عالمی چیلنجز اور صائب حل
مختلف ملکوں کی جانب سے ویکسین لانے کی منظوری اور استعمال و فراہمی کے دل خوش کن اعلانات ہورہے ہیں۔
مختلف ملکوں کی جانب سے ویکسین لانے کی منظوری اور استعمال و فراہمی کے دل خوش کن اعلانات ہورہے ہیں۔ (فوٹو : فائل)
کورونا کے عالمی عفریت کے پیش نظر دنیا میں ویکسین کی آمد بہارکا ایک جھونکا ثابت ہوئی ہے، اس کا خیرمقدم جاری ہے۔
مختلف ملکوں کی جانب سے ویکسین لانے کی منظوری اور استعمال و فراہمی کے دل خوش کن اعلانات ہورہے ہیں، جس سے یہ نوید مل رہی ہے کہ سائنس اور ریسرچ کے شعبے میں کورونا وائرس کی پسپائی اب یقینی سمجھی گئی ہے ، تاہم اب بھی دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا سے اموات کی تعداد15لاکھ 51ہزار 120تک پہنچ گئی، مختلف ملکوں میں مہلک وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 6کروڑ 79 لاکھ 16 ہزار341 ہو گئی ہے،4 کروڑ 37 لاکھ 24 ہزار 96 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں۔
برطانیہ نے البتہ ویکسین کے استعمال میں بریک تھروکیا ہے، وہیں سے عوام کوکورونا ویکسین کی فراہمی کا آغا ز ہوگیا ہے،اس مناسبت سے برطانیہ میں منگل کے دن کو وی ڈے کہا جا رہا ہے،کورونا وائرس کی پہلی ویکسین شمالی آئرلینڈ کی 90 سالہ خاتون مارگریٹ کینان کو لگائی گئی ہے، پہلے مرحلے میں 80 افراد اور طبی عملے کے ارکان کو یہ ویکسین فراہم کی جائے گی، مگر امریکا میں کورونا ویکسین تیارکرنے والی دو بڑی کمپنیوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پرویکسین کانفرنس میں شرکت کا بائیکاٹ کردیا۔
وجہ اس کی سیاسی بتائی جاتی ہے، جرمنی میں ویکسینیشن کا عمل جنوری کے ابتدائی دنوں میں شروع کیا جائے گا جب کہ فلسطینی پارلیمان کے ڈپٹی اسپیکر ڈاکٹر احمد بحرکی اہلیہ کورونا کا شکار ہونے کے بعد انتقال کرگئیں، امریکا میں متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ53لاکھ سے بڑھ گئی جب کہ 2لاکھ90ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں،32981 نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد بھارت میں متاثرین کی تعداد97 لاکھ ہو گئی، مزید391اموات سے مجموعی طور پر 140994افراد ہلاک ہوچکے ہیں،برازیل میں متاثرہ افراد کی تعداد66 لاکھ 28ہزار ہے جب کہ ایک لاکھ77ہزار 3 سو افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں۔
کورونا سے نمٹنے کے سلسلہ میں ریسرچ کو کامیابی کا تسلسل قرار دیا جاسکتا ہے ۔ چین، برطانیہ، جاپان،روس ،بھارت، بیلجیم اور دیگر ممالک کی ویکسین آیندہ چند ماہ میں مارکیٹ میں پہنچ جائیں گی اور وہ بے بسی کا عالم اب شاید باقی نہیں رہے گا، جب کورونا سے متاثرہ ملکوں میں کہرام برپا تھا۔ ماہر ڈاکٹر ، سائنسدان اور موجد پریشان تھے کہ کورونا وبا کے باعث سائنس اور ٹیکنالوجی کے زریں اور برق رفتار عہد میں لاکھوںمریض کورونا کی دوا سے محروم تھے۔ مشرقی لوگ ٹوٹکوں پر زندہ رہے،حکمت اور طب مشرقی کی بوٹیاں اور ان کے سفوف ہزاروں روپے میں فروخت ہوئے۔
ماسک،سماجی فاصلہ اور ہجوم سے گریز کرنے کی ہدایات اور حکومتی پابندیوں نے پاکستان میں ان ممالک کی نسبت حیرت ناک نتائج دکھائے جہاں حکومت نے مکمل لاک ڈاؤن پر عملدرآمد نہیں کیا مگر کورونا وائرس نے دنیا کی معیشت ،سیاست اور انسانی صحت سسٹم کے کھوکھلے پن کو کھل کر بے نقاب کیا، اسٹاک مارکیٹس کا براحال ہوا، لاکھوں مزدور بیروزگار ہوئے، مستحکم اقتصادی نظام بکھرکر رہ گئے، اقتصادی، سیاسی اور سماجی نظام کی شکست وریخت کے ساتھ ہی تعلیم و صحت کے انفراسٹرکچرکو شدید نقصانات کا سامنا ہوا، پاکستان سمیت خطے کے ماحولیاتی اور موسمیاتی یبدیلیوں اور غیر معمولی فضائی آلودگی کے مسائل بھی حکمرانی کے گلوبل نیٹ ورک کے لیے لمحہ فکریہ بن گئی، کوئی آج نہیں توکل کورونا کے عالمگیر اثرات ونتائج پر سنجیدگی سے ایک واٹ پیپر شائع کرکے دنیا کو ششدر کردے گی۔
پاکستان میں ویکسین کے تیسرے مرحلے کی آزمائش ہورہی ہے۔ملک کی طبی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب یہاں کسی ویکسین کی آزمایش کی جا رہی ہے۔امید کی جا رہی ہے کہ کامیابی کی صورت میں یہ ویکسین بڑی مقدار میں پاکستان کو بھی مل سکے گی۔دستیاب معلومات کے مطابق پاکستان کے پانچ اسپتالوں میں دس ہزار رضاکاروں کو یہ ویکسین لگانے کا منصوبہ تھا۔ دنیا بھرمیں مجموعی طور پر چالیس ہزار رضا کاروں کو اس آزمایشی مرحلے میں شامل کیا گیا ہے۔
دراصل تیسرے تک کسی ویکسین کے پہنچنے کا مطلب ہے کہ وہ کلینیکل آزمایش اور انسانوں پر آزمائش کے ابتدائی مراحل میں کام یاب ہو چکی ہے۔ یعنی ویکسین اپنے محفوظ ہونیکا عمل دکھا چکی ہے اور بتاتی ہے کہ وہ انسانی جسم میں کام کر سکتی ہے۔ ابتدا میں ویکسین کو جانوروں پر آزمایا جاتا ہے، پھرکم تعداد میں انسانوں پر تجربہ کیا جاتا ہے۔اس ویکسین کے پہلے دو مراحل، یعنی فیز ون اور فیز ٹو کے تجربات چین میں ہوئے تھے۔ماہرین کہتے ہیں کہ اس میں نتائج کے مطابق ایک فی صد مضر اثرات یا سائیڈ افیکٹس دیکھنے کو ملے، لیکن اس سلسلے میں طویل عرصے تک انتظار نہیں کیا گیا۔
کیوں کہ اسے بنانے والے جلد بازار میں لے کر آنا چاہتے ہیں۔تیسرے مرحلے میں یہ دیکھا گیا کہ ''اے ڈی فائیو نوول کورونا وائرس ویکسین''اگر زیادہ آبادی کو لگایا جائے توکیا ہو گا۔ دراصل اس سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ویکسین ہر طرح کے انسانوں کے لیے کس قدر محفوظ اور موثر ہے۔دوسری جانب ایک تحقیق سامنے آئی ہے، جس کے مطابق کورونا وائرس، موبائل اسکرین اور کرنسی نوٹ پر 28 دنوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔
آسٹریلوی محققین کا کہنا ہے کہ کووڈ 19 کا سبب بننے والا کورونا وائرس کرنسی نوٹ، موبائل فون کے اسکرین، شیشہ اور اسٹین لیس اسٹیل کی سطح پر فلو کے وائرس سے کہیں زیادہ، 28 دنوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔آسٹریلیا کی نیشنل سائنس ایجنسی (سی ایس آئی آر او) کے سائنس دانوں کی ایک تازہ تحقیق کے مطابق 20 ڈگری سیلسیئس (68 ڈگری فارن ہائٹ) تک کے درجہ حرات والے ماحول میں کورونا کی بیماری کا سبب بننے والا SARS-COV-2 وائرس 28 دنوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔اس تحقیق کی سربراہی کرنے والے ڈاکٹر شین ریڈل کا کہنا ہے۔
''اس تحقیق سے ہاتھوں کو دھونے اور جہاں ممکن ہو اس جگہ کو سینیٹائز کرنے اور وائرس کے ربط میں آنے والے سطحوں کو صاف کرنے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔'' ان حقائق اور تحقیق کی روشنی میں یہ بات ثابت ہورہی ہے کہ ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں، لہٰذا احتیاط کا دامن عوام چھوڑنے سے پرہیزکریں۔
اگلے روز امریکا کے عالمی شرت یافتہ اسکالر،دانشور اور مفکر نوم چومسکی نے پاکستان کی ایک نجی جامعہ کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے دنیا میں تبدیلیوں سیاسی، اقتصادی ، ایٹمی ،مذہبی اور غیر مرئی انقلابات کے حوالہ سے چونکا دیا۔ ان کا لیکچر چشم کشا تھا، وہ امریکی جمہوریت کے سفاک نقاد اور دنیا بھرکے سامراجی اور آمرانہ نظاموں کی تحلیل نفسی کرتے اور ان کابے رحمی سے پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔گزشتہ چار عشروں کی جمہوریت کو انحطاط پذیر قراردیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نسل انسانی کو جن سوالات کا سامنا ہے۔
وہ اس سے پہلے کسی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے، یہ انسانی تاریخ کا عجیب عہد ہے، ان کے لیکچرکا موضوع تھا '' وہ گولی جو چکمہ دے گئی یا اسے دیر ہوگئی''۔ نوم چومسکی نے کورونا سے نمٹنے کی حکمت عملی میں جنوبی کوریا کی تعریف کی، انھوں نے خبردارکیا کہ کورونا کی دنیا کو بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑیگی۔ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سائنس کا رشتہ ٹوٹتا جارہا ہے ، تاہم انھوں نے زور دیا کہ اسے ملک کے مستقبل کی خاطرعلمی سرگرمیوں اور عالمی انداز نظر میں شامل کیا جائے، انھوں نے انتہا پسندی کو بھی ملک کے لیے خطرہ قراردیا۔
نوم چومسکی نے امریکا اور چین میں چپقلش کو کورونا سے نمٹنے اور ٹیسٹنگ و ویکسین کے ضمن میں امریکا پر تنقید کی اور کہا کہ تنازع نہ ہوتا تو چین کی ویکسین پہلے آجاتی، انھوں نے مختلف النوع چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں جوہری جنگ کا خطرہ ہے،اسی طرح ماحولیات بھی ایک سنگین مسئلہ ہے، انھوں نے انتباہ کیا کہ اگر صوتحال کا ادراک نہ کیاگیا تو ماحولیاتی تباہ کاریاں جنونی ایشیا کے لیے ہولناک ہوجائیں گی۔
چومسکی نے امریکی انتخابات کے نتائج ، ایٹمی جنگ کے تناؤ،جمہوریت کو درپیش خطرات، ماحولیاتی تباہ کاریوں کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بیسویں صدی انسانی حقوق کی صورتحال ابتر رہی اور آج بقاء ایک کچے دھاگہ کی طرح ہے، انھوں نے کہا کہ ایٹمی جنگ چھڑی تو اس میں نہ صرف ملوث ملک بلکہ نوع انسانی کا ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ بنیادی سماجی ڈھانچہ جس پرکہ جمہوریت ایستادہ ہوتی ہے،اس کی بنیادیں کمزورہورہی ہیں، ملکوں کے معاشی نظام کا حوالہ دیتے ہوئے، انھوں نے کہا جب ارتکاز زر بے حساب ہوجائے تو اس سے حکومتی نظام متاثر ہوجاتا ہے، انھوں نے کہا کہ امریکا میں دولت مٹھی بھر خاندانوں میں جمع ہے اور یہی گروہ امریکا کی بیس فیصد دولت پر تصرف رکھتا ہے۔
ان کا کہنا کہ ماحولیات، جوہری اسلحہ، جمہوریت کی بربادی جیسے مسائل جو آج ہمیں درپیش ہیں، ان کا حل موجود ہے تاہم انھوں نے کہا کہ مذہبی عناصر اور شخصی حکمران کبھی ان مسائل کو حل نہیں کریں گی،اس کے لیے عوام کو بیدار کرنے ،معلومات سے فیض یاب ہونے کے لیے ایک قابل عمل اور متحرک جمہوری نظام کی ضرورت ہے، نوم چومسکی نے ایشیا،آسٹریلیا، افریقہ اور جنوبی افریقہ کی جامعات کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے عقل پسندی پر مبنی تعلیمی نظام کو عالمی حقائق کی روشنی میں محفوظ کریں۔
نوم چومسکی نے بلا شبہ صائب گفتگوکی ہے اورعالمی معاملات پر ایک بلیغ اشارہ دیا ہے، انھوں نے پاکستان میں سائنس کی سرگرمیوں سے ہٹنے driftingکا لفظ استعمال کیا ، ان کا کہنا درحقیقت مسلم فلسفیوں، سائنسدانوں اور سائنسی فکر رکھنے والے اہل نظرگروہوں سے تھا، جن میں ابن خلدون،ابن رشد، لبیرونی، ابن سینا، کندی، رازی ،غزالی اور فارابی جیسے جید علما اورمحققین شامل تھے، یہ ہستیاں عالم اسلام کی سائنسی فکرکے ہراول دستے کی قافلہ سالار تھیں، انھوں نے تاریک براعظوں میں علم وتحقیق کی شمیں روشن کیں۔
مختلف ملکوں کی جانب سے ویکسین لانے کی منظوری اور استعمال و فراہمی کے دل خوش کن اعلانات ہورہے ہیں، جس سے یہ نوید مل رہی ہے کہ سائنس اور ریسرچ کے شعبے میں کورونا وائرس کی پسپائی اب یقینی سمجھی گئی ہے ، تاہم اب بھی دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا سے اموات کی تعداد15لاکھ 51ہزار 120تک پہنچ گئی، مختلف ملکوں میں مہلک وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 6کروڑ 79 لاکھ 16 ہزار341 ہو گئی ہے،4 کروڑ 37 لاکھ 24 ہزار 96 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں۔
برطانیہ نے البتہ ویکسین کے استعمال میں بریک تھروکیا ہے، وہیں سے عوام کوکورونا ویکسین کی فراہمی کا آغا ز ہوگیا ہے،اس مناسبت سے برطانیہ میں منگل کے دن کو وی ڈے کہا جا رہا ہے،کورونا وائرس کی پہلی ویکسین شمالی آئرلینڈ کی 90 سالہ خاتون مارگریٹ کینان کو لگائی گئی ہے، پہلے مرحلے میں 80 افراد اور طبی عملے کے ارکان کو یہ ویکسین فراہم کی جائے گی، مگر امریکا میں کورونا ویکسین تیارکرنے والی دو بڑی کمپنیوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پرویکسین کانفرنس میں شرکت کا بائیکاٹ کردیا۔
وجہ اس کی سیاسی بتائی جاتی ہے، جرمنی میں ویکسینیشن کا عمل جنوری کے ابتدائی دنوں میں شروع کیا جائے گا جب کہ فلسطینی پارلیمان کے ڈپٹی اسپیکر ڈاکٹر احمد بحرکی اہلیہ کورونا کا شکار ہونے کے بعد انتقال کرگئیں، امریکا میں متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ53لاکھ سے بڑھ گئی جب کہ 2لاکھ90ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں،32981 نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد بھارت میں متاثرین کی تعداد97 لاکھ ہو گئی، مزید391اموات سے مجموعی طور پر 140994افراد ہلاک ہوچکے ہیں،برازیل میں متاثرہ افراد کی تعداد66 لاکھ 28ہزار ہے جب کہ ایک لاکھ77ہزار 3 سو افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں۔
کورونا سے نمٹنے کے سلسلہ میں ریسرچ کو کامیابی کا تسلسل قرار دیا جاسکتا ہے ۔ چین، برطانیہ، جاپان،روس ،بھارت، بیلجیم اور دیگر ممالک کی ویکسین آیندہ چند ماہ میں مارکیٹ میں پہنچ جائیں گی اور وہ بے بسی کا عالم اب شاید باقی نہیں رہے گا، جب کورونا سے متاثرہ ملکوں میں کہرام برپا تھا۔ ماہر ڈاکٹر ، سائنسدان اور موجد پریشان تھے کہ کورونا وبا کے باعث سائنس اور ٹیکنالوجی کے زریں اور برق رفتار عہد میں لاکھوںمریض کورونا کی دوا سے محروم تھے۔ مشرقی لوگ ٹوٹکوں پر زندہ رہے،حکمت اور طب مشرقی کی بوٹیاں اور ان کے سفوف ہزاروں روپے میں فروخت ہوئے۔
ماسک،سماجی فاصلہ اور ہجوم سے گریز کرنے کی ہدایات اور حکومتی پابندیوں نے پاکستان میں ان ممالک کی نسبت حیرت ناک نتائج دکھائے جہاں حکومت نے مکمل لاک ڈاؤن پر عملدرآمد نہیں کیا مگر کورونا وائرس نے دنیا کی معیشت ،سیاست اور انسانی صحت سسٹم کے کھوکھلے پن کو کھل کر بے نقاب کیا، اسٹاک مارکیٹس کا براحال ہوا، لاکھوں مزدور بیروزگار ہوئے، مستحکم اقتصادی نظام بکھرکر رہ گئے، اقتصادی، سیاسی اور سماجی نظام کی شکست وریخت کے ساتھ ہی تعلیم و صحت کے انفراسٹرکچرکو شدید نقصانات کا سامنا ہوا، پاکستان سمیت خطے کے ماحولیاتی اور موسمیاتی یبدیلیوں اور غیر معمولی فضائی آلودگی کے مسائل بھی حکمرانی کے گلوبل نیٹ ورک کے لیے لمحہ فکریہ بن گئی، کوئی آج نہیں توکل کورونا کے عالمگیر اثرات ونتائج پر سنجیدگی سے ایک واٹ پیپر شائع کرکے دنیا کو ششدر کردے گی۔
پاکستان میں ویکسین کے تیسرے مرحلے کی آزمائش ہورہی ہے۔ملک کی طبی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب یہاں کسی ویکسین کی آزمایش کی جا رہی ہے۔امید کی جا رہی ہے کہ کامیابی کی صورت میں یہ ویکسین بڑی مقدار میں پاکستان کو بھی مل سکے گی۔دستیاب معلومات کے مطابق پاکستان کے پانچ اسپتالوں میں دس ہزار رضاکاروں کو یہ ویکسین لگانے کا منصوبہ تھا۔ دنیا بھرمیں مجموعی طور پر چالیس ہزار رضا کاروں کو اس آزمایشی مرحلے میں شامل کیا گیا ہے۔
دراصل تیسرے تک کسی ویکسین کے پہنچنے کا مطلب ہے کہ وہ کلینیکل آزمایش اور انسانوں پر آزمائش کے ابتدائی مراحل میں کام یاب ہو چکی ہے۔ یعنی ویکسین اپنے محفوظ ہونیکا عمل دکھا چکی ہے اور بتاتی ہے کہ وہ انسانی جسم میں کام کر سکتی ہے۔ ابتدا میں ویکسین کو جانوروں پر آزمایا جاتا ہے، پھرکم تعداد میں انسانوں پر تجربہ کیا جاتا ہے۔اس ویکسین کے پہلے دو مراحل، یعنی فیز ون اور فیز ٹو کے تجربات چین میں ہوئے تھے۔ماہرین کہتے ہیں کہ اس میں نتائج کے مطابق ایک فی صد مضر اثرات یا سائیڈ افیکٹس دیکھنے کو ملے، لیکن اس سلسلے میں طویل عرصے تک انتظار نہیں کیا گیا۔
کیوں کہ اسے بنانے والے جلد بازار میں لے کر آنا چاہتے ہیں۔تیسرے مرحلے میں یہ دیکھا گیا کہ ''اے ڈی فائیو نوول کورونا وائرس ویکسین''اگر زیادہ آبادی کو لگایا جائے توکیا ہو گا۔ دراصل اس سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ویکسین ہر طرح کے انسانوں کے لیے کس قدر محفوظ اور موثر ہے۔دوسری جانب ایک تحقیق سامنے آئی ہے، جس کے مطابق کورونا وائرس، موبائل اسکرین اور کرنسی نوٹ پر 28 دنوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔
آسٹریلوی محققین کا کہنا ہے کہ کووڈ 19 کا سبب بننے والا کورونا وائرس کرنسی نوٹ، موبائل فون کے اسکرین، شیشہ اور اسٹین لیس اسٹیل کی سطح پر فلو کے وائرس سے کہیں زیادہ، 28 دنوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔آسٹریلیا کی نیشنل سائنس ایجنسی (سی ایس آئی آر او) کے سائنس دانوں کی ایک تازہ تحقیق کے مطابق 20 ڈگری سیلسیئس (68 ڈگری فارن ہائٹ) تک کے درجہ حرات والے ماحول میں کورونا کی بیماری کا سبب بننے والا SARS-COV-2 وائرس 28 دنوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔اس تحقیق کی سربراہی کرنے والے ڈاکٹر شین ریڈل کا کہنا ہے۔
''اس تحقیق سے ہاتھوں کو دھونے اور جہاں ممکن ہو اس جگہ کو سینیٹائز کرنے اور وائرس کے ربط میں آنے والے سطحوں کو صاف کرنے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔'' ان حقائق اور تحقیق کی روشنی میں یہ بات ثابت ہورہی ہے کہ ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں، لہٰذا احتیاط کا دامن عوام چھوڑنے سے پرہیزکریں۔
اگلے روز امریکا کے عالمی شرت یافتہ اسکالر،دانشور اور مفکر نوم چومسکی نے پاکستان کی ایک نجی جامعہ کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے دنیا میں تبدیلیوں سیاسی، اقتصادی ، ایٹمی ،مذہبی اور غیر مرئی انقلابات کے حوالہ سے چونکا دیا۔ ان کا لیکچر چشم کشا تھا، وہ امریکی جمہوریت کے سفاک نقاد اور دنیا بھرکے سامراجی اور آمرانہ نظاموں کی تحلیل نفسی کرتے اور ان کابے رحمی سے پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔گزشتہ چار عشروں کی جمہوریت کو انحطاط پذیر قراردیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نسل انسانی کو جن سوالات کا سامنا ہے۔
وہ اس سے پہلے کسی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے، یہ انسانی تاریخ کا عجیب عہد ہے، ان کے لیکچرکا موضوع تھا '' وہ گولی جو چکمہ دے گئی یا اسے دیر ہوگئی''۔ نوم چومسکی نے کورونا سے نمٹنے کی حکمت عملی میں جنوبی کوریا کی تعریف کی، انھوں نے خبردارکیا کہ کورونا کی دنیا کو بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑیگی۔ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سائنس کا رشتہ ٹوٹتا جارہا ہے ، تاہم انھوں نے زور دیا کہ اسے ملک کے مستقبل کی خاطرعلمی سرگرمیوں اور عالمی انداز نظر میں شامل کیا جائے، انھوں نے انتہا پسندی کو بھی ملک کے لیے خطرہ قراردیا۔
نوم چومسکی نے امریکا اور چین میں چپقلش کو کورونا سے نمٹنے اور ٹیسٹنگ و ویکسین کے ضمن میں امریکا پر تنقید کی اور کہا کہ تنازع نہ ہوتا تو چین کی ویکسین پہلے آجاتی، انھوں نے مختلف النوع چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں جوہری جنگ کا خطرہ ہے،اسی طرح ماحولیات بھی ایک سنگین مسئلہ ہے، انھوں نے انتباہ کیا کہ اگر صوتحال کا ادراک نہ کیاگیا تو ماحولیاتی تباہ کاریاں جنونی ایشیا کے لیے ہولناک ہوجائیں گی۔
چومسکی نے امریکی انتخابات کے نتائج ، ایٹمی جنگ کے تناؤ،جمہوریت کو درپیش خطرات، ماحولیاتی تباہ کاریوں کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بیسویں صدی انسانی حقوق کی صورتحال ابتر رہی اور آج بقاء ایک کچے دھاگہ کی طرح ہے، انھوں نے کہا کہ ایٹمی جنگ چھڑی تو اس میں نہ صرف ملوث ملک بلکہ نوع انسانی کا ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ بنیادی سماجی ڈھانچہ جس پرکہ جمہوریت ایستادہ ہوتی ہے،اس کی بنیادیں کمزورہورہی ہیں، ملکوں کے معاشی نظام کا حوالہ دیتے ہوئے، انھوں نے کہا جب ارتکاز زر بے حساب ہوجائے تو اس سے حکومتی نظام متاثر ہوجاتا ہے، انھوں نے کہا کہ امریکا میں دولت مٹھی بھر خاندانوں میں جمع ہے اور یہی گروہ امریکا کی بیس فیصد دولت پر تصرف رکھتا ہے۔
ان کا کہنا کہ ماحولیات، جوہری اسلحہ، جمہوریت کی بربادی جیسے مسائل جو آج ہمیں درپیش ہیں، ان کا حل موجود ہے تاہم انھوں نے کہا کہ مذہبی عناصر اور شخصی حکمران کبھی ان مسائل کو حل نہیں کریں گی،اس کے لیے عوام کو بیدار کرنے ،معلومات سے فیض یاب ہونے کے لیے ایک قابل عمل اور متحرک جمہوری نظام کی ضرورت ہے، نوم چومسکی نے ایشیا،آسٹریلیا، افریقہ اور جنوبی افریقہ کی جامعات کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے عقل پسندی پر مبنی تعلیمی نظام کو عالمی حقائق کی روشنی میں محفوظ کریں۔
نوم چومسکی نے بلا شبہ صائب گفتگوکی ہے اورعالمی معاملات پر ایک بلیغ اشارہ دیا ہے، انھوں نے پاکستان میں سائنس کی سرگرمیوں سے ہٹنے driftingکا لفظ استعمال کیا ، ان کا کہنا درحقیقت مسلم فلسفیوں، سائنسدانوں اور سائنسی فکر رکھنے والے اہل نظرگروہوں سے تھا، جن میں ابن خلدون،ابن رشد، لبیرونی، ابن سینا، کندی، رازی ،غزالی اور فارابی جیسے جید علما اورمحققین شامل تھے، یہ ہستیاں عالم اسلام کی سائنسی فکرکے ہراول دستے کی قافلہ سالار تھیں، انھوں نے تاریک براعظوں میں علم وتحقیق کی شمیں روشن کیں۔