لیکچرارز ترقی کیس وزیر اعلیٰ سندھ حکومت کیخلاف توہین عدالت کارروائی ہوگی ہائیکورٹ
سمری بھیج دی گئی ہے، کابینہ جلد منظوری دے گی،ایڈووکیٹ جنرل، سندھ حکومت کو11 دسمبر تک حتمی مہلت
تاخیری حربے استعمال کیے جارہے ہیں،درخواست گزار، ایشو کابینہ کے اجلا س کے ایجنڈے میں شامل کرائیں، عدالت (فوٹو : فائل)
سندھ ہائیکورٹ نے 10 ہزار لیکچررز کو ٹائم اسکیل اور ترقیاں نہ دینے سے متعلق درخواست پر درخواستگزار کو وزیر اعلی کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کی اجازت دیتے ہوئے سندھ حکومت کو 11 دسمبر تک حتمی مہلت دے دی۔
جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو 10 ہزار لیکچررز کو ٹائم اسکیل اور ترقیاں نہ دینے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے موقف دیا کہ سمری تیار کرکے بھیج دی گئی ہے کابینہ جلد منظوری دیدے گی۔
درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ آج کابینہ اجلاس ہے اور یہ ایشو ایجنڈا میں شامل نہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آج ایجنڈا میں کیوں شامل نہیں کیا گیا جب عدالت حکم دے چکی تھی؟، ایڈئشنل ایڈووکیٹ جنرل نے موقف دیا کہ آئندہ کابینہ اجلاس میں شامل کرلیا جائیگا۔
عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ چاہتے ہیں کہ وزیر اعلی کو نوٹس بھیجیں؟، عدالت نے سرکاری وکیل سے مکالمہ میں کہا کہ یہ آپ کے ملازمین ہیں اور ان کے ساتھ یہ سلوک کررہے ہیں آپ، جسٹس محمد علی مظہر مے ریمارکس دیے کہ ہم وزیر اعلی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کررہے ہیں۔
درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ یہ لوگ تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں تاکہ یہ بینچ ختم ہو جائے، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آپ ایجنڈا میں شامل کرالیں اور عمل درآمد کرائیں، آپ بتا دیں وزیر اعلی کو کہ ان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ہوگی۔
عدالت نے درخواست گزار کو وزیر اعلیٰ کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنیکی اجازت دیدی، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے موقف دیا کہ آپ ایک مہلت دے دیں عمل درآمد کرلینگے، عدالت نے ریمارکس دیے کہ بظاہر دانستہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔
عدالت نے سندھ حکومت کو 11 دسمبر تک حتمی مہلت دے دی، درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا تھا کہ عدالت میں مکمل طور پر غلط بیانی کی جا رہی ہے، 31 سال سے ایک پروموشن نہیں ہوئی، معاملہ کمیٹیاں بنا کر الجھا دیا جاتا ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو 10 ہزار لیکچررز کو ٹائم اسکیل اور ترقیاں نہ دینے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے موقف دیا کہ سمری تیار کرکے بھیج دی گئی ہے کابینہ جلد منظوری دیدے گی۔
درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ آج کابینہ اجلاس ہے اور یہ ایشو ایجنڈا میں شامل نہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آج ایجنڈا میں کیوں شامل نہیں کیا گیا جب عدالت حکم دے چکی تھی؟، ایڈئشنل ایڈووکیٹ جنرل نے موقف دیا کہ آئندہ کابینہ اجلاس میں شامل کرلیا جائیگا۔
عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ چاہتے ہیں کہ وزیر اعلی کو نوٹس بھیجیں؟، عدالت نے سرکاری وکیل سے مکالمہ میں کہا کہ یہ آپ کے ملازمین ہیں اور ان کے ساتھ یہ سلوک کررہے ہیں آپ، جسٹس محمد علی مظہر مے ریمارکس دیے کہ ہم وزیر اعلی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کررہے ہیں۔
درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ یہ لوگ تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں تاکہ یہ بینچ ختم ہو جائے، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آپ ایجنڈا میں شامل کرالیں اور عمل درآمد کرائیں، آپ بتا دیں وزیر اعلی کو کہ ان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ہوگی۔
عدالت نے درخواست گزار کو وزیر اعلیٰ کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنیکی اجازت دیدی، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے موقف دیا کہ آپ ایک مہلت دے دیں عمل درآمد کرلینگے، عدالت نے ریمارکس دیے کہ بظاہر دانستہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔
عدالت نے سندھ حکومت کو 11 دسمبر تک حتمی مہلت دے دی، درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا تھا کہ عدالت میں مکمل طور پر غلط بیانی کی جا رہی ہے، 31 سال سے ایک پروموشن نہیں ہوئی، معاملہ کمیٹیاں بنا کر الجھا دیا جاتا ہے۔