ڈرگ کورٹ حکم عدولی پر ڈی ایس پی کی گرفتار ی کا حکم
6 برس گزر جانے کے باوجود پولیس افسر نے شوکاز نوٹس کا جواب دیا اور نہ ہی کورٹ میں پیش ہوئے
جعلی ادویات کیس میں ملزمان کا اعتراف جرم ، جرمانے کی ادائیگی پر رہا کردیاگیا۔ فوٹو: فائل
ڈرگ کورٹ کے چیئرمین ساتھی محمد اسحاق ممبران ڈاکٹر جاوید بخاری اور ڈاکٹر نگہت قادری نے عدالتی حکم عدولی پر ڈی ایس پی جاوید عباس کی گرفتاری کیلیے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کو احکامات جاری کردیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق 21جنوری 2006 کو تھانہ خواجہ اجمیر نگری نے اس وقت کے ٹائون افسر ( ٹی پی او ) کی سربراہی میں نیوکراچی میں واقع میڈیکل اسٹور پر چھاپہ مارا تھا اور اسٹور مالک شاہد عاشقین کو ممنوعہ ادویہ بلالائسنس فروخت کرنے کے الزام میں گرفتاراور ادویہ کی بھاری مقدار کی تھی، ملزم نے ضمانت کرالی تھی، عدالت نے گواہی کیلیے مذکورہ پولیس افسر کو متعدد بار طلب کیا ،شوکاز نوٹس اور قابل ضمانت وارنٹ بھی جاری کیے،تاہم 6 برس گزر جانے کے باوجود پولیس افسر نے شوکاز نوٹس کا جواب دیا اور نہ ہی کورٹ میں پیش ہوئے اور مسلسل احکامات کو نظرانداز کررہا تھا، عدالت نے ایڈیشنل آئی جی سندھ کے توسط سے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرتے ہوئے فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔
دریں اثنا اسی عدالت نے حیدر آباد کی مقامی دواساز کمپنی کے ایم ڈی امتیاز احمد ، پروڈکشن افسر حیدر زمان اور کوالٹی کنٹرل افسر مسماۃ نجمہ پروین پر فرد جرم عائد کی تھی تاہم ملزمان نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ملزمان کے جرم کے اعتراف پر عدالت برخاست ہونے تک حراست میں رکھنے کا حکم دیا تھا اور ایک لاکھ 75ہزار روپے جرمانہ عائد کیا تھا، جرمانے کی عدم ادائیگی پر انھیں 6ماہ قید کی سزا سنائی تھی جرمانے کی رقم ادا کرنے پر انھیں رہا کردیا گیا ، علاوہ ازیں ممنوعہ ادویہ فروخت کرنے کے الزام میں ملوث محمد حسین،اقبال کے مقدمے میں ڈرگ انسپکٹر احمد علی ساتھیو کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر چیف ڈرگ انسپکٹر کے توسط سے شوکاز نوٹس جاری کیا ہے اور جواب 27ستمبر کو جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق 21جنوری 2006 کو تھانہ خواجہ اجمیر نگری نے اس وقت کے ٹائون افسر ( ٹی پی او ) کی سربراہی میں نیوکراچی میں واقع میڈیکل اسٹور پر چھاپہ مارا تھا اور اسٹور مالک شاہد عاشقین کو ممنوعہ ادویہ بلالائسنس فروخت کرنے کے الزام میں گرفتاراور ادویہ کی بھاری مقدار کی تھی، ملزم نے ضمانت کرالی تھی، عدالت نے گواہی کیلیے مذکورہ پولیس افسر کو متعدد بار طلب کیا ،شوکاز نوٹس اور قابل ضمانت وارنٹ بھی جاری کیے،تاہم 6 برس گزر جانے کے باوجود پولیس افسر نے شوکاز نوٹس کا جواب دیا اور نہ ہی کورٹ میں پیش ہوئے اور مسلسل احکامات کو نظرانداز کررہا تھا، عدالت نے ایڈیشنل آئی جی سندھ کے توسط سے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرتے ہوئے فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔
دریں اثنا اسی عدالت نے حیدر آباد کی مقامی دواساز کمپنی کے ایم ڈی امتیاز احمد ، پروڈکشن افسر حیدر زمان اور کوالٹی کنٹرل افسر مسماۃ نجمہ پروین پر فرد جرم عائد کی تھی تاہم ملزمان نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ملزمان کے جرم کے اعتراف پر عدالت برخاست ہونے تک حراست میں رکھنے کا حکم دیا تھا اور ایک لاکھ 75ہزار روپے جرمانہ عائد کیا تھا، جرمانے کی عدم ادائیگی پر انھیں 6ماہ قید کی سزا سنائی تھی جرمانے کی رقم ادا کرنے پر انھیں رہا کردیا گیا ، علاوہ ازیں ممنوعہ ادویہ فروخت کرنے کے الزام میں ملوث محمد حسین،اقبال کے مقدمے میں ڈرگ انسپکٹر احمد علی ساتھیو کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر چیف ڈرگ انسپکٹر کے توسط سے شوکاز نوٹس جاری کیا ہے اور جواب 27ستمبر کو جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔