ایف بی آرکا گاڑیوں کا سینٹرل ڈیٹا بینک قائم کرنے کا فیصلہ
کسٹمزبنائے گا،گاڑی مالکان،آٹومینوفیکچررزکی فروخت جاننے،ٹیکس وصولی میں مددملے گی.
کسٹمزبنائے گا،گاڑی مالکان،آٹومینوفیکچررزکی فروخت جاننے،ٹیکس وصولی میں مددملے گی.فوٹو: فائل
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے مقامی سطح پر تیار ہونے والی اور درآمدی گاڑیوں کی رجسٹریشن و شناخت کے لیے2 سال کے دوران گاڑیوں کا سینٹرل ڈیٹا بیس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق یہ درآمدی اور لوکل گاڑیوں کا سینٹرل ڈیٹا بیس ایف بی آر کا ماتحت ادارہ پاکستان کسٹمز قائم کریگا، اس کے علاوہ اسمگل شدہ اور جعلی رجسٹریشن کی حامل گاڑیوں کا پتا چلانے کیلیے کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ کی طرح ملتان، فیصل آباد، ڈیرہ غازی خان اور گوجرانوالہ سمیت ملک کے مزید 12 بڑے اضلاع اور شہروں میں جدید ٹیکنالوجی کی حامل فرانزک لیبارٹریاں بھی قائم کی جائیں گی، یہ لیبارٹریاں وزارت داخلہ اورصوبائی ہوم ڈپارٹمنٹس کے تعاون سے قائم کی جائیں گی۔
فرانزک لیبارٹریاں ملتان، فیصل آباد، ڈیرہ غازی خان، گوجرانوالہ، بنوں، مردان، ایبٹ آباد، سکھر، گوادر، گڈانی، تربت اور لورالائی میں قائم کی جائیں گی جبکہ گاڑیوں کے ڈیٹا بینک تک تمام صوبائی موٹر رجسٹریشن اتھارٹیز کو رسائی دی جائیگی، اس سینٹرل ڈیٹا بینک کی مدد سے نئی گاڑیاں خریدنے والے لوگوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل ہو سکیں گی، اس کے ساتھ مقامی سطح پر گاڑیاں بنانے والے آٹومینوفیکچررز کی مانیٹرنگ میں بھی مدد ملے گی اور ان کی اصل فروخت کا پتا چلایا جاسکے گا اور آٹومینوفیکچررز سے انکی صلاحیت کے مطابق ٹیکس وصولی ممکن ہوسکے گی۔ دستاویز میںبتایا گیاکہ اس سینٹرل ڈیٹا بینک کی مدد سے ملک میں اسمگل شدہ گاڑیوں کی رجسٹریشن ہوسکے گی نہ مختلف موٹر وہیکل رجسٹریشن اتھارٹیز میں گاڑیوں کی رجسٹریشن نمبرزکی ڈوپلیکیشن ہو سکے گی۔
اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق یہ درآمدی اور لوکل گاڑیوں کا سینٹرل ڈیٹا بیس ایف بی آر کا ماتحت ادارہ پاکستان کسٹمز قائم کریگا، اس کے علاوہ اسمگل شدہ اور جعلی رجسٹریشن کی حامل گاڑیوں کا پتا چلانے کیلیے کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ کی طرح ملتان، فیصل آباد، ڈیرہ غازی خان اور گوجرانوالہ سمیت ملک کے مزید 12 بڑے اضلاع اور شہروں میں جدید ٹیکنالوجی کی حامل فرانزک لیبارٹریاں بھی قائم کی جائیں گی، یہ لیبارٹریاں وزارت داخلہ اورصوبائی ہوم ڈپارٹمنٹس کے تعاون سے قائم کی جائیں گی۔
فرانزک لیبارٹریاں ملتان، فیصل آباد، ڈیرہ غازی خان، گوجرانوالہ، بنوں، مردان، ایبٹ آباد، سکھر، گوادر، گڈانی، تربت اور لورالائی میں قائم کی جائیں گی جبکہ گاڑیوں کے ڈیٹا بینک تک تمام صوبائی موٹر رجسٹریشن اتھارٹیز کو رسائی دی جائیگی، اس سینٹرل ڈیٹا بینک کی مدد سے نئی گاڑیاں خریدنے والے لوگوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل ہو سکیں گی، اس کے ساتھ مقامی سطح پر گاڑیاں بنانے والے آٹومینوفیکچررز کی مانیٹرنگ میں بھی مدد ملے گی اور ان کی اصل فروخت کا پتا چلایا جاسکے گا اور آٹومینوفیکچررز سے انکی صلاحیت کے مطابق ٹیکس وصولی ممکن ہوسکے گی۔ دستاویز میںبتایا گیاکہ اس سینٹرل ڈیٹا بینک کی مدد سے ملک میں اسمگل شدہ گاڑیوں کی رجسٹریشن ہوسکے گی نہ مختلف موٹر وہیکل رجسٹریشن اتھارٹیز میں گاڑیوں کی رجسٹریشن نمبرزکی ڈوپلیکیشن ہو سکے گی۔