ڈالر کی قدر 105 روپے سے بھی گرگئی فاریکس فرمز کا بینکوں پر سٹے بازی کا الزام
ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن کی کوشش ہے کہ تقویمی سال2013 کے اختتام تک ڈالر کی قدر کو104 روپے کی سطح تک لایا جائے
ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن کی کوشش ہے کہ تقویمی سال2013 کے اختتام تک ڈالر کی قدر کو104 روپے کی سطح تک لایا جائے،ملک بوستان۔ فوٹو:فائل
ISLAMABAD:
اوپن کرنسی مارکیٹ میں طویل دورانیے کے بعد امریکی ڈالر کی قدر بالآخر105 روپے سے بھی نیچے آگئی لیکن بینکوں کے عدم تعاون کی وجہ سے انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے ساتھ ڈالرنے مزاحمت کی کوشش برقرار رکھی۔
جمعرات کو اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی فروخت بڑھنے کے سبب روپے کے مقابل ڈالر کی قدر میں 55 پیسے کی کمی ہوئی جس کے نتیجے میں ڈالر کی قدرگھٹ کر104.95 روپے کی سطح پر آ گئی، اسی طرح انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر اتار چڑھائو کی زد میں رہی تاہم اختتام پر ڈالر کے انٹربینک ریٹ12 پیسے کی کمی سے105.38 روپے ہو گئے۔ اس ضمن میں ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک محمد بوستان نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ اوپن مارکیٹ کی سطح پر تو امریکی ڈالر کی قدر گرانے اور پاکستانی روپے کو مستحکم کرنے کی بھرپورکوششیں کی جارہی ہیں لیکن تجارتی بینک حکومت کے ساتھ عدم تعاون کی پالیسی پر گامزن ہیں جس کے سبب وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی کاوشیں متاثر ہورہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض بینک قومی مفاد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صرف اپنے منافع کے حجم کو بڑھانے کی غرض سے ڈالر میں سٹے بازی کررہے ہیں حالانکہ ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن کی کوشش ہے کہ تقویمی سال2013 کے اختتام تک ڈالر کی قدر کو104 روپے کی سطح تک لایا جائے لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے جب انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر کو105 روپے سے نیچے لایا جائے،وزارت خزانہ کی حکمت عملی کے بعد دو ہفتوں سے اوپن مارکیٹ میں عام کسٹمرز نے ڈالر کی فروخت بڑھا دی ہے لیکن انٹربینک کی سطح پر یہ تاثر ظاہر کیا جارہا ہے کہ ڈالر کی طلب رسد کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے جو غلط ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیرخزانہ سے مطالبہ کیا کہ وہ سٹے بازی کرنے والے بینکوں کیخلاف فوری ایکشن لیں۔
اوپن کرنسی مارکیٹ میں طویل دورانیے کے بعد امریکی ڈالر کی قدر بالآخر105 روپے سے بھی نیچے آگئی لیکن بینکوں کے عدم تعاون کی وجہ سے انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے ساتھ ڈالرنے مزاحمت کی کوشش برقرار رکھی۔
جمعرات کو اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی فروخت بڑھنے کے سبب روپے کے مقابل ڈالر کی قدر میں 55 پیسے کی کمی ہوئی جس کے نتیجے میں ڈالر کی قدرگھٹ کر104.95 روپے کی سطح پر آ گئی، اسی طرح انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر اتار چڑھائو کی زد میں رہی تاہم اختتام پر ڈالر کے انٹربینک ریٹ12 پیسے کی کمی سے105.38 روپے ہو گئے۔ اس ضمن میں ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک محمد بوستان نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ اوپن مارکیٹ کی سطح پر تو امریکی ڈالر کی قدر گرانے اور پاکستانی روپے کو مستحکم کرنے کی بھرپورکوششیں کی جارہی ہیں لیکن تجارتی بینک حکومت کے ساتھ عدم تعاون کی پالیسی پر گامزن ہیں جس کے سبب وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی کاوشیں متاثر ہورہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض بینک قومی مفاد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صرف اپنے منافع کے حجم کو بڑھانے کی غرض سے ڈالر میں سٹے بازی کررہے ہیں حالانکہ ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن کی کوشش ہے کہ تقویمی سال2013 کے اختتام تک ڈالر کی قدر کو104 روپے کی سطح تک لایا جائے لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے جب انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر کو105 روپے سے نیچے لایا جائے،وزارت خزانہ کی حکمت عملی کے بعد دو ہفتوں سے اوپن مارکیٹ میں عام کسٹمرز نے ڈالر کی فروخت بڑھا دی ہے لیکن انٹربینک کی سطح پر یہ تاثر ظاہر کیا جارہا ہے کہ ڈالر کی طلب رسد کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے جو غلط ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیرخزانہ سے مطالبہ کیا کہ وہ سٹے بازی کرنے والے بینکوں کیخلاف فوری ایکشن لیں۔