صوبائی موٹر وہیکل اتھارٹیز کو ایف بی آر سے منسلک کرنے کا فیصلہ
گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ودہولڈنگ ٹیکس کا ڈیٹا الیکٹرانیکلی حاصل کرنے میں مددملے گی.
ڈیٹامنتقلی سی ای اوپرال کی ذمے داری ہوگی،منصوبے پر عمل کیلیے منظوری لے لی گئی،ذرائع۔ فوٹو: فائل
ایف بی آر نے گاڑیاں رجسٹرڈ کرانے والے مالکان کا الیکٹرانیکلی ڈیٹا حاصل کرنے کیلیے چاروں صوبائی موٹر وہیکل رجسٹریشن اتھارٹیز اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹس کو ایف بی آر کے ڈیٹا بینک کے ساتھ منسلک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایف بی آر کے سینئر افسر نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ مذکورہ اقدام سے ایف بی آر کو ملک بھر میں گاڑیاں رجسٹرڈ کرانے والوں اور کٹوتی کیے جانے والے ود ہولڈنگ ٹیکس کا ڈیٹا دستیاب ہوسکے گا جس سے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے میں مدد ملے گی۔ مذکورہ افسر نے بتایا کہ صوبائی موٹر وہیکل رجسٹریشن اتھارٹیز اورایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹس سے الیکٹرانیکلی حاصل ہونے والے ڈیٹا کی ایف بی آرکو منتقلی یقینی بنانا سی ای او پرال کی ذمے داری ہوگی، منصوبے پر عملدرآمد کی مجاز اتھارٹیز سے باضابطہ طور پر منظوری حاصل کرلی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پرال کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ کے سینئر مینجرز جلد صوبائی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹس کے حکام سے ملاقات کریں گے جس میں منصوبے پر عملدرآمد کے انتظامات کو حتمی شکل دی جائیگی اور اس منصوبے پر عملدرآمد کی تاریخ پر اتفاق رائے کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اس بارے میں سی ای او پرال نے تمام فیلڈ فارمشنز کو متعلقہ صوبائی ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹس کے علاوہ اسلام آباد میں قائم ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ کے دورے کرنے کی ہدایت کردی اور کہا ہے کہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹس کے ساتھ مل کر موٹر وہیکل کی الیکٹرانیکلی کمیونیکیشن کے حوالے سے اسٹڈی کی جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی طرف سے صوبائی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹس کو مقامی سطح پر تیار ہونے والی گاڑیوں پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح کے بارے میں پہلے ہی آگاہ کیا جاچکا ہے جو موٹر وہیکل ٹیکس کے ساتھ اکھٹا کیا جائے گا، اس کے علاوہ پرانی گاڑیوں پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح کے بارے میں بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔
ایف بی آر کے سینئر افسر نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ مذکورہ اقدام سے ایف بی آر کو ملک بھر میں گاڑیاں رجسٹرڈ کرانے والوں اور کٹوتی کیے جانے والے ود ہولڈنگ ٹیکس کا ڈیٹا دستیاب ہوسکے گا جس سے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے میں مدد ملے گی۔ مذکورہ افسر نے بتایا کہ صوبائی موٹر وہیکل رجسٹریشن اتھارٹیز اورایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹس سے الیکٹرانیکلی حاصل ہونے والے ڈیٹا کی ایف بی آرکو منتقلی یقینی بنانا سی ای او پرال کی ذمے داری ہوگی، منصوبے پر عملدرآمد کی مجاز اتھارٹیز سے باضابطہ طور پر منظوری حاصل کرلی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پرال کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ کے سینئر مینجرز جلد صوبائی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹس کے حکام سے ملاقات کریں گے جس میں منصوبے پر عملدرآمد کے انتظامات کو حتمی شکل دی جائیگی اور اس منصوبے پر عملدرآمد کی تاریخ پر اتفاق رائے کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اس بارے میں سی ای او پرال نے تمام فیلڈ فارمشنز کو متعلقہ صوبائی ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹس کے علاوہ اسلام آباد میں قائم ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ کے دورے کرنے کی ہدایت کردی اور کہا ہے کہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹس کے ساتھ مل کر موٹر وہیکل کی الیکٹرانیکلی کمیونیکیشن کے حوالے سے اسٹڈی کی جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی طرف سے صوبائی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹس کو مقامی سطح پر تیار ہونے والی گاڑیوں پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح کے بارے میں پہلے ہی آگاہ کیا جاچکا ہے جو موٹر وہیکل ٹیکس کے ساتھ اکھٹا کیا جائے گا، اس کے علاوہ پرانی گاڑیوں پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح کے بارے میں بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔