بھارتی بوکھلاہٹ امن کے لیے خطرہ

بھارت کو کس بھی مس ایڈونچر سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ پاکستانی فوج اپنے وطن کا دفاع کرنے کا ہنر جانتی ہے۔

بھارت کو کس بھی مس ایڈونچر سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ پاکستانی فوج اپنے وطن کا دفاع کرنے کا ہنر جانتی ہے۔ (فوٹو، فائل)

بھارتی جارحیت کے پیش نظرپاک فوج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، ذرایع کا کہنا ہے کہ بھارت عالمی میڈیا اور اداروں کی تنقید سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک اور فالس فلیگ آپریشن کی کوششوں میں مصروف ہے۔

اس کی وجہ انتہائی سادہ ہے کہ بھارت اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک، کسانوں کے احتجاج، مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑھتے ہوئے مظالم اور اس پر عالمی میڈیا اور اداروں کی تنقید سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سیکیولر بھارت کو اس صورتحال سے دوچار کرنے میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔

انھوں نے ہندوتوا کی بنیاد پر ملک میں نفرت پھیلائی ، اور دوسری بار وزیراعظم منتخب ہونے میں کامیاب ہوگئے، لیکن عالمی سطح پروہ دنیا کی نظروں میں گر چکے ہیں۔ بھارت کو ایک کٹرجنونی ہندو ریاست میں بدلنے کی پالیسی نے اقلیتوں کو سانس لینا بھی دوبھر کردیا گیا ہے، لہٰذا ریاستی سطح پر سازشوں کا سہارا لیا جارہا ہے ، ماہرین اور ذرایع یہ پیشگوئی کررہے ہیں کہ بھارت کسی بھی وقت اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے پلوامہ ڈرامہ کی طرز پر لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر کارروائی کر سکتا ہے۔

پاک فوج مادروطن کے دفاع کے لیے بھرپور طریقے سے تیار اور چوکنا ہے ۔ دوسری جانب پاکستانی قوم بھی جاگ رہی ہے ، وہ کسی بھی طور بھارت کو اپنی ایک انچ زمین میں بھی داخل نہ ہونے دیں گے۔ درحقیقت بھارتی الزامات مقبوضہ کشمیر کی سنگین اور انتہائی تشویشناک صورتحال سے توجہ ہٹانے کی دانستہ کوشش ہے، کسی بھی فالس فلیگ آپریشن میں پاکستان کو بدنام کرنے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی ہے، وجہ صاف ظاہر ہے کہ پاکستان پہلے ہی ناقابل تردید ڈوزیئر جاری کر چکا ہے جو بھارت کے پاکستان میں دہشت گردی کی معاونت کے شواہد پر مبنی ہے۔

پاکستان دشمنی پر مبنی بھارت کی مذموم کوششیں پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہیں، لیکن ڈھٹائی اور بے شرمی کی حد ہے کہ بھارت، پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی مذموم و ناکام کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

کنٹرول لائن پر فائرنگ کے مسلسل واقعات، شہری آبادی کو نشانہ بنانا، سی پیک جیسے بین الاقوامی اہمیت کے حامل منصوبوں کے خلاف سازشیں کرنا، اسی سلسلے کی کڑی ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں روا بھارتی مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹائی جائے اور اس کی آزادی کی آواز کو دبایا جائے۔ اس لیے دنیا اگر جنوبی ایشیا میں امن چاہتی ہے تو بھارت کو لگام دینا ہو گی، سلامتی کونسل فوری بھارت پر پابندیاں لگائے، ایف اے ٹی کی بلیک لسٹ میں ڈالا جائے تاکہ دنیا بھارتی شر سے محفوظ رہے۔

خطے میں جاری پراکسی وار کی صورت حال کو اگر مدنظر رکھا جائے تو دشمن ممالک کے خفیہ ادارے پاکستان کے بارے میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا پالیسی کو جارحانہ انداز میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس پروپیگنڈا حکمت عملی کے لیے بے پناہ فنڈز مخصوص کیے گئے ہیں اوربہت بڑی سرمایہ کاری بھی کی گئی ہے۔

ایک اہم ترین بات یہ ہے کہ بھارت کی جانب سے جعلی خبروں کے ذریعے پاکستان کو بدنام اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ''ای یو کرانیکل ویب سائٹ'' بھارتی پروپیگنڈا مہم میں نیا اضافہ ہے، مذکورہ ویب سائٹ پر شایع ہونے والے بہت سے کالم یورپی قانون سازوں اور صحافیوں کے ناموں سے غلط طور پر منسوب کیے جاتے ہیں، ایسے صحافی جو بظاہر موجود نہیں ہیں۔

پاکستان مخالف مواد کو دوسری ویب سائٹوں سے لے کر اسے بھارت میں دوبارہ شایع کیا جاتا ہے۔ آیئے ! ذرا بھارتی پروپیگنڈے کے اغراض کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان کے خلاف سب سے مہلک اور زہریلا پروپیگنڈا سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے، کیونکہ اول تو اس کی پہنچ اور دسترس ہر عمر کے افراد بالخصوص نوجوانوں تک بذریعہ اسمارٹ فون ہو چکی ہے۔ دوسرا یہ آزادانہ ذریعہ اطلاعات و نشریات ہے کہ جس پر کوئی سنسر شپ نہیں کوئی پابندی نہیں اوراس کے ذریعے چوبیس گھنٹے مسلسل پروپیگنڈا ہو سکتا ہے۔


اور ماضی میں کیا گیا تمام پروپیگنڈا محفوظ بھی رہتا ہے نیز اس وجہ سے بار بار اور ہمیشہ ہر وقت اس پروپیگنڈا کی اثرانگیزی رہتی ہے۔اس مقصد کے لیے سیکڑوں پڑھے لکھے انڈین نوجوانوں کو سوشل میڈیا پروپیگنڈا کی تربیت دے کر ملازمتیں دی گئیں جن کو اردو اور انگلش لکھنے پڑھنے سمجھنے اور سمجھانے پر عبور حاصل ہے۔ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر پروپیگنڈے کی حکمت عملی کی تربیت دینے کے لیے جن اصولوں کومدنظر رکھا گیا ہے۔

ان میں سوشل میڈیا پر مقامی ذات اور قبائلی ناموں سے جعلی آئی ڈیز بنانا، سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کے لیے صفحات اور گروپ بنانا، سوشل میڈیا پر ٹارگٹ بنائے گئے لوگوں کے لیے اشتہارات بنانا، سوشل میڈیا پر سنسنی خیز مواد لکھوا کر پروپیگنڈا کرنا، پروپیگنڈے میں تیزی کے لیے تصاویر اور ویڈیوز کو گرافکس کی مدد سے بڑھاچڑھا کر سوشل میڈیا پر پیش کرنا، پوری حکمت عملی کو اپ ڈیٹ پالیسی کے مطابق نئی شکل دینا اور ہدف بنائی گئی نوجوان نسل سے براہِ راست بات چیت کرنا کہ وہ پروپیگنڈا مہم کو ایک عظیم مقصد سمجھ کر اس کا حصہ بنیں، شامل ہیں۔

لہٰذا ہمیں بھارتی سوشل میڈیا کے توڑ کے لیے ایک قومی پالیسی ترتیب دینا ہوگی اور اپنی نوجوان نسل کو آگاہ کرنا ہوگا کہ وہ کس طرح اس منفی پروپیگنڈے سے بچ سکتے ہیں۔ای یو ڈس انفو لیب کی تحقیق کے مطابق بھارت 15سال سے یورپی یونین اور اقوام متحدہ کو غلط مواد کی تشہیر کے ذریعے گمراہ کر رہا ہے۔ ابھی اقوام عالم کو بھارت کے اس منفی پروپیگنڈے سے بچانے کے لیے آئی ٹی کے میدان آنا ہوگا اور بھرپور مقابلہ کرنا ہوگا، اسی میں ہمارے بچاؤ اورتحفظ کا راز پنہاں ہے۔

بھارت میں جنگی جنون کو پروان چڑھانے میں برسراقتدارمتعصب جماعت کا بہت بڑا ہاتھ ہے،اس بات کو بطور دلیل پیش کرنے کی وجہ یہ خبر بنی ہے جس کے مطابق بھارت نے ایک سال میں امریکا سے 3.4 ارب ڈالر کا اسلحہ خرید ا اور اتنی بڑی خریداری صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکمرانی کے آخری سال 2020 میں کی گئی۔

یادش بخیر!نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا تھاکہ اگر نریندر مودی وزیر اعظم بن گیا تو ہندوستان کے ٹکڑے ٹکرے ہوجائینگے اور وہ ٹکڑے ہمیں درختوں پر لٹکتے نظر آئیں گے۔ان کی یہ پیشگوئی مودی سرکاری کی اختیار کردہ پالیسیوں کے مطابق پوری ہوتی نظر آرہی ہے ۔ بھارت نے مظلوم کشمیریوں کو دبانے اور پاکستان کو آنکھیں دکھانے کے لیے 5 اگست 2019کو جس غنڈہ گردی اور بدمعاشی کا مظاہرہ کیا تھا، وہ اسے بہت مہنگی پڑ چکی ہے۔

' ''گھر میں گھس کر ماریں گے'' کے دعوے کرنے والے اپنے گھر میں بدترین رسوائی کاشکار ہیں، بی جے پی کے وزراء کی گیدڑ بھبکیوں، بالی ووڈ کی معجون اور سوشل میڈیا پر چین کو دھمکیوں کے پیچھے چھپنے کی ناکام کوشش 'کھسیانی بلی کھمبا نوچے' کی تصویر بن چکے ہیں۔ چین نے بھارت کو دن میں تارے دکھادیے ہیں، بھارتی فوج ناقابل تسخیر ہے کیونکہ لداخ اور وادی گلوان، پینگانگ جھیل اور دیگر متصل علاقوں میں بھارتی فوج کی جو درگت بن چکی ہے، اس نے یہ تاثر بھاپ کی طرح اڑا دیا ہے۔

لداخ کی تاریخی حیثیت بحال کرنے میں ہی بھارت کی بچت کی راہ ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر کی متنازعہ اور خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو اپنے آئین میں دوبارہ بحال کرنا ہی بھارت کے لیے راہ نجات ہوگی۔ بھارتی انتہاء پسند ٹولے کو عوام میں جنگی جنون پیدا کرنے کی حرکات بند کرنے اور بالی ووڈ کی فلموں میں یہ تاثر بند کرنے سے ہی بھارت امن کی طرف واپس لوٹ سکتا ہے کہ درحقیقت بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں جہاں دفعہ 370کا خاتمہ کرکے ریاست جموں وکشمیر کے عوام کے ساتھ اعلانِ جنگ کیا ہے وہیں اس فرقہ پرست جماعت نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر اور پورے ملک میں یکساں سول کوڈ لاگو کرنے کے مذموم عزائم ظاہر کردیے ہیں۔

مودی اپنے ہی چنگل میں اس بری طرح پھنس چکا ہے کہ اگر وہ سی پیک روکنا چاہتا ہے تو جنگ ناگزیر ہے یہ بھاری پتھر اٹھانے کی بھارت سرکار میں سکت نہیں ہے۔ چین کے صد عزم صمیم کی علامت ہیں۔ چین نے سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے پر ارب ہا ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ اس سرمایہ کاری کو بچانے کے لیے وہ بھارتی جارحیت کے خلاف جنگ پر 100 ارب مزید خرچ کردیں گے، لیکن اس کے نتیجے میں بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گی۔

اب خود بھارت کے لیے تجویز کیاجارہا ہے کہ مودی، روس کے ذریعے سی پیک کا حصہ بن جائے کیونکہ یہ بات طے ہے کہ کوئی امریکی ہتھیار چینی برتری سے بھارت کو نہیں بچا سکتا۔ ہمارے وزیراعظم عمران خان بھی یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ بھارت تباہی کے راستے پر گامزن ہے اور اگر بھارت فسطائیت اورانتہا پسند ہندو تو ا کے راستے پر ہی گامزن رہا تو ہمیشہ کے لیے تقسیم ہوجائے گا اور اس کے ٹکڑے ہوجائیں گے۔

حرف آخر بھارت کو کس بھی مس ایڈونچر سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ پاکستانی فوج اپنے وطن کا دفاع کرنے کا ہنر جانتی ہے ، بھارت کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی اندرونی مسائل کے حل کے لیے بہتر تدبیر کرے ،اقلیتوں کے ساتھ بہتر سلوک کرے اور کشمیریوں کا حق خود ارادیت دے ورنہ بھارت کو لخت لخت ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں بچا سکتی۔ یہ نوشتہ دیوار ہے، اگر مود ی اس کو پڑھ لیں تو ان کے اور بھارت کے حق میں بہتر ہے۔
Load Next Story