 894 ارب روپے ہو گیا جوگزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 17 فیصد زائد ہے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کی معیشت کورونا وائرس کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اس وبا کے منفی معاشی اثرات مختلف طریقوں سے سامنے آئے جس میں کاروباری سرگرمیوں میں کمی، درآمد اور برآمد میں کمی اور سپلائی چین میں خلل کی وجہ سے پیداوار میں کمی شامل ہیں۔ اس کا ایک سب سے اہم اثر روزگار میں کمی کی صورت میں سامنے آیا ہے، افرادی قوت کو اس وقت پریشانیوں کا سامنا ہے، ملک میں بیروزگاری کی شرح بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے، یہ انتہائی پریشان کن صورتحال ہے۔
مالی سال 21-2020کے دوران ملک میں بیروزگار افراد کی تعداد 66 لاکھ 50 ہزار تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جب کہ مالی سال 20-2019کے دوران اس کی تعداد 58 لاکھ تھی۔ ایک رپورٹ کے مطابق حکومت کے سالانہ منصوبے 21-2020کے مطابق پاکستان میں دنیا کی نویں بڑی لیبر فورس ہے جو ہر سال بڑھتی جا رہی ہے۔
لیبر فورس سروے کے مطابق آیندہ مالی سال (21-2020) کے لیے بیروزگاری کی شرح 9.56 فیصد بتائی گئی ہے۔ پاکستان میں تعلیم یافتہ بیروزگار افراد خصوصاً ڈگری رکھنے والے بیروزگار افراد کے رجحان میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ڈگری رکھنے والوں میں بیروزگاری کی شرح دیگر مجموعی طور پر بیروزگار افراد کے مقابلے میں تقریبا 3 گنا زیادہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ فراہم کی جانے والی تعلیم اور نئے تعلیم یافتہ افراد کو جذب کرنے کی معیشت کی ضرورت کے درمیان مطابقت نہیں ہے۔ بیروزگاری کی سب سے زیادہ شرح 11.56 فیصد، 20-24 سال کی عمر والے افراد میں پائی جاتی ہے، یہ اعداد و شمار چشم کشا ہیں۔پاکستان تحریک انصاف، حکومتی اداروں کو مضبوط بنانے اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کے وعدے کے ساتھ حکومت میں آئی تھی لیکن اس کے برعکس مسلسل ملازمتیں ختم کی جا رہی ہیں۔
لوگوں کو بیروزگار کیا جا رہا ہے اداروں کو مضبوط کرنے کے نام پر یا اصلاحات کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے اس وجہ سے عوامی سطح پر بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بیروزگاری بڑھنے سے غربت بڑھے گی، نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہو گا، جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہو گا۔ اداروں میں اصلاحات کے نام پر ہونے والی بیروزگاری سے ہونے والے نقصان کا ذمے دار کون ہو گا، یہ حکومتی کرتا دھرتا افراد کے لیے سوچنے والی بات ہے۔
اس وقت پاکستان دنیا کا چھٹا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے جس کی مجموعی آبادی بائیس کروڑ سے زائد ہے۔ آبادی میں اضافے کی موجودہ شرح کو دیکھتے ہوئے اس کا اندازہ لگایا جاتا ہے کہ 2030تک اس کی آبادی اٹھائیس کروڑ تک پہنچ جائے گی، فی الحال آبادی میں 63 فیصد افراد کی عمر 30 سال سے کم ہے۔ یہ نوجوان روزگار کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبورکر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اشیائے خور و نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جب کہ حکومتی وزراء مسلسل مہنگائی کو مصنوعی قرار دے کر خود کو بری الذمہ سمجھتے ہیں جب کہ حقیقت کچھ اور ہے۔ مصنوعی مہنگائی بھی حکومت کی انتظامی معاملات پر گرفت نہ ہونے کی وجہ سے ہے، اس کے باوجود مصنوعی مہنگائی کا حصہ کم ہے حقیقت میں ہونے والی مہنگائی مجموعی طور پر اشیائے خور و نوش کی لاگت میں اضافے، ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کی وجہ سے قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اس اہم ترین معاملے کو مکمل طور پر نظر انداز کیا اور نتیجتاً سبزیاں، پھل، دالیں، دودھ، دہی، ادویات، چینی گھی، آٹا اور ادویات سمیت ہر چیز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، اب اگر حکومت بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرے گی تو عام آدمی کے لیے زندگی مزید مشکل ہو جائے گی۔
مہنگائی میں مسلسل اضافے کے ساتھ ساتھ حکومت عام آدمی کی آمدن کو بڑھانے کے لیے اقدامات کرنے میں بھی مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ اگر آمدن اور اخراجات میں توازن رہے، عام آدمی کی قوت خرید بہتر رہے معاملات قابو میں رہ سکتے ہیں لیکن قوت خرید میں اضافہ نہ ہونا مسلسل مہنگائی سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔
اس حقیقت اور اس نظام سے بھی حکومتی وزراء بے خبر نظر آتے ہیں چونکہ ان کے لیے آٹا، چینی، ادویات، سبزیاں، پھل اور گوشت خریدتے وقت کوئی مسئلہ نہیں ہوتا اس لیے حکومتی معاشی جادوگروں کے نزدیک بھی مہنگائی زیادہ اہم مسئلہ نہیں ہے۔ ایک طرف مہنگائی بڑھ رہی ہے تو دوسری جانب بیروزگاری کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
یہ صورتحال انتہائی خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے لہٰذا ارباب اختیار کو سنجیدگی سے ان مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ موجودہ سیاسی صورتحال ارباب اختیار کو زمینی حقائق سے غافل نہ بنائے ورنہ سیاسی تناؤ اور بڑھتی ہوئی کشمکش مشکلات کو دوچند کر دیگی، بلاشبہ روزگار کے مواقعے پیدا کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، نوجوان نسل کو روزگار کی فراہمی ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور نوجوان نسل کی صلاحیتوں کی ترقی اور ان کو بروئے کار لانا بہت ضروری ہے اوراس وقت نوجوانوں کو روزگار کے لیے صحیح مہارتیں حاصل کرنے میں مدد کرنا معاشی لحاظ سے معنی رکھتا ہے جب کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس وقت تعلیم، روزگار یا تربیت سے وابستہ نہیں ہے۔
لہٰذا تعلیم اور ملازمت کے مابین ایک متحرک رشتہ برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ ایک موثر حکمت عملی کے تحت نئی نسل کو بیروزگاری سے بچایا جا سکتا ہے، بس جرات اور خلوص نیت چاہیے۔کورونا وائرس کی دوسری لہر شدت اختیارکرتی جا رہی ہے، گزشتہ روز مزید 73 افراد انتقال کر گئے جس سے کل اموات 8446 ہو گئیں، 3901 نئے مریض سامنے آنے کے بعد مصدقہ کیسز کی تعداد 4 لاکھ 22 ہزار491 ہو گئی جن میں سے 3 لاکھ 58 ہزار53 صحتیاب ہو چکے ہیں جب کہ فعال کیسز بڑھ کر 55992 ہو گئے ہیں۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کر رہے ہیں ، کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے ۔ اسی ضمن میں ایک بات مشاہدے میں آئی ہے کہ ایس اوپیز پر عملدرآمد کے حوالے سے عوام اور کاروباری طبقے کو بینکوں میں لین دین کے معاملات میں خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، بینکوں کے باہر طویل قطاریں بھی نظر آ رہی ہیں ، یہ درست سہی کہ بینک میں کام کرنیوالے عملے کی حفاظت بھی ضروری ہے لیکن ایسی راہ بہتر تدبیر سے نکالی جانی چاہیے کہ کاروباری طبقہ باسانی بینک کی سہولتوں سے فائدہ اٹھاسکے اور کاروبار زندگی بھی متاثر نہ ہو۔
اس بار عوام تمام تر حکومتی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے ایس اوپیزپر قعطاً عمل کرتے نظر نہیں آرہے، لہٰذا حکومت پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سختی سے حفاظتی قوانین پر عملداری کو یقینی بنائے ۔