لاپتہ افراد کمیٹی کو خفیہ اداروں کے سربراہوں کی طلبی اور پوچھ گچھ کابھی اختیار
وزیردفاع کی سربراہی میں کمیٹی جاویداقبال کمیشن سے زیادہ بااختیارہوگی، بی بی سی،ایک مغوی بازیاب کرالیا، ایف سی کی رپورٹ
کمیٹی لاپتہ افراد سے متعلق کسی بھی خفیہ ادارے کے سربراہ کوطلب کرنے کی مجاز ہے۔ فوٹو : ایکسپریس/ فائل
TEHRAN:
وزیردفاع خواجہ آصف کی سربراہی میں جبری گمشدگیوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے نوتشکیل کردہ کمیٹی کو خفیہ اداروں کے سربراہوں کوطلب کرنے سمیت لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے وسیع اختیارات حاصل ہوں گے۔
وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی میں سیکریٹری دفاع سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری قانون اور اٹارنی جنرل بھی شامل ہیں اوراس کا نوٹیفکیشن جلد جاری ہونے کا امکان ہے۔ بی بی سی کے مطابق وزارت قانون کے ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ کمیٹی لاپتہ افراد سے متعلق کسی بھی خفیہ ادارے کے سربراہ کوطلب کرنے کی مجاز ہے اور ان سے پوچھ گچھ بھی کرسکتی ہے۔ پیپلزپارٹی کے دور میں جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیاگیا تھا جس کو اگرچہ کسی بھی خفیہ ادارے کے سربراہ کوطلب کرنے کا اختیار توضرور تھا لیکن ان کے کہنے پرکسی بھی خفیہ ادارے کا سربراہ کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوا تاہم ماتحت عملہ پیش ہوتا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق موجودہ کمیٹی کوسابق حکومت کے دور میں بنائے گئے جسٹس جاوید اقبال کمیشن سے زیادہ اختیارات حاصل ہوں گے جبکہ یہ کمیشن کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کرانے کا بھی پابند ہو گا۔
نمائندہ ایکسپریس کے مطابق وفاقی حکومت کے ذمے دار ذرائع یہ امکان ظاہر کر رہے ہیں کہ حکومت عدالتی دبائو سے آزاد رہتے ہوئے ایک بااختیارکمیٹی کے ذریعے لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے میں سنجیدہ ہے، اسی لیے اس کواس حد تک اختیارات دیے جارہے ہیں۔ ادھرکمیشن کے سربراہ جاوید اقبال نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ کمیٹی کی تشکیل سے لاپتہ افراد کا معاملہ جلد حل کرنے میں مدد ملے گی۔کمیشن اور کمیٹی کے ارکان میں روابط بڑھیں گے اور مشترکہ لائحہ عمل اختیارکیا جائے گا۔ اس وقت کمیشن کے پاس800 کے قریب لاپتہ افراد کے مقدمات ہیں اور اْن میں سے300 ایسے مقدمات ہیں جنھیں سپریم کورٹ نے چھان بین کے لیے بھیجا۔ یہ مقدمات صوبائی حکومتوں کی طرف سے نہیں بلکہ غیرسرکاری تنظیموں اور ان افراد کے لواحقین کی طرف سے جمع کرائے گئے شواہد پر مبنی ہیں۔
گزشتہ ڈیڑھ سال میں991 مقدمات کی سماعت کی گئی جبکہ316 افراد کوبازیاب کرایا گیا، اس عرصے کے دوران اسلام آباد سے15 اور پنجاب سے119 افراد بازیاب ہوئے، سندھ سے159 مقدمات موصول ہوئے جن میں23 افراد کو بازیاب کرایا گیا جبکہ23 ایسے مقدمات تھے جو جبری گمشدگی کی کیٹگری میں نہیں آتے۔ سب سے زیادہ428 مقدمات خیبر پختونخوا میں درج کیے گئے جن میں سے123 افراد کو بازیاب کرایا جا چکا ہے۔ سب سے کم مقدمات بلوچستان سے سامنے آئے جن کی تعداد47 ہے، وہاں سے11افراد کو بازیاب کرایا جاچکا ہے۔ وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں سے36 میں سے14اور آزاد کشمیر سے23 افراد میں سے11 افراد بازیاب ہوئے۔ کمیشن کے ہر اجلاس میں خفیہ اداروں کے اہلکار بھی موجود ہوتے تھے۔ دوسری جانب غیرسرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ جبری طور پر گمشدہ ہونے والے سب سے زیادہ افراد کا تعلق بلوچستان سے ہے۔
آئی جی ایف سی بلوچستان میجرجنرل اعجاز شاہد سپریم کورٹ میں پیش ہوگئے جس پران کے کیخلاف توہین عدالت نوٹس واپس لے لیا گیا،سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میںبینچ نے انھیں 5 دسمبرکو نوٹس جاری کیا تھا، میجر جنرل اعجاز شاہد نے جسٹس ناصر الملک اور جسٹس اعجاز افضل پر مشتمل بینچ کو بتایا کہ وہ اسپتال میں زیر علاج تھے۔ جسٹس ناصرالملک نے کہا کہ اس سے پہلے بھی عدالت نے انھیں متعدد بار پیش ہونے کو کہا لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ جسٹس اعجازافضل نے ریمارکس دیے کہ ایف سی کیخلاف لوگوںکواغوا کرنے کے الزامات ہیں، جبری گمشدگیوں کے الزامات کے سدباب کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ میجر جنرل اعجاز شاہد کا کہنا تھا کہ وہ اس داغ کو دھونے کی کوشش کررہے ہیں۔ جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کا تاثر خود ایف سی کو زائل کرنا پڑے گا، اس موقع پر آئی جی کے وکیل عرفان قادر نے بتایا کہ ایک شخص کوہ خان کوکوئٹہ سے بازیاب کرایا گیا ہے، ان کے اغوا کا الزام ایف سی کے6 اہلکاروں پر لگایا گیا تھا جبکہ اسے پولیس نے بازیاب کرایا، ایف سی پر جبری گمشدگیوںکا الزام غلط ہے،کوئی لاپتہ شخص ایف سی کے پاس نہیں،اگر پولیس کام کرے تو باقی افراد بھی بازیاب ہوسکتے ہیں۔
عدالت نے آئی جی کو حکم دیا کہ 2 ہفتوں میں لاپتہ افراد سے متعلق تحریری جواب عدالت میں جمع کرائیں۔ ادھر وزارت داخلہ نے بلوچستان سے لاپتہ افراد کے بارے میں رپورٹ عدالت عظمٰی میں جمع کرا دی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف سی کے وہ 15اہلکار جن پر جبری گمشدگیوں کے الزامات ہیں، ڈی آئی جی سی آئی ڈی کوئٹہ کے سامنے بیان ریکارڈکرانے کیلیے پیش ہونا شروع ہوگئے ہیں، ان اہلکاروںکو بھی تعاون کے لیے لکھ دیا جومتعلقہ اداروں میں واپس جاچکے ہیں، ایف سی لاپتہ افرادکے معاملے پرحقائق سے پردہ اٹھانے کے لیے پرعزم ہے۔
وزیردفاع خواجہ آصف کی سربراہی میں جبری گمشدگیوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے نوتشکیل کردہ کمیٹی کو خفیہ اداروں کے سربراہوں کوطلب کرنے سمیت لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے وسیع اختیارات حاصل ہوں گے۔
وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی میں سیکریٹری دفاع سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری قانون اور اٹارنی جنرل بھی شامل ہیں اوراس کا نوٹیفکیشن جلد جاری ہونے کا امکان ہے۔ بی بی سی کے مطابق وزارت قانون کے ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ کمیٹی لاپتہ افراد سے متعلق کسی بھی خفیہ ادارے کے سربراہ کوطلب کرنے کی مجاز ہے اور ان سے پوچھ گچھ بھی کرسکتی ہے۔ پیپلزپارٹی کے دور میں جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیاگیا تھا جس کو اگرچہ کسی بھی خفیہ ادارے کے سربراہ کوطلب کرنے کا اختیار توضرور تھا لیکن ان کے کہنے پرکسی بھی خفیہ ادارے کا سربراہ کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوا تاہم ماتحت عملہ پیش ہوتا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق موجودہ کمیٹی کوسابق حکومت کے دور میں بنائے گئے جسٹس جاوید اقبال کمیشن سے زیادہ اختیارات حاصل ہوں گے جبکہ یہ کمیشن کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کرانے کا بھی پابند ہو گا۔
نمائندہ ایکسپریس کے مطابق وفاقی حکومت کے ذمے دار ذرائع یہ امکان ظاہر کر رہے ہیں کہ حکومت عدالتی دبائو سے آزاد رہتے ہوئے ایک بااختیارکمیٹی کے ذریعے لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے میں سنجیدہ ہے، اسی لیے اس کواس حد تک اختیارات دیے جارہے ہیں۔ ادھرکمیشن کے سربراہ جاوید اقبال نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ کمیٹی کی تشکیل سے لاپتہ افراد کا معاملہ جلد حل کرنے میں مدد ملے گی۔کمیشن اور کمیٹی کے ارکان میں روابط بڑھیں گے اور مشترکہ لائحہ عمل اختیارکیا جائے گا۔ اس وقت کمیشن کے پاس800 کے قریب لاپتہ افراد کے مقدمات ہیں اور اْن میں سے300 ایسے مقدمات ہیں جنھیں سپریم کورٹ نے چھان بین کے لیے بھیجا۔ یہ مقدمات صوبائی حکومتوں کی طرف سے نہیں بلکہ غیرسرکاری تنظیموں اور ان افراد کے لواحقین کی طرف سے جمع کرائے گئے شواہد پر مبنی ہیں۔
گزشتہ ڈیڑھ سال میں991 مقدمات کی سماعت کی گئی جبکہ316 افراد کوبازیاب کرایا گیا، اس عرصے کے دوران اسلام آباد سے15 اور پنجاب سے119 افراد بازیاب ہوئے، سندھ سے159 مقدمات موصول ہوئے جن میں23 افراد کو بازیاب کرایا گیا جبکہ23 ایسے مقدمات تھے جو جبری گمشدگی کی کیٹگری میں نہیں آتے۔ سب سے زیادہ428 مقدمات خیبر پختونخوا میں درج کیے گئے جن میں سے123 افراد کو بازیاب کرایا جا چکا ہے۔ سب سے کم مقدمات بلوچستان سے سامنے آئے جن کی تعداد47 ہے، وہاں سے11افراد کو بازیاب کرایا جاچکا ہے۔ وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں سے36 میں سے14اور آزاد کشمیر سے23 افراد میں سے11 افراد بازیاب ہوئے۔ کمیشن کے ہر اجلاس میں خفیہ اداروں کے اہلکار بھی موجود ہوتے تھے۔ دوسری جانب غیرسرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ جبری طور پر گمشدہ ہونے والے سب سے زیادہ افراد کا تعلق بلوچستان سے ہے۔
آئی جی ایف سی بلوچستان میجرجنرل اعجاز شاہد سپریم کورٹ میں پیش ہوگئے جس پران کے کیخلاف توہین عدالت نوٹس واپس لے لیا گیا،سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میںبینچ نے انھیں 5 دسمبرکو نوٹس جاری کیا تھا، میجر جنرل اعجاز شاہد نے جسٹس ناصر الملک اور جسٹس اعجاز افضل پر مشتمل بینچ کو بتایا کہ وہ اسپتال میں زیر علاج تھے۔ جسٹس ناصرالملک نے کہا کہ اس سے پہلے بھی عدالت نے انھیں متعدد بار پیش ہونے کو کہا لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ جسٹس اعجازافضل نے ریمارکس دیے کہ ایف سی کیخلاف لوگوںکواغوا کرنے کے الزامات ہیں، جبری گمشدگیوں کے الزامات کے سدباب کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ میجر جنرل اعجاز شاہد کا کہنا تھا کہ وہ اس داغ کو دھونے کی کوشش کررہے ہیں۔ جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کا تاثر خود ایف سی کو زائل کرنا پڑے گا، اس موقع پر آئی جی کے وکیل عرفان قادر نے بتایا کہ ایک شخص کوہ خان کوکوئٹہ سے بازیاب کرایا گیا ہے، ان کے اغوا کا الزام ایف سی کے6 اہلکاروں پر لگایا گیا تھا جبکہ اسے پولیس نے بازیاب کرایا، ایف سی پر جبری گمشدگیوںکا الزام غلط ہے،کوئی لاپتہ شخص ایف سی کے پاس نہیں،اگر پولیس کام کرے تو باقی افراد بھی بازیاب ہوسکتے ہیں۔
عدالت نے آئی جی کو حکم دیا کہ 2 ہفتوں میں لاپتہ افراد سے متعلق تحریری جواب عدالت میں جمع کرائیں۔ ادھر وزارت داخلہ نے بلوچستان سے لاپتہ افراد کے بارے میں رپورٹ عدالت عظمٰی میں جمع کرا دی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف سی کے وہ 15اہلکار جن پر جبری گمشدگیوں کے الزامات ہیں، ڈی آئی جی سی آئی ڈی کوئٹہ کے سامنے بیان ریکارڈکرانے کیلیے پیش ہونا شروع ہوگئے ہیں، ان اہلکاروںکو بھی تعاون کے لیے لکھ دیا جومتعلقہ اداروں میں واپس جاچکے ہیں، ایف سی لاپتہ افرادکے معاملے پرحقائق سے پردہ اٹھانے کے لیے پرعزم ہے۔