گرتی ہوئی دیوار کو آخری دھکا دینےکیلیے پاکستان تیار
سری لنکن حوصلےپست ہوگئے،پانچواں ون ڈےآج کھیلاجائیگا،آفریدی کی واپسی کے بعد انور علی یا عبدالرحمان کی شمولیت کا امکان
حالیہ کارکردگی کے مدنظر پاکستان ہی سیریز میں جیت کا حقدار تھا۔سری لنکن کپتان۔فوٹو:اے ایف پی/فائل
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ون ڈے سیریز کا پانچواں اور آخری میچ جمعے کو ابوظبی کے شیخ زید اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔
سیریز گنوانے سے مہمان ٹیم کے حوصلے پست ہو چکے،گرتی ہوئی دیوار کو آخری دھکا دینے کیلیے گرین شرٹس مکمل تیار ہیں، ٹرافی جیتنے کے باوجود نگاہیں آخری معرکہ سر کرنے پر مرکوز ہیں، شاہد آفریدی کی واپسی کے بعد انور علی یا عبدالرحمان کی شمولیت کا امکان روشن ہوگیا، حارث سہیل کو موقع پانے کیلیے کسی سینئر کے آرام کا انتظارہے، کپتان مصباح الحق نے کہاکہ ٹیم کے حوصلے کافی بلند اور سیریز کا اختتام کامیابی کے ساتھ کرنے کیلیے بے چین ہیں، دوسری جانب سری لنکا کے پاس ٹیسٹ سیریز کے آغاز سے قبل اعتماد بحال کرنے کا یہ آخری موقع ہے، ٹیم میں ایک بار پھر تبدیلوں کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا، کپتان میتھیوز نے کہا کہ حالیہ کارکردگی کے مدنظر پاکستان ہی سیریز میں جیت کا حقدار تھا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اور سری لنکا میں سیریز آغاز میں کانٹے دار دکھائی دے رہی تھی مگر عمرگل کی واپسی سے یکطرفہ ہوکر رہ گئی، مہمان ٹیم نے تمام شعبوں میں اپنی کوتاہیوں سے نتائج کو ہاتھ سے پھسلنے کا موقع فراہم کیا، اس وجہ سے تیسرے میچ میں 113 رنز کی شکست کے بعد چوتھے میں 8 وکٹ سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ گذشتہ مقابلے میں سری لنکن اٹیک اعتماد سے عاری دکھائی دیا، سیریز میں دوسری دوسری بار لسیتھ مالنگا ایک بھی وکٹ نہیں لے پائے جبکہ نوان کولاسیکرا کی بھی موجودگی کا احساس دلانے میں ناکام رہے، ٹیم کو رنگانا ہیراتھ کی کمی شدت سے محسوس ہوتی رہی جبکہ ان کے متبادل اجنتھا مینڈس کو تاحال میدان میں نہیں اتارا گیا۔ اب تک چاروں میچز میں پاکستان کی جانب سے سنچری اسکور کی گئی اور تھری فیگر شراکتیں بھی بنیں جبکہ سری لنکا ایک بار بھی ایسا نہیں کر پایا، دوسرے ون ڈے میں بھی فتح مشترکہ حصہ ڈالنے کی وجہ سے ممکن ہوئی تھی، ایسے طریقوں سے کامیابی ون ڈے کرکٹ میں کم ہی دکھائی دیتی ہے، پاکستان کی جانب سے حفیظ اب تک سیریز کے چار میچز میں تین سنچریاں اسکور کرچکے، ان کی سیریز میں ایوریج 203.50 ہے۔
پاکستان نے اب تک صرف ایک تبدیلی کی جب آئوٹ آف فارم سہیل تنویر کی جگہ تیسرے میچ میں عمرگل کو کھلایا اور ان کی آمد کے بعد سیریز کا نقشہ ہی پلٹ گیا، اب شاہد آفریدی ذاتی وجوہات پر وطن واپس لوٹ چکے جس سے انور علی یا عبدالرحمان کے میدان میں اترنے کا امکان ہوگیا، حارث سہیل بھی موقع کے منتظر ہیں،اگر مصباح کسی اورکو آرام دینے کا فیصلہ کرتے ہیں تو انھیں بھی چانس مل سکتا ہے، مگر اس کا امکان کم ہی ہے۔ کپتان نے کہاکہ ہم کسی صورت سہل پسندی کا مظاہرہ نہیں کریں گے،آخری ون ڈے بھی جیت کر حریف سائیڈ پر ٹیسٹ سیریز سے قبل دبائو کا سلسلہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
حفیظ نے فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا، ادھر سری لنکا کی جانب سے ایشان پریانجان کو برقرار رکھا جائے گا جبکہ ویتھانگے کی جگہ کو بھی خطرہ نہیں ہے، البتہ سیکوگے پرسنا سورنگا لکمل یا پھر کولاسیکرا میں سے کسی کی جگہ کھیل سکتے ہیں۔ سیریز میں اب تک مصباح الحق، صہیب مقصود اور احمد شہزاد بھی 50 سے زائد کی اوسط سے رنز بنا چکے،سری لنکا کی جانب سے ایک سے زائد اننگز کھیلنے والوں میں سب سے بہتر 40 کی اوسط میتھیوز کی ہے،انھوں نے کہاکہ حالیہ کارکردگی کے مدنظر پاکستان ہی سیریز میں جیت کا حقدار تھا،ہمیں اس کا مقابلہ کرنے کیلیے تمام شعبوں میں بہتری درکار ہے۔
سیریز گنوانے سے مہمان ٹیم کے حوصلے پست ہو چکے،گرتی ہوئی دیوار کو آخری دھکا دینے کیلیے گرین شرٹس مکمل تیار ہیں، ٹرافی جیتنے کے باوجود نگاہیں آخری معرکہ سر کرنے پر مرکوز ہیں، شاہد آفریدی کی واپسی کے بعد انور علی یا عبدالرحمان کی شمولیت کا امکان روشن ہوگیا، حارث سہیل کو موقع پانے کیلیے کسی سینئر کے آرام کا انتظارہے، کپتان مصباح الحق نے کہاکہ ٹیم کے حوصلے کافی بلند اور سیریز کا اختتام کامیابی کے ساتھ کرنے کیلیے بے چین ہیں، دوسری جانب سری لنکا کے پاس ٹیسٹ سیریز کے آغاز سے قبل اعتماد بحال کرنے کا یہ آخری موقع ہے، ٹیم میں ایک بار پھر تبدیلوں کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا، کپتان میتھیوز نے کہا کہ حالیہ کارکردگی کے مدنظر پاکستان ہی سیریز میں جیت کا حقدار تھا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اور سری لنکا میں سیریز آغاز میں کانٹے دار دکھائی دے رہی تھی مگر عمرگل کی واپسی سے یکطرفہ ہوکر رہ گئی، مہمان ٹیم نے تمام شعبوں میں اپنی کوتاہیوں سے نتائج کو ہاتھ سے پھسلنے کا موقع فراہم کیا، اس وجہ سے تیسرے میچ میں 113 رنز کی شکست کے بعد چوتھے میں 8 وکٹ سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ گذشتہ مقابلے میں سری لنکن اٹیک اعتماد سے عاری دکھائی دیا، سیریز میں دوسری دوسری بار لسیتھ مالنگا ایک بھی وکٹ نہیں لے پائے جبکہ نوان کولاسیکرا کی بھی موجودگی کا احساس دلانے میں ناکام رہے، ٹیم کو رنگانا ہیراتھ کی کمی شدت سے محسوس ہوتی رہی جبکہ ان کے متبادل اجنتھا مینڈس کو تاحال میدان میں نہیں اتارا گیا۔ اب تک چاروں میچز میں پاکستان کی جانب سے سنچری اسکور کی گئی اور تھری فیگر شراکتیں بھی بنیں جبکہ سری لنکا ایک بار بھی ایسا نہیں کر پایا، دوسرے ون ڈے میں بھی فتح مشترکہ حصہ ڈالنے کی وجہ سے ممکن ہوئی تھی، ایسے طریقوں سے کامیابی ون ڈے کرکٹ میں کم ہی دکھائی دیتی ہے، پاکستان کی جانب سے حفیظ اب تک سیریز کے چار میچز میں تین سنچریاں اسکور کرچکے، ان کی سیریز میں ایوریج 203.50 ہے۔
پاکستان نے اب تک صرف ایک تبدیلی کی جب آئوٹ آف فارم سہیل تنویر کی جگہ تیسرے میچ میں عمرگل کو کھلایا اور ان کی آمد کے بعد سیریز کا نقشہ ہی پلٹ گیا، اب شاہد آفریدی ذاتی وجوہات پر وطن واپس لوٹ چکے جس سے انور علی یا عبدالرحمان کے میدان میں اترنے کا امکان ہوگیا، حارث سہیل بھی موقع کے منتظر ہیں،اگر مصباح کسی اورکو آرام دینے کا فیصلہ کرتے ہیں تو انھیں بھی چانس مل سکتا ہے، مگر اس کا امکان کم ہی ہے۔ کپتان نے کہاکہ ہم کسی صورت سہل پسندی کا مظاہرہ نہیں کریں گے،آخری ون ڈے بھی جیت کر حریف سائیڈ پر ٹیسٹ سیریز سے قبل دبائو کا سلسلہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
حفیظ نے فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا، ادھر سری لنکا کی جانب سے ایشان پریانجان کو برقرار رکھا جائے گا جبکہ ویتھانگے کی جگہ کو بھی خطرہ نہیں ہے، البتہ سیکوگے پرسنا سورنگا لکمل یا پھر کولاسیکرا میں سے کسی کی جگہ کھیل سکتے ہیں۔ سیریز میں اب تک مصباح الحق، صہیب مقصود اور احمد شہزاد بھی 50 سے زائد کی اوسط سے رنز بنا چکے،سری لنکا کی جانب سے ایک سے زائد اننگز کھیلنے والوں میں سب سے بہتر 40 کی اوسط میتھیوز کی ہے،انھوں نے کہاکہ حالیہ کارکردگی کے مدنظر پاکستان ہی سیریز میں جیت کا حقدار تھا،ہمیں اس کا مقابلہ کرنے کیلیے تمام شعبوں میں بہتری درکار ہے۔